سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-766 Fatwa no: 1448-766

شراب فروشی والے جنرل اسٹور میں شراکت داری کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں انگلینڈ میں مقیم ہوں اور ایک دوکان میں کام کر رہا ہوں اب یہاں انڈیا کا میرا ایک دوست ہےوہ سٹور کھولنا چاہتا ہے اور مجھے کہتا ہے کہ اس کاروبار میں آپ میرے پارئٹنر بن جاؤ اور اگر آپ کے پاس رقم نہ بھی ہو تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہاں جنرل سٹوروں پر شراب کا بکنا عام ہے جیسے ہمارے علاقوں میں کولڈڈرنکس ہوتی ہیں تو اس صورت میں میر اان کے ساتھ پارئٹنرشپ جائز ہے یا نہیں ؟
جواب :

واضح رہے کہ جس طرح مسلمان کے لئے  حرام چیزوں کی خریدوفروخت ناجائز ہے اسی طرح ان میں شرکت بھی ناجائز ہے،لہذا صورت مسئولہ میں  شراب چونکہ حرام قطعی  ہے لہذا  آپ کے لئے اس میں پارئٹنرشپ کرنا  تو جائز نہیں ہے،البتہ حرام چیزوں کے علاوہ دیگر اشیاء  میں شریعت اور شرکت کے اصولوں  کے مطابق پارئٹنرشپ کر سکتے ہیں۔ 
کما في القرآن المجيد:
يأَيُّهَا الَّذِينَ ءامَنُواْ كُلُواْ مِن طَيّبَاتِ مَا رَزَقْنَكُمْ وَاشْكُرُواْ للَّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ.
(البقرة،172:2)
وفيه أيضا:
فَكُلُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلَلاً طَيّباً وَاشْكُرُواْ نِعْمَتَ اللَّهِ إِن كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ.
(النحل،114:16)
وفيه أيضا:
ياايها الذين آمنو انما الخمر والميسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون.
 (المائدة،90:5)
وفي سنن أبي داؤد:
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ « إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالأَصْنَامِ ».
(باب ثمن الخمر..ج:3،ص:297،ص:دار الرسالة العالمية)
وفيه أيضا:
عن عائشة، قالت:لما نرلَت الأياتُ الأواخِرُ مِن سورة البقرة،خرج رسولُ الله صلَّى الله عليه وسلم فقرأهُنَ علينا،وقال:"حُرِّمَتِ التجارةُ في الخمرِ.
(باب ثمن الخمر..ج:5،ص:353،ص:دار الرسالة العالميه)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026