سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-751 Fatwa no: 1448-751

اذان کے کلمات میں تجویدی و تلفظی غلطیوں کا حکم اور ایسے مؤذن کی اذان کی شرعی حیثیت

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اذان کے کلمات اگر پڑھا جائے مثلاً(ح) کو (ھ)،(محمد) کو(مھمد)،(حی)کو(ھی) (ف)کو(پ) اور جو لفظ لمبا نہ ہومثلاً(اشھد)کو(اشھاد) پڑھنا۔کیا ا س طرح اذان دینا درست ہے یہ اذان روزانہ ایک مسجد میں دی جاتی ہے مؤذن ٹھیک کرنے کی کوشش بھی نہیں کرتااور مسجد کی انتظامیہ نے اس کو مستقل مؤذن بھی نہیں بنایا،اسکا کیا حکم ہے آیا اذان دے سکتا ہے یا نہیں؟
جواب :

اگر کوئی ایسا شخص اذان دے جو تجویدی غلطیاں  کرتا ہو لیکن اس سے معنی  تبدیل نہ ہوتا ہوتو ایسے شخص کا اذان دینا مکروہ ہے،اس کوچاہئے کہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کرے  ۔
صور ت مسئولہ میں (ح) کو (ھ)،(محمد) کو(مھمد)،(حی)کو(ھی) ،(ف)کو(پ)  اور(اشھد)کو(اشھاد) پڑھنا ایسی غلطی نہیں ہے جو معنی میں  بگاڑ  پیدا کر ے اس لئے اذان تو ہوجائے گی ،لیکن مؤذن کے ذمہ غلطیوں کی اصلاح کرنا ضروری ہے ۔
كما في الفِقْهُ الإسلاميُّ وأدلَّتُهُ:
يكره التلحين وهو التطريب أو التغني أو التمديد الذي يؤدي إلى تغيير كلمات الأذان، أو الزيادة والنقص فيها....الخ
(مكروهات الأذان،ج:1،ص:709،ط: دار الفكر)
و في مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر:
(يُكْرَهُ (التَّلْحِينُ) وَالْمُرَادُ بِهِ التَّطْرِيبُ يُقَالُ: لَحَّنَ فِي قِرَاءَتِهِ إذَا طَرِبَ بِهَا أَيْ يُكْرَهُ تَغْيِيرُ الْكَلِمَةِ عَنْ وَضْعِهَا بِزِيَادَةِ حَرْفٍ أَوْ حَرَكَةٍ أَوْ مَدٍّ أَوْ غَيْرِهَا سَوَاءٌ فِي الْأَوَائِلِ أَوْ فِي الْأَوَاخِرِ وَكَذَلِكَ فِي قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ...الخ
(صِفَةُ الْأَذَانِ،ج:1،ص:76،ط:دار إحياء التراث العربي)
و في البناية شرح الهداية:
إنما يكره التلحين في الثناء دون الدعاء والفلاح، وإذا كره التلحين في الأذان ففي قراءة القرآن أولى أن يترتب بين كلمات الأذان والإقامة حتى لو قدم البعض على البعض يعيد...الخ
(باب الأذان،ج:2،ص:2،ط: دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026