سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-783 Fatwa no: 1448-783

غصے کی حالت میں بیوی کو ایک طلاق دینے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ : میں محمد یوسف اس بات کا خلفاًاقرارکرتا ہوں کہ میں نےمؤرخہ 2025۔07۔10 کو سفر سے واپس آرہا تھا تو میں نے پانی کی جگہ پیپسی پی مجھے سرمیں درد ہوگیا چکرآنے لگے اسی دوران میری بیوی کی کال آئی ہم دولڑ پڑے میں نے اپنی بیوی کوان الفاظ سے"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" ایک طلاق دےدی اور رک گیا اوربیوی نے کال کاٹ دی اور والدین کے گھر چلی گئی ،برائے مہربانی قرآن وحدیث اور فقہ کے مطابق رہنمائی فرمائیں ؟
جواب :

صورت مسئولہ   میں اگر آپ کا بیان واقعی درست ہے تو آپ کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے ،جس کے بعد  عدت کے اندر رجوع کر سکتے ہیں ۔ 
كما قال الله تبارك وتعالی :
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ.
(سورة البقرة،229:2)
وفي تفسير الطبري:
أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَقُولُ: «إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً، أَوْ تَطْلِيقَتَيْنٍ، فَهُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا، وَبَيْنَهُمَا الْمِيرَاثُ مَا لَمْ تَغْتَسِلْ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ».
(ج:4،ص93،ط: دار هجر للطباعة والنشر والتوزيع والإعلان)
وفي سنن أبي داؤد:
عن ابن عباس:{والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء ولا يحل لهن أن يكتمن ما خلق الله في أرحامهن} [البقرة: 228] الآية, وذلك أن الرجل كان إذا طلق امرأته فهو أحق برجعتها وإن طلقها ثلاثا، فنسخ ذلك، وقال: {الطلاق مرتان} [البقرة: 229].
(باب نسخ المراجعة بعد التطليقات الثلاث،ج:3،ص:517،ط:دار الرسالة العالمية)
وفي القدوري:
إذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها.
(باب الرجعة،ج:1،ص:159،ط: دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026