سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-80 Fatwa no: 1447-80

"یا الهي بحرمة سيدنا عثمان بن عفان" کے ساتھ دم کرنے کی شرعی حیثیت

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک بندہ ان الفاظ کے ساتھ دم کرتا ہے "يا الهي بحرمة سيدنا عثمان بن عفان" کیا یہ شرعا جائز ہے ؟
جواب :

 جس جھاڑ پھونک میں کلمات کفر نہ ہوں اور اس کا معنی معلوم ہو ،تو ایسے کلمات کیساتھ دم کرنا شرعا جائز ہے،نیز نبی کریم ﷺ یا دیگر انبیاء کرام اور اور اولیاء کرام کے وسیلہ سے دعا اور دم کرنا بھی شرعا جائز ہے،لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ الفاظ( يا الهي بحرمة سيدنا عثمان بن عفان) کیساتھ دم کرنا شرعا جائز ہے ،اس میں کوئی حرج نہیں ،کیونکہ اس کامعنی معلوم اور درست ہے ۔
كما في قوله تعالى:
 يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ.
(سورة المائدة،آية 35)
وفي تفسير روح المعاني:
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ.
وبعد هذا كله أنا لا أرى بأسا في التوسل إلى الله تعالى بجاه النبي صلّى الله عليه وسلّم عند الله تعالى حيا وميتا.... بقي هاهنا أمران الأول أن التوسل بجاه غير النبي صلّى الله عليه وسلّم لا بأس به أيضا إن كان المتوسل بجاهه مما علم أن له جاها عند الله تعالى كالمقطوع بصلاحه وولايته.
(سورة المآئدة،آية 35،ج3،ص297،ط:دارالكتب العلمية)
وفي صحيح البخاري:
حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ المُثَنَّى، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ، كَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَى بِالعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ فَقَالَ:"اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا"قَالَ: فَيُسْقَوْنَ.
(بَابُ ذِكْرِ العَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،ج5،ص20،ط:دارطوق النجاة)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب