نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںامامت كے لئے کسی ايسے شخص كو مقرر كرنا زیادہ اولی ہے جس كے جسم کے تمام اعضاء صحیح سالم ہوں ،اور وہ احسن طریقے سے نماز کی ادائیگی پر قادر ہو،البتہ اگرمذکورہ صفات کا حامل موجود نہ ہوتو پھر معذور امام کےپیچھے نماز ادا کرنا درست ہے ۔
لہذاصورت مسئولہ میں اگر مذکورہ صفات کا حامل موجود ہوتوبہتر یہ ہے وہ نماز پڑھائے ،البتہ اگر موجود نہ ہوتوپھراس معذور امام کاامامت کروانابھی درست ہے،بشرطیکہ وہ رکوع و سجدے پر قادرہو۔
کما في الدر المختار مع رد المحتار:
(وَصَحَّ اقْتِدَاءُ مُتَوَضِّئٍ) لَا مَاءِ مَعَهُ (بِمُتَيَمِّمٍ)... (وَقَائِمٍ بِأَحْدَبَ) وَإِنْ بَلَغَ حَدَبُهُ الرُّكُوعَ عَلَى الْمُعْتَمَدِ، وَكَذَا بِأَعْرَجَ وَغَيْرُهُ أَوْلَى.
(باب الإمامة،ج:1،ص:590،ط:دار الفكر)
وفي تحته:
(قَوْلُهُ وَغَيْرُهُ أَوْلَى) مُبْتَدَأٌ وَخَبَرٌ: أَيْ غَيْرُ الْأَعْرَجِ كَمَا فِي الْبَحْرِ، وَغَيْرُ خَافٍ أَنَّ هَذَا الْحُكْمَ لَا يَخُصُّ الْأَعْرَجَ بَلْ غَيْرُ كُلٌّ مِنْ الْمُتَيَمِّمِ وَالْقَاعِدِ وَالْأَحْدَبِ كَذَلِكَ.
(باب الإمامة،ج:1،ص:590،ط:دار الفكر)
وفيه أيضا:
( ومفلوج وأبرص شاع برصه ) وكذلك أعرج يقوم ببعض قدمه فالاقتداء بغيره أولى.
(مطلب في إمامة الأمرد،ج:1،ص:562،ط:دارالفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔