نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںایزی پیسہ کے ذریعہ رقم کی منتقلی یا کیش کروانے پر اضافی رقم کاٹنے والے کی دو صورتیں ہیں ۔
1)اگر کمپنی نے ریٹیلر کو کسٹمرز کی رقوم بھیجنے اورنکلوانے کے لئے باقاعدہ طور پر ڈیوائس دے رکھی ہے تو اس کی حیثیت کمپنی اور کسٹمر کے درمیان ایک ایجنٹ کی ہے،اور کمپنی کی طرف سے ریٹیلر کو اس بات کی اجازت نہیں ہوتی کہ وہ کسٹمر سے پیسے بھیجنے اور نکلوانے کی صورت میں کچھ چارجز وصول کرے اس لئے آپ کے لئے کسٹمر سے اضافی رقم وصول کرنا سود تو نہیں ہے البتہ ایساکرنا شرعا جائز نہیں، کیونکہ آپ نے باقاعدہ طور پر کمپنی سے کمپنی کے تمام اصول و ضوابط کی پاسداری کا معاہدہ کیا ہوا ہے ،لہذا معاہدہ کی خلاف ورزی کرنا جائز نہیں۔
2) اگر ریٹیلر کمپنی کے لیےباقاعدہ طور پر کام نہیں کر رہا بلکہ اس نے اپنا اکاونٹ بنایا ہوا ہے اور اپنی ڈیوائس استعمال کرتا ہے کمپنی کی نہیں ، اور اس کے ذریعہ کسٹمر کو پیسے بھیجتاہے اور نکال کر دیتاہے تواس صورت میں ریٹیلرکے لئےاضافی چارجز وصول کرنا جائز ہےاس لئے کہ رقم کی منتقلی یا کیش کسٹمر کو سہولت میسر کرنا ہے اور اس کا عوض لینا جائز ہے۔
قال تبارك وتعالي:
وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا.
(الإسراء،34:17)
وفي الصحيح للبخاري:
عن أبي هريرة عن النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - قال: " آية المنافقِ ثلاثٌ: إِذا حدَّث كذَب، وِإذا وعدَ أَخلفَ، وِإذا اْؤتمِنَ خانَ".
(ج:1،ص:29،ط:مكتبة المعارف للنشر والتوزيع)
وفي سنن الدارقطني:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ , وَالصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ».
(كتاب البيوع،ج:3 ،ص:426 ،ط:مؤسسة الرسالة، بيروت)
وفي الهداية:
(الْإِجَارَةُ: عَقْدٌ عَلَى الْمَنَافِعِ بِعِوَضٍ).
(ج:9،ص:58،ط:المكتبة الإسلامية)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔