نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںصورت مسئولہ میں پلازے کے مالک کا بینک سے قرض لی ہوئی رقم تو حلال ہے البتہ ادائیگی کی صورت میں قرض پراضافی رقم دینا ناجائز اور حرام ہے،لہذا قرض لی ہوئی رقم چونکہ حلال ہے اس لئے اس رقم سے بنائے ہوئے مصلی میں نماز پڑھنا بھی جائز ہے ۔
كما وفي مصنف إبن أبي شيبة:
عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً، فَهُوَ رِبًا».
(مَنْ كَرِهَ كُلَّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً،ج:٤،ص:٣٢٧،ط:الرياض)
وفي التنوير شرح الجامع الصغير:
(كل قرض جر منفعة) للمقرض من المقترض. (فهو رباً) لأنه زيادة على ماله باطلة فلها حكم الربا في الإثم.
(كل قرض جر منفعة فهو رباً،ج:٨،ص:١٩٢،ط:الرياض)
وفي الميحط البرهاني:
وذكر الصدر الشهيد في «واقعاته» في باب العين من كتاب الهبة والصدقة رجل له أرض ساحة لا بناء فيها، أمر قوماً أن يصلوا فيها بجماعة، فهذا على ثلاثة أوجه: أما إن أمرهم بالصلاة فيها أبداً نصاً بأن قال: صلوا فيها أبداً أو أمرهم مطلقاً ونوي الأبد وفي هذين الوجهين صارت الساحة مسجداً لو مات لا يورث عنه، وأما إن وقت الأمر باليوم أو الشهر أو السنة وفي هذا الوجه لا تصير الساحة مسجداً لو مات تورث عنه.
(ج:3،ص:504،ط:دار إحياء التراث العربي)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 26 Sep 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔