سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-758 Fatwa no: 1448-758

اگر میں فلاں کام کروں تو(معاذاللہ ) میں مسلمان نہیں کافر ہوں گاکہنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک آدمی نے کہا کہ اگر پاسپورٹ بنانے سے پہلے میں نے بال کٹوائے تو میں مسلمان نہیں ہوں گا،بلکہ کافر ہوں گا اور اگر میں کعبہ میں بیٹھ کر دعا مانگوں تو بھی میری دعا قبول نہ ہو اور پھر اس نے بال کٹوائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب :

بصورت مسئو لہ مذکورہ آدمی کا یہ جملہ"اگر پاسپورٹ بنانے سے پہلے میں نے بال کٹوائے۔۔۔الخ "جملہ قسمیہ ہےاور قسم کے برخلاف کرنے  سے  کفارہ یمین لازم ہوتاہے اس لئے  بال کٹوانے کی وجہ سےاس آدمی پر کفارہ یمین لازم ہے(نیز اگر وہ اس بات سے واقف تھا کہ بات کرنے سے میں کافر نہیں ہوں گاتو ایسی صورت میں اگرچہ وہ کافر تو نہ ہوگالیکن ایسی بات زبان سے نکالنا سخت گناہ ہےجس سے اجتناب ضروری ہے)،البتہ اگر اس آدمی نے  دل سے یہ سمجھتےہوئےکہ میں  بال کٹوانے سے کافر ہوجاؤں گا  اپنے  بال کٹوائے ہیں تو یہ ایسا ہےکہ وہ کفر پر راضی ہے ،  لہذابال  کٹوانے سےوہ کافر ہوگیا ہے،ایسی صورت میں اس آدمی پر لازم ہے کہ وہ  اپنے ایمان اور نکاح کی تجدید   کرے اور آئندہ اس طرح کے الفاظ کہنے سے اجتناب کرے  ۔
کفارہ یمین دس مسکینوں کو صبح شام متوسط درجہ کا کھانا کھلانا یا دس مسکینوں کوکپڑا دینا ہے ،البتہ اگر ان دونوں میں سے کسی پر بھی قدرت نہ ہو تو تین دن مسلسل روزے رکھناہے۔
كما في ملتقي الأبحر:
إِن فعل كَذَا فَهُوَ كَافِر أَو يَهُودِيّ أَو نَصْرَانِيّ أَو برىء من الله وَلَا يصير كَافِرًا بِالْحِنْثِ فِيهَا سَوَاء علقه بماض أَو مُسْتَقْبل إِن كَانَ يعلم إِنَّه يَمِين وَإِن كَانَ عِنْده أَنه يكفر يصير بِهِ كَافِرًا.
(ج:1،ص:272،ط:لبنان)
وفي النهر الفائق شرح كنزالدقائق:
(إن فعل كذا فهو كافر) أو يهودي أو نصراني، أو قال: فاشهدوا علي بالنصراينة كما في (الولوالجية) إلحاقا له بتحريم الحلال لأنه لما جعل الشرط علما على الكفر وقد اعتقده واجب الامتناع وأمكن القول بوجوبه لغيره جعلناه يمينا، وكذا لو قال: فأنا أعبدك من دون الله أو أعبد الصليب كم في (المجتبى) قيد بكون اليمين على فعل مستقبل لأنه لو كان على ماض كإن كنت فعلت كذا فهذا كافر وهو عالم أنه فعله كان غموسا، واختلف في كفره، والأصح أنه يمين لا يكفر بالماضي وإن كان جاهلا أو عنده أن الكفر بالغموس أو بمباشرة الشرط في المستقبل يكفر فيهما لأنه رضي بالكفر.
(كتاب الأيمان،ج:3،ص:54،ط:دار الكتب العلمية)
وفي دررالحكام شرح غرر الأحكام:
(وَإِنْ فَعَلَ كَذَا فَهُوَ كَافِرٌ) فَإِنَّهُ قَسَمٌ يَسْتَوْجِبُ الْكَفَّارَةَ إذَا حَنِثَ إنْ كَانَ فِي الْمُسْتَقْبَلِ وَأَمَّا إنْ كَانَ فِي الْمَاضِي لِشَيْءٍ قَدْ فَعَلَهُ فَهُوَ الْغَمُوسُ وَلَا يَكْفُرُ فِيمَا رُوِيَ عَنْ أَبِي يُوسُفَ اعْتِبَارًا لِلْمَاضِي بِالْمُسْتَقْبَلِ؛ لِأَنَّهُ قَصَدَ بِهِ الْيَمِينَ وَلَمْ يَقْصِدْ بِهِ تَحْقِيقَهُ بَلْ أَنْ يَصْدُقَ فِي مَقَالَتِهِ.
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ: يَكْفُرُ؛ لِأَنَّهُ عَلَّقَ الْكُفْرَ بِمَا هُوَ مَوْجُودٌ، وَالتَّعْلِيقُ بِأَمْرٍ كَائِنٍ تَنْجِيزٌ فَكَأَنَّهُ قَالَ: هُوَ كَافِرٌ (وَ) الْأَصَحُّ أَنَّ الْحَالِفَ (لَمْ يَكْفُرْ) فِي الْمَاضِي، وَالْمُسْتَقْبَلِ (إنْ عَلِمَ أَنَّهُ يَمِينٌ وَكَفَرَ إنْ) 
كَانَ جَاهِلًا (اعْتَقَدَ أَنَّهُ كُفْرٌ) فِي الْمَاضِي، وَالْمُسْتَقْبَلِ؛ لِأَنَّهُ إذَا أَقْدَمَ عَلَى ذَلِكَ الْفِعْلِ وَعِنْدَهُ أَنَّهُ يَكْفُرُ بِهِ فَقَدْ رَضِيَ بِالْكُفْرِ.
(انواع اليمين،ج:2،ص:40،ط:دار إحياء الكتب العربية)
وفي الفتاوي الهندية:
ومن يرضى بكفر نفسه فقد كفر.
(ج:2،ص:257،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026