سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-778 Fatwa no: 1448-778

بیٹی کو زکوۃ دینے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی کا داماد اور بیٹی دونوں انتہائی غریب ہیں شخص مذکور چاہتا ہے کہ داماد اور بیٹی کو زکوۃ کی مد سے کچھ دیدے ،لیکن اس کا داماد گھر سے دور ہے تو کیا شخص مذکور اپنی بیٹی کو زکوۃ سے سکتا ہے تاکہ وہ اپنی اولاد پر خرچ کرے ؟
جواب :

زکوۃ اپنے اصول و  فروع کو دینے سے ادا نہیں ہوتی لہذا  صورت مسئولہ میں شخص مذکور کا اپنی بیٹی کو زکوۃ دینا                     درست نہیں ،البتہ اگر داماد صاحب نصاب نہ ہو تو اس  کو زکوۃ   دینے سےزکوۃ ادا ہوجائے گی۔
كما في التبيين الحقائق:
وَقَوْلُهُ: بِشَرْطِ قَطْعِ الْمَنْفَعَةِ عَنْ الْمُمَلِّكِ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ احْتَرَزَ بِهِ مِنْ الدَّفْعِ إلَى فُرُوعِهِ، وَإِنْ سَفَلُوا، وَإِلَى أُصُولِهِ، وَإِنْ عَلَوْا،
(ج:1،ص:255،ط:القاهرة)
وفي الاختيار لتعليل المختار:
( ولا إلى من بينهما قرابة ولاد أعلى أو أسفل ) كالأب والجد والأم والجدة من الجانبين، والولد وولد الولد وإن سفل ، وهذا بالإجماع
(ج:1،ص:127،ط:بيروت)
وفي الردالمحتار:
(قَوْلُهُ فِي الْمَصَارِفِ) أَيْ الْمَذْكُورَةِ فِي آيَةِ الصَّدَقَاتِ إلَّا الْعَامِلَ الْغَنِيَّ فِيمَا يَظْهَرُ وَلَا تَصِحُّ إلَى مَنْ بَيْنَهُمَا أَوْلَادٌ أَوْ زَوْجِيَّةٌ وَلَا إلَى غَنِيٍّ أَوْ هَاشِمِيٍّ وَنَحْوِهِمْ...الخ
(ج:2،ص:369،ط:دار الفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026