نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںصورت مسئولہ میں چونکہ یہ کٹوتی کبھی کبھار ملازم کے اپنے اختیار سے ہوتی ہے تو پھر اس پر ملنے والے منافع میں چونکہ شبہ ربوا ہے اس لئے اس سے اجتناب بہتر ہے ، عام طور پر یہ کٹوتی حکومت کی طرف سے جبرا ہوتی ہے تو پھر جی پی فنڈ پر ملنے والے منافع سود نہیں بلکہ اجرت کا جزومؤجل ہے، لہذا اس منافع کا لینا جائز ہے ؛کیونکہ سود دو آدمیوں کے مابین عقد ہوتا ہے جبکہ دونوں طرف سے مال ہو اور ان کا مملوک ہو، حالانکہ مذکورہ مسئلہ میں ملازم کی تنخواں سے جو رقم کٹتی ہے وہ ملازم کی ملک نہیں ہوتی، ایسی رقم کیساتھ حکومت کا معاملہ یکطرفہ ہے ۔
كما في ردالمحتار علي الدرالمختار :
(وَ) اعْلَمْ أَنَّ (الْأَجْرَ لَا يَلْزَمُ بِالْعَقْدِ فَلَا يَجِبُ تَسْلِيمُهُ) بِهِ (بَلْ بِتَعْجِيلِهِ أَوْ شَرْطِهِ فِي الْإِجَارَةِ) الْمُنَجَّزَةِ، أَمَّا الْمُضَافَةُ فَلَا تُمْلَكُ فِيهَا الْأُجْرَةُ بِشَرْطِ التَّعْجِيلِ إجْمَاعًا.
(قَوْلُهُ لَا يَلْزَمُ بِالْعَقْدِ) أَيْ لَا يَمْلِكُ بِهِ كَمَا عَبَّرَ فِي الْكَنْزِ؛ لِأَنَّ الْعَقْدَ وَقَعَ عَلَى الْمَنْفَعَةِ وَهِيَ تَحْدُثُ شَيْئًا فَشَيْئًا وَشَأْنُ الْبَدَلِ أَنْ يَكُونَ مُقَابِلًا لِلْمُبْدَلِ، وَحَيْثُ لَا يُمْكِنُ اسْتِيفَاؤُهَا حَالًا لَا يَلْزَمُ بَدَلُهَا حَالًا إلَّا إذَا شَرَطَهُ وَلَوْ حُكْمًا بِأَنْ عَجَّلَهُ؛ لِأَنَّهُ صَارَ مُلْتَزِمًا لَهُ بِنَفْسِهِ حِينَئِذٍ وَأَبْطَلَ الْمُسَاوَاةَ الَّتِي اقْتَضَاهَا الْعَقْدُ فَصَح
(كتاب الإجارة،ج9،ص17،ط:مكتبة رحمانية)
وفي البحر الرائق :
والاجرة لا تملك بالعقد بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن .
قوله:(بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن منه) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة .
(كتاب الإجارة،ج7،ص511،ط:ألمكتبة الوحيدية)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔