سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-763 Fatwa no: 1448-763

امامِ مسجد کو زکوٰۃ دینے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ کوئی شخص کسی مسجد میں امامت کے فرائض سرانجام دیتا ہواور اس کو جو معاوضہ ملتا ہے اس سے اس کا گزر اوقات مشکل سے ہوتا ہے ،نمازی حضرات اس کو اپنی طرف سے کچھ رقم اکٹھی کرکے دینا چاہیں ،اور ان میں کوئی شخص اپنی رقم پر زکوۃ کی نیت کرے تو کیا اس کی زکوۃ ادا ہوگی یا نہیں ؟
جواب :

واضح رہے کہ زکوۃ ادا کرنے کے لئے کسی غیر صاحب نصاب  فقیر شخص کو  زکوۃ  کی رقم کامالک بنانا ضروری ہے ۔
بصورت مسئولہ اگر امام صاحب  نصاب کے بقدر  مال کےمالک نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے پاس زائد ازضرورت اتنا سامان ہے جس کی مالیت نصاب تک پہنچتی ہوتو ایسی صورت میں مذکورہ امام صاحب کو زکوۃ کی نیت سے رقم ادا کرنا درست ہےاور اس سے زکوۃ ادا ہوجائے گی۔
كما في قوله تعالي:
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ.
(سورة التوبة،60:9)
وفي الاختيار لتعليل المختار:
بَابُ مَصَارِفِ الزَّكَاةِ وَهُمُ الْفَقِيرُ وَهُوَ الَّذِي لَهُ أَدْنَى شَيْءٍ، وَالْمِسْكِينُ الَّذِي لَا شَيْءَ لَهُ،وَالْعَامِلُ عَلَى الصَّدَقَةِ يُعْطَى بِقَدْرِ عَمَلِهِ،...الخ
(كتاب الزكاة،ج:1،ص:118،ط:القاهرة)
وفي درر الحكام شرح غرر الأحكام:
باب مصارف:(هُمْ الْفَقِيرُ) هُوَ مَنْ لَهُ مَالٌ دُونَ النِّصَابِ (وَالْمِسْكِينُ) هُوَ مَنْ لَا شَيْءَ لَهُ (وَالْعَامِلُ)...الخ
(باب مصارف الزكاة،ج:1،ص:188،ط: دار إحياء الكتب العربية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026