سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-767 Fatwa no: 1448-767

ایسا شخص جس تک اسلام کا پیغام نہ پہنچا ہو قیامت کےدن اس کا حساب کس بنیاد پر ہوگا؟

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ جو غیر مسلم لاعلم ( ان پڑھ) ہیں اور اسلام کے بارے میں کچھ نہیں جانتے بلکہ اپنے ہی مذہب کو صحیح سمجھتے ہیں، قیامت کے دن ان کا حساب کس بنیاد پر ہوگا؟ یا اگر کسی تک اسلام کا پیغام نہ پہنچا ہو تو ایسے لوگوں کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کس طرح فرمائے گا؟
جواب :

موجودہ دور میں میڈیا،انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی جتنی ترقی کر چکی ہے  ان کے ذریعہ  الحمد للہ دنیا کے ہر کونے  میں اسلام پہنچ چکا ہے اور ممکن نہیں کوئی ایسا شخص باقی ہو جو اسلام کو نہ جانتا ہو یا جس تک اسلام کا پیغام نہ پہنچا ہو،البتہ اگربالفرض والمحال کوئی  ایسا  غیر مسلم   جو اسلام کو نہیں جانتے یا جن تک اسلام کی تبلیغ نہیں پہنچی ان کے بارے میں   بعض علماء فرماتے ہیں   کہ ان لوگوں کو کفر کے باوجود عذاب نہیں ہوگا ،البتہ امام ابوحنیفہ ؒ فرماتے ہیں کہ  خدا کے وجود اور اس کی توحید کے منکرین کو کفر کی وجہ سے ہر حال میں عذاب ہوگا اگرچہ ایمان کی دعوت ان تک نہ پہنچی ہو۔
نوٹ :ایسے سوالوں کی چھان بین میں نہیں پڑنا چاہئے جن کاآپ کی  دنیا و آخرت  سے کوئی تعلق نہ ہو،ایسے سوالات سے اجتناب کرنا چاہئے۔
كما في تفسير إبن كثير:
قلت: لقد أخذ بعض العلماء من هذه الآيات أنه لا يعذر أحد بعد بعثة الرسول صلى الله عليه وسلم وبعد نزول القرآن، ولا يكون حكمه حكم أهل الفترة؛ لقوله تعالى: {وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ} [الأنعام:19] أي: هذا القول فيه نذارة لكل من بلغه، وقال تعالى: {وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا} [الإسراء:15]، فمن بلغه القرآن وبلغه رسالة الرسول صلى الله عليه وسلم فقد قامت عليه الحجة وليس له عذر، ولاسيما في الأمور الواضحة، كالعبادة التي خلق الله الخلق من أجلها، والتوحيد الذي من أجله بعث الله رسله وأنزل كتبه، فلا عذر للمشرك في كونه يذبح لغير الله وينذر لغير الله أو يستغيث بغير الله أو يطوف بغير بيت الله، أو يطلب المدد من غير الله وهو بين المسلمين، وقد بلغه القرآن وبلغته رسالة النبي صلى الله عليه وسلم، ولهذا قال: {وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ} [الأنعام:19]، وقال: {وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا} [الإسراء:15]، أما من لم تبلغه الدعوة ولم يبلغه القرآن وكان لا يتكلم بالعربية ولم يسمع شيئاً عن القرآن فهذا حكمه حكم أهل الفترة حتى تقام عليه الحجة.
(ج:1،ص:3،ط:شامله)
وفي اتحاف السادة المتقين بشرح إحياء علوم الدين:
وروى الحاكم الشهيد فى المنتقى عن أبى حنيفة رحمه الله تعالى انه قال لاعذر لاحد فى الجهل بخالقه لمايرى من خلق السموات والارض وخلق نفسه وسائر مخلوقاته وعنه أيضا لولم يبعث الله رسولا لوجب على الخلق معرفته بعقولهم.
(ج:2،ص:192،ط:مؤسسة التاريخ العربي)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026