نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ جو شكار تیز دھار آلہ جيسے تير سے نہ کیا گیا ہو ،اور شکار ذبح کرنے سے پہلے مر جائے تو وہ شکار حلال نہ ہو گا۔
لہذا صورت مسئولہ میں گولی سے شکار کیا ہے اور شکار ذبح کرنے سے پہلے مر گیا ہے ،لہذا اس کا کھانا حلال نہ ہوگا کیونکہ گولی میں تیز دھار نہیں ہوتی اور شکار گولی کی قوت اور دباؤ کی وجہ سے مرتا ہے ، تاہم اگر چھرا یا گولی نوک دار ہو تو اس کا حکم تیر کی طرح ہے، یعنی اگر بسم اللہ کہہ کر ماری جائےاور شکار كو لگ كر شكار گم ہو جائے ،اور اس کو مسلسل تلاش کرتا رہے ،اور اس حالت میں پائے کہ ا س پر زخم کے اثرات بھی موجود ہوں ، اگروہ مرابھی ہو تب بھی وہ شکار حلال ہوگا ،کیونکہ اس طرح کی گولی یا چھرا شکار کوتیر کی طرح زخمی کرتا ہے،لیکن اگر تلاش درمیان میں چھوڑ دی پھر اس کے بعد وہ شکار مردہ حالت میں مل جائے تو اس صورت میں وہ شکار حلال نہ ہوگا۔
کما في الدر المختار مع رد المختار:
قَتَلَهُ مِعْرَاضٌ بِعَرْضِهِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (أَوْ بُنْدُقَةٍ ثَقِيلَةٍ ذَاتِ حِدَّةٍ) لِقَتْلِهَا بِالثِّقَلِ لَا بِالْحَدِّ۔
(كتاب الصيد،ج:6،ص:471،ط: دار الفكر-بيروت)
وفي رد المحتار:
وَالْأَصْلُ أَنَّ الْمَوْتَ إذَا حَصَلَ بِالْجُرْحِ بِيَقِينٍ حَلَّ؛ وَإِنْ بِالثِّقَلِ أَوْشَكَ فِيهِ فَلَا يَحِلُّ حَتْمًا أَوْ احْتِيَاطًا اهـ. وَلَا يَخْفَى أَنَّ الْجُرْحَ بِالرَّصَاصِ إنَّمَا هُوَ بِالْإِحْرَاقِ وَالثِّقَلِ بِوَاسِطَةِ انْدِفَاعِهِ الْعَنِيفِ إذَا لَيْسَ لَهُ حَدٌّ فَلَا يَحِلُّ.
(كتاب الصيد،ج:6،ص:471،ط: دار الفكر-بيروت)
وفي فتاوی قاضي خان:
قَالَ قَاضِي خَانْ: لَا يَحِلُّ صَيْدُ الْبُنْدُقَةِ وَالْحَجَرِ وَالْمِعْرَاضِ وَالْعَصَا وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ وَإِنْ جَرَحَ؛ لِأَنَّهُ لَا يَخْرِقُ إلَّا أَنْ يَكُونَ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ قَدْ حَدَّدَهُ وَطُولُهُ كَالسَّهْمِ وَأَمْكَنَ أَنْ يَرْمِيَ بِهِ؛ فَإِنْ كَانَ كَذَلِكَ وَخَرَقَهُ بِحَدِّهِ حَلَّ أَكْلُهُ، فَأَمَّا الْجُرْحُ الَّذِي يُدَقُّ فِي الْبَاطِنِ وَلَا يَخْرِقُ فِي الظَّاهِرِ لَا يَحِلُّ لِأَنَّهُ لَا يَحْصُلُ بِهِ إنْهَارُ الدَّمِ...وَفِي التَّبْيِينِ:وَالْأَصْلُ أَنَّ الْمَوْتَ إذَا حَصَلَ بِالْجُرْحِ بِيَقِينٍ حَلَّ؛ وَإِنْ بِالثِّقَلِ أَوْشَكَ فِيهِ فَلَا يَحِلُّ حَتْمًا أَوْ احْتِيَاطًا اهـ. وَلَا يَخْفَى أَنَّ الْجُرْحَ بِالرَّصَاصِ إنَّمَا هُوَ بِالْإِحْرَاقِ وَالثِّقَلِ بِوَاسِطَةِ انْدِفَاعِهِ الْعَنِيفِ إذَا لَيْسَ لَهُ حَدٌّ فَلَا يَحِلُّ. وَبِهِ أَفْتَى ابْنُ نُجَيْمٍ.
(کتاب الصیدوالذبائح،ج:3،ص:249،ط:قدیمی کتب خانه)
وفي الموسوعة الفقهيه:
مِنْ شَرَائِطِ الِاصْطِيَادِ۔۔۔۔۔وَإِذَا تَوَارَى الْكَلْبُ وَالصَّيْدُ عَنْ الْمُرْسِلِ ثُمَّ وَجَدَهُ بَعْدَوَقْتٍ، وَقَدْ قَتَلَهُ فَهَذَا عَلَى وَجْهَيْنِ: إمَّا أَنْ لَا يَتْرُكَ الطَّلَبَ حَتَّى وَجَدَهُ كَذَلِكَ وَالْكَلْبُ عِنْدَهُ...الخ
(الباب الرابع في بيان شرائط الصيد،ج:5،ص:422،ط: دار الفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔