سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-755 Fatwa no: 1448-755

آفاقی شخص کا بغیر احرام کے میقات سےگزرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک شخص عمرے پرجانا چاہتا ہے اور وہ یہ سوچتا ہے کہ سفر کی تھکاوٹ ہوگی اس لئے ابھی عمرہ کی نیت نہیں کرتا اور احرام بھی نہیں باندھتا،ادھر پہنچ کر ہوٹل میں آرام کروں گا اور تھکاوٹ ختم ہوجانے کے بعد مسجد عائشہ سے عمرہ کی نیت کرکے احرام باندھ لوں گا،اس طرح سفر شروع کرلیتا ہے تو کیا اس طرح جہاز میں میقات بغیراحرام کےگزرنے کی وجہ سے مذکورہ شخص پر عمرہ اور دم لازم ہوگا یا نہیں؟ نیز اگر بندہ کسی دوسرے ملک اپنے کام سے جارہا ہو اور جہاز کچھ دیر کے لئے جدہ ایئرپورٹ پر رکتا ہو تو اس صورت میں عمرہ اور احرام کا کیا حکم ہے ؟جبکہ اس کی نیت عمرے کی نہ ہو
جواب :

واضح رہے کہ جو شخص حرم جانے کی نیت سے میقات سے گزرہا ہو تو اس پر احرام باندھنا اوراسی احرام سے عمرہ کرنا ضروری ہے،بصورت دیگر اس پر ایک دم لازم آئےگا، البتہ   بغیر احرام کےمیقات سے گزرنے کی صورت میں دوبارہ میقات سے احرام  باندھ کر عمرہ کرنے سے دم ساقط ہوجائے گا۔ بصورت مسئولہ شخص مذکور کا میقات سے بغیر احرام کےگزرنے کی وجہ سے ایک دم لازم آئے گا،البتہ اگر شخص مذکور  اپنے میقات(یعنی یلملم) کی طرف لوٹ کر احرام باندھ کر عمرہ ادا کرنے سے دم ساقط ہوجائے گا،لیکن اگر وہ میقات پر واپس نہیں جاتا بلکہ  مسجد عائشہ سے احرام باندھتا ہے تو اس  صورت میں اس پر دم لازم ہوگا۔
 نیز جو شخص کسی دوسرے ملک اپنے کام سے جارہا ہو اور اس کا حرم میں جانے کا کوئی ارادہ نہ ہو توصرف جہاز کا جدہ ائیرپورٹ پرکچھ دیر رکنے کی وجہ سے اس شخص پر احرام باندھنا اور عمرہ ادا کرنا لازم نہیں ۔
الفتاوي الهندية:
إذا دخل الآفاقي مكة بغير إحرام وهو لا يريد الحج والعمرة فعليه لدخول مكة إما حجة أو عمرة فإن أحرم بالحج أو العمرة من غير أن يرجع إلى الميقات؛ فعليه دم لترك حق الميقات وإن عاد إلى الميقات وأحرم فهذا على وجهين فإن أحرم بحجة أو عمرة عما لزمه خرج عن العهدة...الخ
(الباب العاشر في مجاوزة الميقات بغير إحرام،۱/۲۵۳،دارالفكر)
رد المحتار على الدر المختار:
والآفاقي إنما يحرم من الميقات أو قبله، ولا تحل مجاوزته بغير إحرام؛ حتى لو جاوزه ثم أحرم لزمه دم ما لم يعد إليه محرما كما سيأتي في باب مجاوزة الميقات بغير إحرام .
(باب القران،۲/۵۳۱،دارالفکر)
العناية شرح الهداية:
وَفَائِدَةُ التَّأْقِيتِ الْمَنْعُ عَنْ تَأْخِيرِ الْإِحْرَامِ عَنْهَا، لِأَنَّهُ يَجُوزُ التَّقْدِيمُ عَلَيْهَا بِالِاتِّفَاقِ، ثُمَّ الْآفَاقِيُّ إذَا انْتهَى إلَيْهَا عَلَى قَصْدِ دُخُولِ مَكَّةَ عَلَيْهِ أَنْ يُحْرِمَ قَصَدَ الْحَجَّ أَوْ الْعُمْرَةَ أَوْ لَمْ يقْصِدْ عِنْدَنَا لِقَوْلِهِ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «لَا يُجَاوِزُ أَحَدٌ الْمِيقَاتَ إلَّا مُحْرِمًا»
وَقوْلُهُ (وَفَائِدَةُ التَّأْقِيتِ) وَاضِحٌ. وَقوْلُهُ (عَلَى قَصْدِ دُخُولِ مَكَّةَ) قيَّدَهُ بِذَلِكَ لِأَنَّهُ لَوْ لَمْ يَقْصِدْ ذَلِكَ لَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يُحْرِمَ.
‬(۲/۴۲۵،ط:دارالفكر)

 

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026