نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ زکوۃ ادا کرنے کے لئے کسی غیر صاحب نصاب فقیر شخص کو زکوۃ کی رقم کامالک بنانا ضروری ہے ۔
بصورت مسئولہ اگر امام صاحب نصاب کے بقدر مال کےمالک نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے پاس زائد ازضرورت اتنا سامان ہے جس کی مالیت نصاب تک پہنچتی ہوتو ایسی صورت میں مذکورہ امام صاحب کو زکوۃ کی نیت سے رقم ادا کرنا درست ہےاور اس سے زکوۃ ادا ہوجائے گی۔
كما في قوله تعالي:
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ.
(سورة التوبة،60:9)
وفي الاختيار لتعليل المختار:
بَابُ مَصَارِفِ الزَّكَاةِ وَهُمُ الْفَقِيرُ وَهُوَ الَّذِي لَهُ أَدْنَى شَيْءٍ، وَالْمِسْكِينُ الَّذِي لَا شَيْءَ لَهُ،وَالْعَامِلُ عَلَى الصَّدَقَةِ يُعْطَى بِقَدْرِ عَمَلِهِ،...الخ
(كتاب الزكاة،ج:1،ص:118،ط:القاهرة)
وفي درر الحكام شرح غرر الأحكام:
باب مصارف:(هُمْ الْفَقِيرُ) هُوَ مَنْ لَهُ مَالٌ دُونَ النِّصَابِ (وَالْمِسْكِينُ) هُوَ مَنْ لَا شَيْءَ لَهُ (وَالْعَامِلُ)...الخ
(باب مصارف الزكاة،ج:1،ص:188،ط: دار إحياء الكتب العربية)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔