سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-757 Fatwa no: 1448-757

"اگر میرےپیٹ میں بچہ ہوا تو میں تین دن مسلسل روزے رکھوں گی" کہنےکا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک عورت نے نذر مانی کہ"اگر میرے پیٹ میں بچہ ہوا تو میں تین روزے مسلسل رکھوں گی" ، لہذا مہربانی فرما کر یہ بتائیں کہ یہ نذر کب منعقد ہوگی ؟حلانکہ جب حمل ٹھہرا تو ایک روزہ رکھا ہے باقی دو روزے نہیں رکھ سکی ۔
جواب :

صورت مسئولہ میں مذکورہ عورت نےپیٹ میں بچہ ہونے (یعنی حمل ٹھہرنے)کی نذر مانی ہے،جوکہ حمل ٹھہرتے ہی منعقد ہوچکی ہے،لہذا اس عورت پر تین دن مسلسل روزے رکھنا واجب ہے۔
کما في قوله تعالي:
إِذْ قَالَتِ امْرَأَتُ عِمْرَانَ رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّي إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ.
(سورة آل عمران،٣٥:٣)
وفي سنن إبن ماجه:
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: نَذَرْتُ نَذْرًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَمَا أَسْلَمْتُ، فَأَمَرَنِي أَنْ أُوفِيَ بِنَذْرِي.
(بَابُ الْوَفَاءِ بِالنَّذْرِ،ج:٣،ص:٢٦١،ط:دار الرسالة العالمية)
وفي الهداية:
ومن نذر نذرا مطلقا فعليه الوفاء لقوله عليه الصلاة والسلام من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى وإن علق النذر بشرط فوجد الشرط فعليه الوفاء بنفس النذر لإطلاق الحديث.
(فصل في الكفارة،ج:٢،ص:٧٦،ط:المكتبة الإسلامية)
وفي الفقه الإسلامي وأدالته:
(لله علي حج أو عمرة) أو قال: (إن شفى الله مريضي فعلي صدقة مئة ليرة) فيجب عليه الوفاء بما سمى، سواء ـ كما لاحظنا ـ أكان النذر مطلقاً أم معلقاً بشرط، ولا تجزئ عنه الكفارة.
(ج:٤،ص:٢٥٦١،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026