سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-777 Fatwa no: 1448-777

بیٹی کو جائیداد کا مخصوص حصہ دے کر میراث سے دستبرداری کا وعدہ لینا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ(1) والد کا اپنی زندگی میں کسی بیٹی کو اپنی جائیداد میں سے مخصوص جگہ یا رقم وغیرہ دے کراس سے یہ وعدہ لینا کہ یہ حصہ آپ کی میراث کے بدلے میں ہے وفات کے بعد میراث میں تمہارہ کوئی حصہ نہیں ہوگا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ (2) میراث میں سے دستبرداری کے لئے میراث میں اپنا حصہ معلوم ہونا ضروری ہے یا نہیں ؟ اور دستبرداری کی جائز صورتیں کونسی ہیں؟ (3)دستبردار کے لئے میراث تقسیم کے بعد اپنا حصہ کسی وارث کو ہبہ کرنادرست ہے ؟یا تقسیم سے پہلے بھی کسی وارث کو اپنا حصہ ہبہ کرسکتاہے؟ (4)میراث تقسیم سے پہلے کسی وارث کا کسی ایک وارث کو کچھ رقم دیکر یہ کہنا کہ یہ رقم لے لو اور میراث میں اپنے حصے سے میرے حق میں دستبرار ہوجاؤ۔ (5)مشترک ترکہ سے کچھ حصہ لیکر باقی حصہ کسی وارث کے حق میں دستبردار ہونے سے اسی وارث کے حق میں دستبرار ہوگا یا تمام وارثوں کے حق میں ہوگا؟
جواب :

مذکورہ بالا سوالات کے ترتیب وارجوابات مندجہ ذیل ہیں۔
1)میراث کا تعلق مورث کی وفات کے بعدمورث کی ملکیت میں موجود ہر طرح کی منقولی و غیر منقولی جائیداد ،سازوسامان کے ساتھ ہوتا ہے،نیز مورث کی وفات سے پہلے مال و جائیداد وغیرہ کو تقسیم کرنا میراث نہیں ہوتا بلکہ ہبہ کےحکم میں ہوتا ہے،  لہذا اگر کوئی وارث  مورث کے فوت ہونے سے پہلے جائیداد میں سے کچھ لے کر دستبردارہوجائے تو ایسی دستبرداری شرعاً معتبر نہیں،اس دستبرداری کے بعد بھی مورث کے مرنے کے بعد اس کو میراث میں سے حصہ ملے گا ،بصورت مسئولہ اگر باپ نے اپنی بیٹیوں کو زندگی میں مخصوص جگہ یا رقم کا مالک بنا کر مکمل تصرفات کا اختیار دیا ہے تو وہ اس کی مالک ہیں ،ان میں والد کی  وفات کےبعدمیراث جاری نہیں ہوگی ،تاہم والد کی میراث میں سےان بیٹیوں کو حصہ ملے گا،البتہ اگر وہ والد کی وفات سے پہلے مخصوص رقم یا جگہ وغیرہ لے کر راضی تھیں تو ان کو چاہئے کہ میراث میں سے اپنا حصہ وصول کرنے کے بعد اپنی مرضی اور خوش دلی سے بھائیوں کو ہبہ کردیں ۔
2) ميراث سے دستبردار ہونے کے لئے میراث میں اپنا حصہ معلوم ہونا  کوئی ضروری نہیں،البتہ جس چیز کے بدلے دستبرداری اختیار کریں اس کا معلوم ہونا ضروری ہے۔
3)میراث تقسیم ہوجانے سےپہلےاپنا حصہ کسی وارث کو ہبہ کرنا جائزنہیں ہے،لہذا میراث تقسیم ہوجانے کےبعد اپنے حصے پر قبضہ کرنے کے بعد اپنا حصہ کسی  وارث کو ہبہ کرنا جائز ہے،کیونکہ یہ ہبہ ہے اورہبہ صحیح ہونے کے  لئے شئی موہوبہ  پر مالک کا قبضہ ہونا ضروری ہوتا ہے   ۔
4)میراث  کی تقسیم سے پہلے کسی وارث کا دوسرے سے پیسے لیکر اپنے حصے سے اس وارث کے حق میں دستبردار ہونا جائز  ہے۔
5)مشترک ترکہ میں سے کچھ حصہ لے کر باقی سے دستبرار ہونے کی صورت میں یہ باقی تمام ورثاء کے حق میں دستبرداری شمار ہوگی اور ان کے درمیان میراث کے بقدر حصص میراث تقسیم کیا جائے گا۔
سنن ابن ماجه:
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يقُولُ: «الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا صُلْحًا حَرَّمَ حَلَالًا، أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا».
(باب الصلح،۲/۷۸۸،دار إحياء الكتب العربية)
قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار:
الارث جبري لَا يسْقط بالاسقاط.
(باب التخالف،۸/۱۱۶:دارالفكر)
البحرالرائق:
الارث يثبت بعد موت المورث.
(۹/۳۶۴،دار الكتب العلمية بيروت)
بحوث في قضايا المعاصرة الفقهية:
ان الحقوق التي ليست ثابتة الآن، وانما هي متوقعة في المستقبل لايجوز الاعتياض عنها بصور من الصور، كحق الوراثة في حياة المورث ...الخ
(۱/۱۱۰،مكتبة معارف القرآن)
لسان الاحكام:
وَفِي جَامع الْفَتَاوَى وَلَو قَالَ تركت حَقي من الْمِيرَاث أَو بَرِئت مِنْهُ أَو من حصتي لَا يَصح وَهُوَ على حَقه لِأَن الْإِرْث جبري لَا يَصح تَركه...الخ
(۱/۲۳۶،القاهرة)
الفقه الاسلامي وادلته:
التخارج: هو أن يتصالح الورثة على إخراج بعضهم من الميراث، في مقابل شيء معلوم من التركة أو من غيرها.
(تعريف،۱۰/۷۹۱۵،دارالفكر)
الفتاوي الهندية:
إذا كانت التركة بين ورثة فأخرجوا أحدهما منها بمال أعطوه إياه والتركة عقار أو عروض صح قليلا كان ما أعطوه أو كثيرا وإن كانت التركة ذهبا فأعطوه فضة أو كانت فضة فأعطوه ذهبا فهو كذلك لأنه بيع الجنس بخلاف الجنس فلا يشترط التساوي ويعتبر التقابض في المجلس...الخ
(۴/۲۶۸،دارالفکر)
الاختيار لتعليل المختار:
الصُّلْحُ عَلَى أَرْبَعَةِ أَوْجُهٍ: مَعْلُومٌ عَلَى مَعْلُومٍ، وَمَجْهُولٌ عَلَى مَعْلُومٍ وَهُمَا جَائِزَانِ - وَقَدْ مَرَّ الْوَجْهُ فِيهِمَا، وَمَجْهُولٌ عَلَى مَجْهُولٍ، وَمَعْلُومٌ عَلَى مَجْهُولٍ وَهُمَا فَاسِدَانِ. فَالْحَاصِلُ أَنَّ كُلَّ مَا يَحْتَاجُ إِلَى قَبْضِهِ لَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ مَعْلُومًا ; لِأَنَّ جَهَالَتَهُ تُفْضِي إِلَى الْمُنَازَعَةِ، وَمَا لَا يَحْتَاجُ إِلَى قَبْضِهِ يَكُونُ إِسْقَاطًا وَلَا يَحْتَاجُ إِلَى عِلْمِهِ بِهِ  لِأَنَّهُ لَا يُفْضِي إِلَى الْمُنَازَعَةِ،.
(كتاب الصلح،۳/۶،القاهرة)
رد المحتار على الدر المختار:
(ولو أخرجوا واحدا) من الورثة (فحصته تقسم بين الباقي على السواء إن كان ما أعطوه من مالهم غير الميراث، وإن كان) المعطى (مما ورثوه فعلى قدر ميراثهم) يقسم بينهم.
قوله: قوله على السواء) أفاد أن أحد الورثة إذا صالح البعض دون الباقي يصح، وتكون حصته له فقط.
(فصل في التخارج،۵/۶۴۴،دارالفکر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026