سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-78 Fatwa no: 1447-78

حالت حمل میں طلاق دینے سے طلاق کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ : ایک شخص کی حاملہ بیوی اپنے باپ کے گھر چلی گئی اور اب وہ اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کررہی ہے ، تو بعض لوگوں نے اس کو کہا کہ حالت حمل میں طلاق واقع نہیں ہوتی،تو اب پوچھنا یہ ہے کہ شوہر کے طلاق دینے سے حالت حمل میں طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں؟ 2۔کیا مذکورہ عورت کیلئے 48 دن کے حمل کا اسقاط جائز ہے یا نہیں؟ 3۔کیا طلاق دینے کے بعد شوہر عورت پر جبر(زبردستی) کرسکتا ہے کہ حمل کو ضائع نہ کرنا یہ میرا بچہ ہے ؟
جواب :

1۔۔۔ بصورت مسئولہ حالت حمل میں  طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ، اور اللہ تعالی نےقرآن مجید میں حاملہ عورت کی عدت کو وضع حمل قرار دیا ہے چنانچہ قرآن مجید میں ہے کہ  " اور تمہاری عورتوں میں سےجو عورتیں حیض سے ناامید ہوئیں، اگر تم کو شبہ رہ گیا ، تو ان کی عدت تین مہینے ہیں، اور ایسے ہی جن کو حیض نہیں آیا، اور جن کے پیٹ میں بچہ ہے  ان کی عدت یہ ہے کہ بچہ جن لیں،اور جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے اس کے کام آسان کردےگا" اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حالت حمل میں طلاق واقع نہیں ہوتی ان کے قول کا کوئی اعتبار نہیں ۔ 
2۔۔۔واضح رہے کہ حمل کے چار مہینے پورا ہونے سے پہلے (جب تک حمل میں جان نہ پڑی ہو) بلا عذر  اسقاط حمل کرنا مکروہ اور گناہ ہے اور عذر کی وجہ سے جائز ہے ، لہذا  اگر 48 دن والے حمل کا اسقاط معتبر عذر کی وجہ سے ہو (مثلا عورت کمزوری کی وجہ سے اس حمل کی متحمل نہیں وغیرہ)تو اسقاط جائز ہے اور اگر بغیر عذر کے ہو تو حمل کو  ساقط کرنا مکروہ اور گناہ ہے ۔
3۔۔۔شوہر کیلئےاپنی بیوی کو اسقاط حمل سے منع کرناجائز ہے ، بلا عذرشرعی حمل کو ساقط کرناشرعا جائز نہیں ،بیوی گناہ گار ہوگی ۔
كما في قوله تعالى:
"وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا".
(پاره28،سورة طلاق،آية 4)
كما فى الهداية:
(وَطَلَاقُ الْحَامِلِ يَجُوزُ عَقِيبَ الْجِمَاعِ) ؛ لِأَنَّهُ لَا يُؤَدِّي إلَى اشْتِبَاهِ وَجْهِ الْعِدَّةِ، وَزَمَانُ الْحَبَلِ زَمَانُ الرَّغْبَةِ فِي الْوَطْءِ لِكَوْنِهِ غَيْرَ مُعَلَّقٍ أَوْ يَرْغَبُ فِيهَا لِمَكَانِ وَلَدِهِ مِنْهَا فَلَا تَقِلُّ الرَّغْبَةُ بِالْجِمَاعِ (وَيُطَلِّقُهَا لِلسُّنَّةِ ثَلَاثًا يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ تَطْلِيقَتَيْنِ بِشَهْرٍ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ.
(باب طلاق السنة،ج2،ص375،ط:مكتبة الحسن)
وفي ردالمحتار على الدرالمختار:
وَنُقِلَ عَنْ الذَّخِيرَةِ لَوْ أَرَادَتْ الْإِلْقَاءَ قَبْلَ مُضِيِّ زَمَنٍ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ هَلْ يُبَاحُ لَهَا ذَلِكَ أَمْ لَا؟ اخْتَلَفُوا 
فِيهِ، وَكَانَ الْفَقِيهُ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى يَقُولُ: إنَّهُ يُكْرَهُ، فَإِنَّ الْمَاءَ بَعْدَمَا وَقَعَ فِي الرَّحِمِ مَآلُهُ الْحَيَاةُ فَيَكُونُ لَهُ حُكْمُ الْحَيَاةِ كَمَا فِي بَيْضَةِ صَيْدِ الْحَرَمِ، وَنَحْوُهُ فِي الظَّهِيرِيَّةِ قَالَ ابْنُ وَهْبَانَ: فَإِبَاحَةُ الْإِسْقَاطِ مَحْمُولَةٌ عَلَى حَالَةِ الْعُذْر.
وفيه أيضا: [تَنْبِيهٌ] أُخِذَ فِي النَّهْرِ مِنْ هَذَا وَمِمَّا قَدَّمَهُ الشَّارِحُ عَنْ الْخَانِيَّةِ وَالْكَمَالِ أَنَّهُ يَجُوزُ لَهَا سَدُّ فَمِ رَحِمِهَا كَمَا تَفْعَلُهُ النِّسَاءُ مُخَالِفًا لِمَا بَحَثَهُ فِي الْبَحْرِ مِنْ أَنَّهُ يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ حَرَامًا بِغَيْرِ إذْنِ الزَّوْجِ قِيَاسًا عَلَى عَزْلِهِ بِغَيْرِ إذْنِهَا.
قُلْت: لَكِنْ فِي الْبَزَّازِيَّةِ أَنَّ لَهُ مَنْعَ امْرَأَتِهِ عَنْ الْعَزْلِ. اهـ. نَعَمْ النَّظَرُ إلَى فَسَادِ الزَّمَانِ يُفِيدُ الْجَوَازَ مِنْ الْجَانِبَيْنِ. فَمَا فِي الْبَحْرِ مَبْنِيٌّ عَلَى مَا هُوَ أَصْلُ الْمَذْهَبِ، وَمَا فِي النَّهْرِ عَلَى مَا قَالَهُ الْمَشَايِخُ وَاَللَّهُ الْمُوَفِّقُ.
(مطلب:في اسقاط الحمل،ج4،ص335،ط:رحمانية)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب