سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-756 Fatwa no: 1448-756

" اگر تم کمرے سے باہر گئی تو تمہیں تین طلاقیں ہوں گی" کہنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ہم مشترکہ فیملی کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتے ہیں کچھ عرصہ پہلے میرے چھوٹے بھائی سے میرا جھگڑا ہوا جس کی وجہ سے میں نے اس کا کیبل کا کنکشن اتار دیا تھا میرے والد صاحب نے ان کو کنکشن واپس لگا دیا اس بات کی خبر میری بیوی کو ہو ئی اس نے مجھے فون کرکے بتایامیں اس وقت اپنے کام پر تھا میں نے اسے کہا کہ گھر آکر بات کروں گا،رات کو جب گھر آیا تو میری بیوی اور بچوں نے سارہ معاملہ مجھے بتایامیں نے کہا کہ میں تھوڑی دیر تک جا کر بات کرتا ہوں مجھے کھانا کھانے دو، اس دوران ہمارے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ،اور میری بیوی نے مجھ سےکہا کہ جا کر اپنے والدین سے کیبل لگانے کا پوچھواس کے بار بار اصرار پر میں نے غصے سے کہا جا کرخود بات کرلو ۔پھر تھوڑی دیر ہماری(میاں بیوی۔ کی) تلخ کلامی چلتی رہی اسی دوران وہ اٹھی میرے والدین سے بات کرنے کیلئے میں نے انہیں واپس بٹھایا اور خبردار کیا اور والدین کے پاس جانے سے منع کیا۔ تب غصے میں میری بیوی نے کہا کہ میں خود جا کر تمہارے والدین سے اس کاجواب لیتی ہوں۔اس و جہ سے میں نےاس کوروکنے کےلئے دھمکی دی کہ "اگر تم کمرے سے گئی تو تین طلاقیں ہو ں گی "یہ میری شرط ہے ۔میرے یہ الفاظ سن کر وہ واپس بیٹھ گئی کیونکہ وہ ڈر گئی تھی کہ طلاق ہو جائے گی۔"(وہ اس بات کی تصدیق بھی کر چکی ہیں)"۔ اور واپس بیٹھنے کے بعد ہماری پھر سے لڑائی شروع ہو گئی جو کہ کم و بیش 8 سے 10 منٹ تک جاری رہی پھر میں نے اپنے بیٹےسےکہا کو جو کہ پاس کھڑا تھا جاؤ سب کا کنکشن کاٹ دو ،وہ کنکشن کاٹنے چلا گیا ۔اس نے کنکشن اتارنے شروع کیے تھےکہ میری بیوی نے یہ کہتے ہوئے اٹھی کہ اس معاملے میں بچوں کو کیوں گھسیٹ رہے ہو میں خود اتارتی ہوں تب میں نے کہا "جاؤ جاؤ تم کیبل کی تار اتارنا چاہتی ہو تم یہ شوق پورا کر لو "۔اس کے بعد وہ کنکشن اتارنے کے لئے کمرے سے باہر گئی ،کنکشن اتارتے ہوے میرے والدین کے ساتھ جو نیچے والے پورشن میں رہتے ہیں اوپر سے ہی ان کی آپس میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ اب میرا سوال ہے کہ میری بیوی کو کمرے سے باہر نکلنے کی وجہ سے طلاق ہو گئی ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں ۔
جواب :

صورت مسئولہ میں اگر آپ کی  نیت یہ  تھی اگر تم ابھی کمرے سے نکلی تو تمہیں تین طلاقیں ہیں  تو بعد میں نکلنے کی وجہ سے آپ کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی آپ کا نکاح باقی ہے ، لہذا آپ دونوں بدستو رمیاں بیوی کی حیثیث سے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں ، البتہ آپ  کی بیوی کو چاہئے کہ اپنے ساس ،سسر کے ساتھ  نرمی ،ادب اور خوش اخلاقی سے پیش آئے،بے ادبی اور لڑائی جھگڑے سے اجتناب کرے  ۔
اور اگر آپ کی نیت یہ تھی کہ جب بھی تم  کمرے سے نکلو گی تو تمہیں تین طلاقیں ہیں تو اس صورت میں آپ کی بیوی  پرکمرے سے نکلتے ہی تین  طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ،جس کے بعد نہ رجوع ہوسکتا ہے  اور نہ ہی دونوں کا میاں بیوی کے حیثیت سے ایک ساتھ  رہناجائز نہیں، سوائے اس کے کہ عورت اس خاوند کی عدت گزارنے کے بعد کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اس سے ازدواجی تعلق قائم ہوجائے اور پھر وہ خاوند طلاق دیدے یا فوت ہوجائے ،تو پھر عدت گزارے کے بعد عورت پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے ، بصورت دیگر نہیں۔
كما في رد المحتار على الدر المختار:
(وشرط للحنث في) قوله (إن خرجت مثلا) فأنت طالق أو إن ضربت عبدك فعبدي حر (لمريد الخروج) والضرب (فعله فورا) لأن قصده المنع عن ذلك الفعل عرفا ومدار الأيمان عليه، وهذه تسمى 
يمين الفور تفرد أبو حنيفة - رحمه الله - بإظهارها ولم يخالفه أحد.
(ج:٣،ص:٧٦٢،ط:دارالفكر
وفي الهداية:
"ولو أرادت المرأة الخروج فقال إن خرجت فأنت طالق فجلست ثم خرجت لم يحنث ".
(باب اليمين في الخروج والإتيان والركوب وغير ذلك،ج:٢،ص:٣٢٤،ط:لبنان)
وفي المحيط البرهاني:
إذا قال الرجل لامرأته حين أرادت الخروج: إن خرجت فأنت طالق، فعادت وجلست، ثم خرجت بعد ذلك ساعة لا تطلق.
(ج:٣،ص:٤٩٨،ط:لبنان)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026