سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-768 Fatwa no: 1448-768

ايك سال سے كم عمر والے دس اونٹوں میں زکوۃکاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں كہ ایک آدمی کے پاس دس بڑے اونٹ تھے جس پر زکوۃ لازم تھی اس نے دس اور اونٹ سال کے دوران خرید لیے جن کی عمر ایک سال سے کم تھی اب سال کے دوران تمام بڑے اونٹ مر گئے تو کیا سال کے پورے ہونے پر ان ایک سال سے کم عمر والے اونٹوں پر زکوۃ ہو گی یا نہیں،جبکہ یہ بھی تو انٹوں کے ادنی نصاب پانچ اونٹ سے زیادہ ہیں جس میں زکوۃ لازم ہونی چاہیے؟
جواب :

واضح رہے کہ سال سے کم عمر کے جانوروں میں  زکوۃ لازم نہیں ہوتی ،لہذا صورت مسئولہ میں جو سال سے کم عمر کے اونٹ باقی ہیں اگر چہ نصاب کے برابر  ہوں ،مگر ان پر زکوۃ نہیں ہوگی ؛کیونکہ مذکورہ صورت میں  ابھی تک حولان حول  ان جانوروں میں پورا نہیں ہے جو  زکوۃ کی ادائیگی کے لیے شرط ہے ،لہذا ان جانوروں  میں  زکوۃ لازم   نہیں ہوگی ۔
وفي الجامع الصغير:
مُحَمَّد عَن يَعْقُوب عَن أبي حنيفَة (رَضِي الله عَنْهُم) قَالَ لَيْسَ فِي الفصلان والحملان والعجاجيل صَدَقَة
قَوْله وَقَالَ أَبُو يُوسُف إِلَخ هُوَ يَقُول إِن النَّص ورد باسم الْإِبِل وَالْبَقر وَالْغنم وَهُوَ اسْم جنس فَيتَنَاوَل الْكل فَتجب فِيهَا الزَّكَاة نظرا إِلَى الْفُقَرَاء لَكِن وَجَبت وَاحِدَة منا دفعا للضَّرَر عَن الْمَالِك نظرا من الْجَانِبَيْنِ كَمَا فِي الْعِجَاف وهما قَالَا إِن مُطلق اسْم الْجِنْس لَا يتَنَاوَل هَؤُلَاءِ لنُقْصَان فَلَا يجب اعْتِبَارا لليسر وَلِأَن الْوَاجِب هِيَ المسنة بقوله (عَلَيْهِ السَّلَام) وعد مِنْهَا السخلة وَلَا تأخذها مِنْهُم وَأَنَّهَا غير مَوْجُودَة فِي النّصاب إِلَّا إِذا كَانَ فِيهَا وَاحِدَة مُسِنَّة فَحِينَئِذٍ يجب وَيجْعَل الْكل كبارًا تبعا للمسنة
(باب زكاة السوائم،ص:125،ج:1،ط: بيروت)
وفي البناية:
وليس في الفصلان والحملان، والعجاجيل صدقة عن أبي حنيفة - رَحِمَهُ اللَّهُ - إلا أن يكون معها كبار، وهذا آخر أقواله......(فإذا امتنع إيجاب ما ورد به الشرع) ش: وهو بنت مخاض في خمس وعشرين من الإبل والثني من الغنم م: (امتنع أصلا) ش: أي امتنع الوجوب بالكلية؛ لأن أخذه من الصغار أخذ خيار المال وذلك لا يجوز.
(الفصلان والحملان،ص:345،ج:3،ط: دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026