سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-762 Fatwa no: 1448-762

رکوع میں شامل ہونے والے مقتدی کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ : کوئی آدمی اس وقت جماعت میں شریک ہوجائےجب امام رکوع کی حالت میں ہو،تو تکبیر تحریمہ کے بعد وہ آدمی ہاتھ باندھے بغیر رکوع میں چلاجائے ،تو کیا اس کی نماز درست ہوگی یا نہیں ؟
جواب :

واضح رہے کہ نماز میں تکبیر تحریمہ کہنےکے بعد  قیام کی حالت میں ہاتھ باندھنا مسنون ہے ،لہذا اگر کوئی شخص نماز میں ایسے وقت  میں شریک ہوجائے جب امام رکوع کی حالت میں ہو تو اسے چاہئے کہ تکبیر تحریمہ کہہ کرہاتھ باندھے اور پھر رکوع میں جائے ،البتہ اگر کوئی شخص تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد ہاتھ باندھے بغیر امام کے ساتھ رکوع میں شریک ہوجائے تو بھی اس کی نماز صحیح ہوجائے گی۔
كمافي كنزالدقائق:
وسننها رفع اليدين للتّحريمة... ووضع يمينه على يساره تحت سرّته وتكبير الرّكوع.
باب صفة الصلاة،ج:١،ص:١٦٠،ط:دار البشائر الإسلامية)
وفي الفتاوي الهندية:
ولو أدرك الإمام وهو راكع فكبر قائما وهو يريد تكبيرة الركوع جازت صلاته ولغت نيته.
(الفصل الأول في فرائض الصلاة،ج:١،ص:٦٩،ط:دارالفكر)
فتاوی دارالعلوم ديوبند:
تکبیر تحریمہ کہہ کر ہاتھ باندھنا مسنون ہے ،اگر ہاتھ نہ باندھے اور ویسےہی رکوع یا سجدے میں چلا گیا تو نماز صحیح ہے۔
 (ج:٣،ص:٢٦٣،ط:دارالاشاعت)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026