نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ پنشن حکومت یا ادارے کی طرف سے عطیہ ہوتی ہے ،جس شخص کے نام جاری ہوتی ہے وہی اس کا مالک ہوتا ہے ،لہذا اگر وہ شخص خود موجود ہو تو اسی کو ملے گی اور اس کے مرنے کے بعد پنشن میں میراث جاری نہیں ہوگی ،بلکہ حکومت یا ادارہ جس کے نام جاری کرے گا وہی اس کا مالک ہوگا۔
بصورت مسئولہ آپ کی بہن کی وفات کے بعداگر اس کی پنشن حکومت اس کے شوہر کے نام جاری کر رہی ہے ۔تو وہی اس کا مالک ہوگا، اس میں اس کے ساتھ باقی ورثاء شریک نہیں ہوں گے،اورجہاں تک بیٹیوں کے نان و نفقہ اور دیگر اخراجات کا تعلق ہے ،تو وہ باپ پر لازم ہے کیونکہ بیٹیوں کے نان و نفقہ اور دیگر اخراجات کی ذمہ داری شادی سے پہلے باپ پر ہوتی ہے، اگر پنشن حکومت نے بیٹیوں کے نام جاری کی ہو تو اس کی حقدار صرف بیٹیاں ہوں گی باپ کا اس میں کوئی حق نہیں ہوگا۔
كما في الاشباه والنظائر:
العطاء لا يورث عنه.
(ج:١،ص:٢٥٦،ط:دارالكتب العلمية)
وفي النهاية في شرح الهداية:
والتركة في اصطلاح الفقهاء: (ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من المال) هذا ما عرفها به الحنفية.
(ج:٢٥.ص:١١٤،ط:شامله)
وفي الدر المختار:
(وكذا) تجب (لولده الكبير العاجز عن الكسب) كأنثى مطلقا وزمن ومن يلحقه العار بالتكسب وطالب علم لا يتفرغ لذلك، كذا في الزيلعي والعيني.
وتحته في رد المحتار: (قوله كأنثى مطلقا) أي ولو لم يكن بها زمانة تمنعها عن الكسب فمجرد الأنوثة عجز إلا إذا كان لها زوج فنفقتها عليه ما دامت زوجة.
(ج:3،ص:614،ط:دارالفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔