سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-782 Fatwa no: 1448-782

بیوی ،بیٹی اور چار بیٹوں میں میراث کی تقسیم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک شخص وراثت میں 23 لاکھ 50ہزار روپے چھوڑ کر گیا ہے اس شخص کے ماں باپ کی وفات پہلے ہوچکی وارثوں میں ایک بیوی چار بیٹے اورایک بیٹی شامل ہے ان میں یہ رقم کیسے تقسیم ہو گی ؟شریعت کے مطابق رہنمائیں۔
جواب :

صورتِ مسئولہ میں میت کے ترکہ میں سب سے پہلے اس کے کفن دفن کے اخراجات نکالے جائیں گے، اس کے بعد اگر میت پر کسی کا قرضہ ہو یا بیوی کا مہر ادا نہ کیا ہو تو وہ ادا کیا جائے گا ، اس کے بعد اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے  لیے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال سے ادا کی جائے گی ،اس کے بعد مرحوم کے  باقی ماندہ ترکہ    اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ بیوی کو ثمن (آٹھواں حصہ ) ملے گا اور مابقیہ ترکہ بیٹی اور بیٹوں کے درمیان اس طرح تقسیم کیا جائے  گا کہ ہربیٹے کو بیٹی کا دگناملےگا،اس کی صورت یہ ہے کہ ترکہ    کے  کل بہتر(72)حصے بنائے جائیں جس میں سے بیوی کونو(9) حصے  ملیں گے  ،اورمابقیہ میں سے ہر ایک بیٹے کو چودہ  (14)اور  ہرایک بیٹی کو سات (7)حصے ملیں گےاس کا طریقہ یہ ہے کہ کل 23لاکھ50ہزار   روپےمیں سے  بیوی کو 293750 روپے دیئے جائیں گے اور بیٹی کو .16228472 روپے اور  ہر ایک بیٹے  کو .32456944 روپے دیئے جائیں گے ۔ 
كما في قوله تعالي:
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثيَيْن... (١١) فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ...(١٢).
(النساء،١١،١٢:٤)
وفي صحيح البخاري:
عن ابنِ عباس رضيَ الله عنهما قالَ: كانَ المالُ للوَلَدِ، وكانَتِ الوصيةُ للوالِدَيْنِ، فنَسَخَ الله من ذلك ما أحب، فجَعَل للذكَرِ مثلَ حَظ الأنثَيَيْنِ، وجعَلَ للأبوينِ لكل واحدٍ منهما السدُسَ، وجَعَلَ للمرأةِ الثمنَ والرْبعَ، وللزوجِ الشًطْرَ والربعَ.
(ج:٢،ص:٢٤٥،ط:الرياض)
وفي السراجي:
أحوال الزوجات: أما للزوجات فحالتان: الربع للواحدة فصاعدة عند عدم الولد وولد الابن وإن سفل، والثمن مع الولد أو ولدالابن وإن سفل.
(أحوال الزوجات،ص:١٨،ط:عشره مبشره)
وفيه أيضا:
أحوال بنات الصلب احوال البنت: واما لبنات الصلب فاحوال ثلاث:النصف للواحدة، والثلثان للاثنتين فصاعدة، ومع الابن للذكر مثل حظ الانثيين وهو يعصبهن.
(احوال البنات،ص:١٩،ط:عشره مبشره)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026