سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-81 Fatwa no: 1447-81

حکومتی مفت پٹرول کو دوسری گاڑی میں استعمال یا فروخت کرنے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایران میں حکومت کی طرف سے گھر کے اعتبار سےایک گاڑی کو جس کا تیل کارڈ بنا ہو،ان کو 20 لیٹر پٹرول فری ملتا ہےاب ایک شخص کی دو گاڑیاں ہیں اور وہ اس ايك گاڑی سے تیل نکال کر اس دوسری گاڑی میں استعمال کرے ،جس کا تیل کارڈ نہیں بنا ہے ،تو کیا اس شخص کیلئے یہ تیل استعمال کرنا جائز ہے؟ نیز اگر وہ شخص رجسٹرڈ گاڑی سے تیل نکال کر آگے فروخت کرے تو کیا شرعا اس طرح کرناجائز ہے یا نہیں ؟
جواب :

صورت مسئولہ میں اگر حکومت کی طرف سے فری ملنے والے تیل کو دوسری گاڑی میں استعمال کرنے اور آگےبیچنے کی ممانعت نہ ہو،تو اس صورت میں اس تیل کو دوسری گاڑی( جس کا تیل کارڈ نہ بنا ہو ) میں استعمال کرنا اور اسی طرح اس کو بیچنا شرعا جائز ہے ،لیکن اگر حکومت کی طرف سے اجازت نہ ہو ،تو پھر دوسری گاڑی میں اس تیل کو استعمال کرنا یا بیچنا شرعا جائز نہیں ہے اور عموما ً یہ اجازت نہیں ہوتی۔
كما في قوله تعالى:
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ 
فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا.
(سورة النساء،آية 59)
وفي زهرة التفاسير:
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا.
وهذا الحكم يعنى وجوب إطاعة الأمير مختص بما لم يخالف امره الشرع يدل عليه سياق الآية فان الله تعالى امر الناس بطاعة اولى الأمر بعد ما أمرهم بالعدل فى الحكم تنبيها على ان طاعتهم واجبة ما داموا على العدل ونصّ على ذلك فيما بعد فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ.
(سورة النساء،آية 59،ج2،ص152،ط: مكتبة الرشدية)
وفي ردالمحتار على الدرالمختار:
قال فى الظهيرية.....قال فى المعراج لأن طاعة الإمام فيما ليس بمعصية واجبة.
(مطلب تجب طاعة الإمام فيما ليس بمعصية،ج2،ص172،ط:دارالفكر)
وفيه أيضا:
(قوله: أمر السلطان إنما ينفذ) أي يتبع ولا تجوز مخالفته وسيأتي قبيل الشهادات عند قوله أمرك قاض بقطع أو رجم إلخ التعليل بوجوب طاعة ولي الأمر وفي ط عن الحموي أن صاحب البحر ذكر ناقلا عن أئمتنا أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة فلو أمر بصوم وجب وقدمنا أن السلطان لو حكم بين الخصمين ينفذ في الأصح وبه يفتى.
(مطلب طاعة الإمام واجبة،ج5،ص422،ط:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب