سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-771 Fatwa no: 1448-771

ایک ساتھ تین طلاقیں دینے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک ساتھ تین طلاقیں دینے سے تینوں طلاقیں ہو جاتے ہیں یا نہیں ،کچھ لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ایک ساتھ تین طلاقیں دینے سے ایک طلاق ہوتی ہے البتہ ایک دن میں ایک طلاق دینے اور اسی طرح تین دن میں تین طلاقیں دینے سے تین طلاقیں ہوتی ہیں ایک ساتھ تین طلاقیں دینے سے تین نہیں ہوتی ؟
جواب :

واضح رہے تین طلاقیں  تین ہی ہوتی ہیں  یہ مسئلہ قرآن ،حدیث،صحابہ کرام اور  ائمہ اربعہ سے ثابت ہے  ،لہذا  ایک ساتھ تین طلاقیں دینے سے  تینوں   واقع ہوجاتی ہیں،نیز تین طلاقیں واقع ہونے کے  بعد کسی اور   سے ایک طلاق  کے وقوع کا فتوی  لینے سے بھی   بیوی  حلال  نہیں  ہوتی۔
کما في القرآن المجيد:
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ..... فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الخ
(سورة البقرة،آية:229،230)
وفي احكام القرآن:
فَالْكِتَابُ وَالسُّنَّةُ وَإِجْمَاعُ السَّلَفِ تُوجِبُ إيقَاعَ الثَّلَاثِ مَعًا وَإِنْ كَانَتْ مَعْصِيَةً
(البقرة،ص:85،ج:2،ط: دار إحياء التراث العربي)
وفي صحيح البخاري:
عَنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي شَأْنِهِ مَا ذَكَرَ فِي القُرْآنِ مِنْ أَمْرِ المُتَلاَعِنَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ قَضَى اللَّهُ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ» قَالَ: فَتَلاَعَنَا فِي المَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ، فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا، قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَا مِنَ التَّلاَعُنِ، فَفَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ذَاكَ تَفْرِيقٌ بَيْنَ كُلِّ مُتَلاَعِنَيْنِ
(التلاعن في المسجد،ص:54،ج:7،ط: بيروت)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026