نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیں1۔۔۔ بصورت مسئولہ حالت حمل میں طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ، اور اللہ تعالی نےقرآن مجید میں حاملہ عورت کی عدت کو وضع حمل قرار دیا ہے چنانچہ قرآن مجید میں ہے کہ " اور تمہاری عورتوں میں سےجو عورتیں حیض سے ناامید ہوئیں، اگر تم کو شبہ رہ گیا ، تو ان کی عدت تین مہینے ہیں، اور ایسے ہی جن کو حیض نہیں آیا، اور جن کے پیٹ میں بچہ ہے ان کی عدت یہ ہے کہ بچہ جن لیں،اور جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے اس کے کام آسان کردےگا" اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حالت حمل میں طلاق واقع نہیں ہوتی ان کے قول کا کوئی اعتبار نہیں ۔
2۔۔۔واضح رہے کہ حمل کے چار مہینے پورا ہونے سے پہلے (جب تک حمل میں جان نہ پڑی ہو) بلا عذر اسقاط حمل کرنا مکروہ اور گناہ ہے اور عذر کی وجہ سے جائز ہے ، لہذا اگر 48 دن والے حمل کا اسقاط معتبر عذر کی وجہ سے ہو (مثلا عورت کمزوری کی وجہ سے اس حمل کی متحمل نہیں وغیرہ)تو اسقاط جائز ہے اور اگر بغیر عذر کے ہو تو حمل کو ساقط کرنا مکروہ اور گناہ ہے ۔
3۔۔۔شوہر کیلئےاپنی بیوی کو اسقاط حمل سے منع کرناجائز ہے ، بلا عذرشرعی حمل کو ساقط کرناشرعا جائز نہیں ،بیوی گناہ گار ہوگی ۔
كما في قوله تعالى:
"وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا".
(پاره28،سورة طلاق،آية 4)
كما فى الهداية:
(وَطَلَاقُ الْحَامِلِ يَجُوزُ عَقِيبَ الْجِمَاعِ) ؛ لِأَنَّهُ لَا يُؤَدِّي إلَى اشْتِبَاهِ وَجْهِ الْعِدَّةِ، وَزَمَانُ الْحَبَلِ زَمَانُ الرَّغْبَةِ فِي الْوَطْءِ لِكَوْنِهِ غَيْرَ مُعَلَّقٍ أَوْ يَرْغَبُ فِيهَا لِمَكَانِ وَلَدِهِ مِنْهَا فَلَا تَقِلُّ الرَّغْبَةُ بِالْجِمَاعِ (وَيُطَلِّقُهَا لِلسُّنَّةِ ثَلَاثًا يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ تَطْلِيقَتَيْنِ بِشَهْرٍ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ.
(باب طلاق السنة،ج2،ص375،ط:مكتبة الحسن)
وفي ردالمحتار على الدرالمختار:
وَنُقِلَ عَنْ الذَّخِيرَةِ لَوْ أَرَادَتْ الْإِلْقَاءَ قَبْلَ مُضِيِّ زَمَنٍ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ هَلْ يُبَاحُ لَهَا ذَلِكَ أَمْ لَا؟ اخْتَلَفُوا
فِيهِ، وَكَانَ الْفَقِيهُ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى يَقُولُ: إنَّهُ يُكْرَهُ، فَإِنَّ الْمَاءَ بَعْدَمَا وَقَعَ فِي الرَّحِمِ مَآلُهُ الْحَيَاةُ فَيَكُونُ لَهُ حُكْمُ الْحَيَاةِ كَمَا فِي بَيْضَةِ صَيْدِ الْحَرَمِ، وَنَحْوُهُ فِي الظَّهِيرِيَّةِ قَالَ ابْنُ وَهْبَانَ: فَإِبَاحَةُ الْإِسْقَاطِ مَحْمُولَةٌ عَلَى حَالَةِ الْعُذْر.
وفيه أيضا: [تَنْبِيهٌ] أُخِذَ فِي النَّهْرِ مِنْ هَذَا وَمِمَّا قَدَّمَهُ الشَّارِحُ عَنْ الْخَانِيَّةِ وَالْكَمَالِ أَنَّهُ يَجُوزُ لَهَا سَدُّ فَمِ رَحِمِهَا كَمَا تَفْعَلُهُ النِّسَاءُ مُخَالِفًا لِمَا بَحَثَهُ فِي الْبَحْرِ مِنْ أَنَّهُ يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ حَرَامًا بِغَيْرِ إذْنِ الزَّوْجِ قِيَاسًا عَلَى عَزْلِهِ بِغَيْرِ إذْنِهَا.
قُلْت: لَكِنْ فِي الْبَزَّازِيَّةِ أَنَّ لَهُ مَنْعَ امْرَأَتِهِ عَنْ الْعَزْلِ. اهـ. نَعَمْ النَّظَرُ إلَى فَسَادِ الزَّمَانِ يُفِيدُ الْجَوَازَ مِنْ الْجَانِبَيْنِ. فَمَا فِي الْبَحْرِ مَبْنِيٌّ عَلَى مَا هُوَ أَصْلُ الْمَذْهَبِ، وَمَا فِي النَّهْرِ عَلَى مَا قَالَهُ الْمَشَايِخُ وَاَللَّهُ الْمُوَفِّقُ.
(مطلب:في اسقاط الحمل،ج4،ص335،ط:رحمانية)
Mufti
تاریخ جواب: 11 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔