سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-780 Fatwa no: 1448-780

بینک میں متعین رقم جمع رکھنے پر قرعہ اندازی کے ذریعے حاصل ہونے والے انعام کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ بحرین میں" ILA BANK "کے سیونگ اکاؤنٹ میں ایک" AL KANZ" نام کا ایک اکاؤنٹ ہے اس میں پچاس بحرینی دینار جمع کروانے پر ایک قرعہ اندزی کا موقع ملتا ہے ،اور رقم کو متعین مدت تک اکاؤنٹ میں رکھنا ضروری ہوتا ہے تاکہ قرعہ اندازی میں شرکت کے اہل ہوں، اس اکاؤنٹ میں میں نے پیسے جمع کئے ہوئے ہیں،اس میں بینک نہ کوئی کٹوتی کرتا ہے اور نہ ہی کوئی منافع دیتا ہے،بلکہ مہینے بعد قرعہ اندازی کرکے اکاؤنٹ ہولڈرز کو انعام دیتا ہے مثلاً اگر تیس اکاونٹ ہولڈر ہیں ان میں جتنوں کا نام نکلے گا انعام ان کے درمیان برابر تقسیم ہوتاہے اور انعام کی مقدار بھی مقررنہیں ہے ،کیا بینک سے یہ انعام لینا جائز ہے یا نہیں؟ تنقیح:سائل سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ اکاؤنٹ میں رقم جمع کروانے والے کو کسی بھی قسم کا نفع نہیں دیا جاتا اور نہ ہی کبھی اس میں کٹوتی ہوتی ہے۔
جواب :

واضح رہے کہ قرض پر کسی بھی قسم کا مشروط و غیر مشروط نفع لینا شرعاً سود ہے  جو کہ  قرآن  مجید ،احادیث مبارکہ اور اجماع امت کی رو سےحرام ہے  ۔
صورت مسئولہ میں  جو رقم آپ نے بینک کے پاس قرعہ اندازی میں شرکت کے لئے متعین مدت تک جمع کروائی ہے وہ بینک کے  پاس  بطور  قرض  ہے ، اگر قرعہ اندازی میں  آپ کانام نکل آتا ہے تو یہ ایسا ہے جیساکہ قرض پر نفع لینا ،اور قرض پر نفع لینا سود ہے جو کہ ناجائز اور حرام  ہے ،لہذا آپ کابینک کی اس اسکیم کا حصہ بننا اورقرعہ اندازی  میں نکلنے والی رقم کا لیناشرعاً جائز نہیں ہے،اور نہ ہی اس مقصد کے لئے کسی ایسے اکاؤنٹ میں رقم جمع کرانا جائز ہے، اور دوسرا اس میں جوا کی صورت بھی پائی جاتی ہے ۔ 
كما في قوله تعالي:
وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبا.... (٢٧٥)َياأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ.(٢٧٨)
(سورة البقرة،٢٧٥،٢٧٨:٢)
وفي صحيح البخاري:
عن أبي هريرةَ رضيَ الله عنه عن النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - قالَ: "اجتَنِبوا السبْعَ الموبِقاتِ"، قالوا: يا رسولَ الله! وما هُن؛ قالَ: "الشَرْكُ باللهِ، والسحْرُ، وقَتْلُ النَفْسِ التي حَرمَ الله إلا بالحق، وأكلُ الربا، وأكلُ مالِ اليتيمِ، والتَوَلي يومَ الزَحْفِ، وقَذْفُ المُحْصَناتِ المؤمِناتِ الغافلاتِ".
(بابُ قولِ اللهِ تعالى: {إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى...الخ}.ج:٢،ص:٢٥٣،ط:الرياض)
وفي سنن أبي داؤد:
عبد الله بن مسعود عن أبيه، قال: لعن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- آكل الربا وموكله وشاهده وكاتبه.
(باب في آكل الربا وموكله،ج:٥،ص:٢٢٢،ط:دار الرسالة العالمية)
وفي سنن إبن ماجه:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا آكِلُ الرِّبَا، فَمَنْ لَمْ يَأْكُلْ أَصَابَهُ مِنْ غُبَارِهِ".
(باب التغليظ في الربا،ج:٣،ص:٣٨١،ط:دار الرسالة العالمية)
وفي الفقه الإسلامي:
الربا في اللغة: الزيادة،... وهو في الشرع: الزيادة في أشياء مخصوصة، وهذا تعريف الحنابلة.وعرفه في الكنز عند الحنفية بأنه: فضل مال بلا عوض في معاوضة مال بمال. ويقصد به فضل مال ولو حكما والربا محرم بالقرآن والسنة والإجماع.
(تعريف الربا وأدلة تحريمه،ج:٥،ص:٣٦٩٨،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026