نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںصورت مسئولہ میں اگر آپ کی نیت یہ تھی اگر تم ابھی کمرے سے نکلی تو تمہیں تین طلاقیں ہیں تو بعد میں نکلنے کی وجہ سے آپ کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی آپ کا نکاح باقی ہے ، لہذا آپ دونوں بدستو رمیاں بیوی کی حیثیث سے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں ، البتہ آپ کی بیوی کو چاہئے کہ اپنے ساس ،سسر کے ساتھ نرمی ،ادب اور خوش اخلاقی سے پیش آئے،بے ادبی اور لڑائی جھگڑے سے اجتناب کرے ۔
اور اگر آپ کی نیت یہ تھی کہ جب بھی تم کمرے سے نکلو گی تو تمہیں تین طلاقیں ہیں تو اس صورت میں آپ کی بیوی پرکمرے سے نکلتے ہی تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ،جس کے بعد نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی دونوں کا میاں بیوی کے حیثیت سے ایک ساتھ رہناجائز نہیں، سوائے اس کے کہ عورت اس خاوند کی عدت گزارنے کے بعد کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اس سے ازدواجی تعلق قائم ہوجائے اور پھر وہ خاوند طلاق دیدے یا فوت ہوجائے ،تو پھر عدت گزارے کے بعد عورت پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے ، بصورت دیگر نہیں۔
كما في رد المحتار على الدر المختار:
(وشرط للحنث في) قوله (إن خرجت مثلا) فأنت طالق أو إن ضربت عبدك فعبدي حر (لمريد الخروج) والضرب (فعله فورا) لأن قصده المنع عن ذلك الفعل عرفا ومدار الأيمان عليه، وهذه تسمى
يمين الفور تفرد أبو حنيفة - رحمه الله - بإظهارها ولم يخالفه أحد.
(ج:٣،ص:٧٦٢،ط:دارالفكر
وفي الهداية:
"ولو أرادت المرأة الخروج فقال إن خرجت فأنت طالق فجلست ثم خرجت لم يحنث ".
(باب اليمين في الخروج والإتيان والركوب وغير ذلك،ج:٢،ص:٣٢٤،ط:لبنان)
وفي المحيط البرهاني:
إذا قال الرجل لامرأته حين أرادت الخروج: إن خرجت فأنت طالق، فعادت وجلست، ثم خرجت بعد ذلك ساعة لا تطلق.
(ج:٣،ص:٤٩٨،ط:لبنان)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔