سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-750 Fatwa no: 1448-750

اقامت کے کلمات کے آخر میں وقف کرنا افضل ہے یا حرکات کے ساتھ وصل کرنا؟

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کی بارے میں: کہ اقامت میں کلمات کے آخر میں وقف کرنا چاہیئے یا ملا کر کلمے کی حرکت کے ساتھ پڑھنا چاہیئے جیسے "اللہ اکبر"صحیح طریقہ کی شرعی رہنمائ فرما کر ممنون فرمائیں۔
جواب :

واضح رہے کہ اقامت میں "اللہ اکبر اللہ اکبر " کے پہلے کلمے  کی"  راء "کو  دو طرح پڑھنا درست ہے
(1)وقف کرنا جیسے "اللہْ اکبَرْ ا      للہْ اکبَرْ    "
(2)مابعد کلمے کےساتھ ملا کر فتحہ (راء کے زبر کے ساتھ)پڑھناجیسے"اللہ ْاکبرَ الله اکبَرْ"               
  اس کے علاوہ  اقامت کے باقی تمام کلمات کے آخر کو وقف کے ساتھ جلدی جلدی                             يعني حدر كے ساتھ پڑھنا سنت ہے۔ 
کما في الدر المختار مع في رد المختار:
   وَيَجْزِمُ الرَّاءَ أَيْ يُسَكِّنُهَا فِي التَّكْبِيرِ قَالَ الزَّيْلَعِيُّ: يَعْنِي عَلَى الْوَقْفِ، لَكِنْ فِي الْأَذَانِ حَقِيقَةً، وَفِي الْإِقَامَةِ يَنْوِي الْوَقْفَ اهـ أَيْ لِلْحَدْرِ۔۔۔۔۔۔قُلْت: وَالْحَاصِلُ أَنَّ التَّكْبِيرَةَ الثَّانِيَةَ فِي الْأَذَانِ سَاكِنَةُ الرَّاءِ لِلْوَقْفِ وَرَفْعُهَا خَطَأٌ۔۔۔۔۔وَحَاصِلُهَا أَنَّ السُّنَّةَ أَنْ يُسَكِّنَ الرَّاءَ مِنْ " اللَّهُ أَكْبَرُ " الْأَوَّلِ أَوْ يَصِلَهَا بِ " اللَّهُ أَكْبَرُ " الثَّانِيَةِ، فَإِنْ سَكَّنَهَا كَفَى وَإِنْ وَصَلَهَا نَوَى السُّكُونَ فَحَرَّكَ الرَّاءَ بِالْفَتْحَةِ، فَإِنْ ضَمَّهَا خَالَفَ السُّنَّةَ۔۔۔۔الخ
(باب الأذان،ج:1،ص:386،ط:دار الفكر بيروت)
وفي المبسوط للسرخسي:
(وَيَحْذِفُ التَّكْبِيرَ حَذْفًا وَلَا يُطَوِّلُهُ) لِحَدِيثِ إبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ مَوْقُوفًا وَمَرْفُوعًا: «الْأَذَانُ جَزْمٌ وَالْإِقَامَةُ جَزْمٌ وَالتَّكْبِيرُ جَزْمٌ»۔۔۔۔الخ
(كيفية الدخول في الصلاة،ج:1،ص:23،ط:دار المعرفة بيروت)
وفي فيض الباري علي صحيح البخاري:
"تصديق من أَخْبَر بفتح راء الله أكبر". خلاصة ما ذكره فيها: أن السُّنة أن يُسَكن الراء أو يصِلَها، فإن سكنها كفى ذلك، وإن وَصَلها نَوَى السكون فحرَّك الراء بالفتحة، فلتُرَاجَع. فإن قلتَ: لِمَا اخترتِ الفتح، فما معنى الحديث المشهور: الأذان جَزمٌ ...
(ترجيع الأذان وإفراد الإذان،ج:2،ص:205،ط: دار الكتب العلمية بيروت لبنان)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026