نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںہر عاقل ،بالغ،آزاد ،مسلمان (مرد وعورت) جو نصاب کا مالک ہو اور اس پر سال بھی گزر جائے تو اس پر زکوۃ واجب ہوتی ہے،اور نابالغ بچوں پر زکوۃ واجب نہیں ہوتی۔
واضح رہے کہ سونے کا نصاب جس پر زکوۃ واجب ہوتی ہے وہ ساڑھے سات تولہ سونا ہے اس سے کم پر زکوۃ واجب نہیں ہوتی لیکن جس شخص کے پاس ساڑھےسا ت تولہ سے کم سونا ہو اور اس کے علاوہ اس کے پاس کچھ چاندی یا مال تجارت بھی ہو تو اس کی قیمت لگا کر زکوۃ اس کی جائے گی بشرطیکہ مقدار نصاب کو پہنچ جائے۔
صورت مسؤلہ میں باپ نے ہر بیٹی کے لئے بطور ھبہ 5تولہ سونا امانت رکھا ہے باپ کا ھبہ کی نیت کرنے سے نابالغ بچی مالک ہو جائے گی اور باپ کا قبضہ نابالغ بچی کا قبضہ شمار ہوگا ،البتہ بالغ بچی کا خود قبضہ کرنا اپنی ملکیت کے لئے ضروری ہوتا ہے صورت مسؤلہ میں بالغ بچی کا قبضہ نہیں پایا گیا لہذا اس پر زکوۃ واجب نہیں،اور اگر سونا بالغہ کے قبضہ میں دے دیا جائے اور اس کے پاس 5تولہ سونا کے علاوہ اور کوئی مال نہ ہو تب بھی زکوۃ واجب نہ ہوگی ،اور اگر اس کے علاوہ اس کے پاس کچھ چاندی یا مال تجارت ہو تو ان سب کی قیمت لگائی جائے،اگر مقدار نصاب کو پہنچ جائے تو زکوۃ ادا کرنا واجب ہے بصورت دیگر اس سونے کی زکوۃ سابقہ تفصیل کے مطابق باپ پر ہوگی بالغہ لڑکی پر نہیں ،بشرطیکہ اگر سونے کے علاوہ باپ کے پاس مال ہو اور وہ نصاب کو پہنچتا ہو۔
كما في الصحيح لمسلم:
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ»
(كتاب الزكوه،ج:3،ص:333،ط:مكتبه البشری)
وفي الهداية:
ليس فيما دون مائتي درهم صدقة لقوله عليه الصلاة والسلام ليس فيما دون خمس أواق صدقة والأوقية أربعون درهما''الخ
(باب الزکوۃ المال،ج:1،ص:210،ط:مکتبه الحسن)
وفيه أيضا:
الزكوة واجبة علی الحر العاقل البالغ اذا ملك نصابا ملکا تاما وحال عليه الحول...الخ
(كتاب الزكوة،ج:1،ص:200، ط:مکتبه الحسن)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔