سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-779 Fatwa no: 1448-779

سودی قرض سے تعمیر شدہ پلازہ کے مصلیٰ میں نماز پڑھنے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ہمارے یہاں قریب میں مسجدنہیں ہے یہاں ایک پلازہ ہے جس کے بارے میں بتلایا جاتا ہے کہ اس کے مالک بینک سے قرض لیکر پلازہ بنایاہے اور بینک کوقرض بمع سود واپس کیا ہے،اور اس پلازے میں ایک کمرہ جو نماز کے لئے مخصوص کیا گیا ہے اس کو مصلی کا درجہ دیا گیا ہے وہاں نماز کا اہتمام ہوتا ہے،وہاں نماز ادا کرنا کیسا ہے؟
جواب :

صورت مسئولہ میں پلازے کے مالک کا بینک سے قرض لی ہوئی رقم تو حلال ہے البتہ ادائیگی کی صورت   میں قرض پراضافی رقم دینا ناجائز اور حرام ہے،لہذا قرض لی ہوئی رقم چونکہ حلال ہے اس لئے اس رقم سے بنائے ہوئے مصلی میں نماز پڑھنا بھی جائز ہے ۔
كما وفي مصنف إبن أبي شيبة:
عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً، فَهُوَ رِبًا».
(مَنْ كَرِهَ كُلَّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً،ج:٤،ص:٣٢٧،ط:الرياض)
وفي التنوير شرح الجامع الصغير:
(كل قرض جر منفعة) للمقرض من المقترض. (فهو رباً) لأنه زيادة على ماله باطلة فلها حكم الربا في الإثم.
(كل قرض جر منفعة فهو رباً،ج:٨،ص:١٩٢،ط:الرياض)
وفي الميحط البرهاني:
وذكر الصدر الشهيد في «واقعاته» في باب العين من كتاب الهبة والصدقة رجل له أرض ساحة لا بناء فيها، أمر قوماً أن يصلوا فيها بجماعة، فهذا على ثلاثة أوجه: أما إن أمرهم بالصلاة فيها أبداً نصاً بأن قال: صلوا فيها أبداً أو أمرهم مطلقاً ونوي الأبد وفي هذين الوجهين صارت الساحة مسجداً لو مات لا يورث عنه، وأما إن وقت الأمر باليوم أو الشهر أو السنة وفي هذا الوجه لا تصير الساحة مسجداً لو مات تورث عنه.
(ج:3،ص:504،ط:دار إحياء التراث العربي)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026