سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-79 Fatwa no: 1447-79

حالت حیض میں آیات قرآنی وظائف کے طور پڑھنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک مریض عامل کے پاس گیا اور عامل صاحب نے اسے کچھ وظائف پڑھنے کے لئے دیئے،اب یہ مسئلہ پوچھنا ہے کہ مریض اگر مرد ہو ،تو کوئی مسئلہ نہیں ،لیکن مریض اگر عورت ہو ،اور اسے حیض آتا ہو ،اور اس دوران یہ وظائف دیئے جائیں مثلا: درود شریف ، سورۃ الفیل ، سورۃ اخلاص ، سورۃ الناس اور کچھ مزید قرآنی آیتیں ،تو کیا حالت حیض میں مذکورہ عورت ان وظائف کو پڑھ سکتی ہے یا نہیں ؟
جواب :

واضح رہے کہ حالت حیض میں اذکار،دعائیں وغیرہ پڑھنا مطلقاجائز ہے،جبکہ وہ آیات قرآنیہ جس میں دعا کا معنی ہو،تو ان آیات کو صرف بنیت دعا اور وظیفہ پڑھناجائز ہے  بنیت تلاوت پڑھنا جائز  نہیں،لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ عورت کے لئے  حیض کے دوران  درود شریف اور دعا کے معنی پر مشتمل آیات قرآنیہ بنیت دعا اور وظیفہ پڑھنا جائز ہے ۔
كما في ردالمحتار علي الدرالمختار :
(قَوْلُهُ بِقَصْدِهِ) فَلَوْ قَرَأَتْ الْفَاتِحَةَ عَلَى وَجْهِ الدُّعَاءِ أَوْ شَيْئًا مِنْ الْآيَاتِ الَّتِي فِيهَا مَعْنَى الدُّعَاءِ وَلَمْ تُرِدْ الْقِرَاءَةَ لَا بَأْسَ بِهِ
(باب الحيض،ج1،ص535،ط:مكتبة رحمانية)
وفي حاشية الطحطاوي :
أماإذا قرأ علي قصد الثناء أو إفتتاح أمرلا يمنع في أصح الروايات والتسمية لا تمنع إتفاقاإذا كان علي قصد الثناءأوإفتتاح أمر خلاصة.
وفي (العيون)أبي الليث ولوقرأ الفاتحة علي سبيل الدعاءأو شيئا من الآيات التي فيها معني الدعاء ولم يرد به القراءة فلا بأس به.
(باب الحيض،ج1،ص677،ط:ألمكتبة الوحيدية)
وفي المحيط البرهاني :
وقيد الطحاوي القراءة بآية تامة لأنه تعلق بقراءة القرآن حكمان: جواز الصلاة وحرمة القراءة على الحائض والجنب. ثم فصّل في حق جواز الصلاة من بين الآية التامة وما دونهافكذا في حق حرمة القراءة على الحائض وهذا إذا قصدت القراءة.فإن لم تقصدها نحو أن تقرأ الحمد لله رب العالمين شكراً للنعمة فلا بأس به،
(نوع آخر في الأحكام التي تتعلق بالحيض،ج1،ص402،ط:إدارة القرآن والعلوم الإسلامية)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب