نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ جس طرح مسلمان کے لئے حرام چیزوں کی خریدوفروخت ناجائز ہے اسی طرح ان میں شرکت بھی ناجائز ہے،لہذا صورت مسئولہ میں شراب چونکہ حرام قطعی ہے لہذا آپ کے لئے اس میں پارئٹنرشپ کرنا تو جائز نہیں ہے،البتہ حرام چیزوں کے علاوہ دیگر اشیاء میں شریعت اور شرکت کے اصولوں کے مطابق پارئٹنرشپ کر سکتے ہیں۔
کما في القرآن المجيد:
يأَيُّهَا الَّذِينَ ءامَنُواْ كُلُواْ مِن طَيّبَاتِ مَا رَزَقْنَكُمْ وَاشْكُرُواْ للَّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ.
(البقرة،172:2)
وفيه أيضا:
فَكُلُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلَلاً طَيّباً وَاشْكُرُواْ نِعْمَتَ اللَّهِ إِن كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ.
(النحل،114:16)
وفيه أيضا:
ياايها الذين آمنو انما الخمر والميسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون.
(المائدة،90:5)
وفي سنن أبي داؤد:
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ « إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالأَصْنَامِ ».
(باب ثمن الخمر..ج:3،ص:297،ص:دار الرسالة العالمية)
وفيه أيضا:
عن عائشة، قالت:لما نرلَت الأياتُ الأواخِرُ مِن سورة البقرة،خرج رسولُ الله صلَّى الله عليه وسلم فقرأهُنَ علينا،وقال:"حُرِّمَتِ التجارةُ في الخمرِ.
(باب ثمن الخمر..ج:5،ص:353،ص:دار الرسالة العالميه)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔