سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-784 Fatwa no: 1448-784

مرحومہ سرکاری ملازمہ کی پنشن میں شوہر اور بیٹیوں کے شرعی استحقاق کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ میری بہن محکمہ تعلیم میں سرکاری ٹیچر تھی چھ سال قبل اس کا انتقال ہوااس کی دو بیٹیاں ہیں جو اب جوان ہیں میں بیرون ملک ہوتا ہوں سسرال والوں نے میری بہن کو تنگ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گھر کا سارا کام وہی کرتی تھی حتی کہ جب اسکول سے گھر آتی تو سسرال والوں نے سارا کام اس کے لئے بچا کے رکھا ہوتا کہ وہی آ کر کرے گی میری بہن ایک صابرہ شاکرہ عورت تھی بعد میں میری بہن اور اس کا خاوند ایک کرائے کے مکان میں رہنے لگے خاوند بھی ایک غیر ذمہ دار انسان ہے،وہ مچھلیاں بیچتا ہے اور کپڑے سلائی کا کام بھی کرتا ہے اس کے باوجود خاوند کی اور سسرال والوں کی نظر ہمیشہ ہماری بہن کی کمائی پر ہی ہوتی تھی کہ کسی طرح اس کی کمائی سے ہی گھر کا خرچ چلےمکان کا کرایہ بھی ہماری بہن ہی دیتی تھی اس کے علاوہ بھی ہماری بہن نے بہت سے کاموں میں اپنا پیسہ خاوند پر اور سسرال والوں پر خرچ کیا وفات سے پانچ سال قبل بہن کو فالج ہوا تھا اور اس کے علاج پر ہم نے رقم خرچ کی خاوند نے اس کے لئے کچھ نہیں دیا تھا جو تیس چالیس ہزار علاج پر خرچ کیے وہ بھی ریٹائرمنٹ والی رقم کی تقسیم کے وقت (6 لاکھ) کے ساتھ واپس لے لیے (شریعت میں بیوی خاوند کی اجازت کے بغیر کوئی جاب وغیرہ نہیں کر سکتی) لیکن چونکہ خاوند غیر ذمہ دار تھا اور اخراجات کے معاملے میں غیر سنجیدہ تھا اس لئے میری بہن نے جاب کرنے میں ہی بہتری سمجھی گھر کے اکثر اخراجات وہ خودہی کرتی تھی،میری بہن ریٹائرمنٹ سے تین سال پہلے انتقال کر گئی اور ریٹائرمنٹ پر جو اکٹھی رقم حکومت کی طرف سے ملنی تھی وہ ہم نے بہن کے انتقال کے تین سال بعد لی جس میں سے 6 لاکھ بہن کے خاوند نے لیے اور اس نے اتنا بھی گوارا نہ کیا کہ یہ 6 لاکھ بھی بیٹیوں کو ہی دے دےباقی لگ بھگ 13 لاکھ بیٹیوں کو ملادونوں بیٹیاں اپنی مرضی اور خوشی سے ننھیال میں رہتی ہیں اور ہم بھی ان پر خرچ کرتے رہتے ہیں تاکہ بیٹیوں کی اپنی رقم بینک میں محفوظ رہے اور بوقت ضرورت ان کے کام آئےاب معاملہ جو آپ سے پوچھنا ہے وہ ماہانہ پنشن کا ہے،بہن کے انتقال کے بعد خاوند ساری پنشن ہڑپ کرنا چاہتا تھا کیونکہ پنشن کے کاغذات پر بہن کے خاوند کے دستخط ہوتے ہیں تو ملتی ہے اس لئے وہ اپنے آپ کو ساری پنشن کا مالک سمجھ بیٹھا جبکہ میں نے گواہوں کی موجودگی میں فیصلہ کروایا کہ 10 ہزار تم لے لو اور باقی بیٹیوں کو دو،یہ فیصلہ کروا کے میں بیرون ملک واپس چلا گیا اور خاوند نے پیچھے سے پھر اپنی مرضی شروع کر دی،یعنی اگر بیٹیاں اس سے پوچھتیں کہ ابو پنشن کتنی ہے تو وہ بات چھپانے کی کوشش کرتا اور پنشن میں سالانہ اضافہ ہونے پر جب بیٹیاں پوچھتیں تو وہ اصل رقم نہ بتاتا،میں نے اس کا10 ہزار طے کروایا تھا لیکن وہ ہٹ دہرم انسان ہے 10 ہزار سے زیادہ لیتا رہا اور بیٹیوں کو ٹرخاتا رہا،بہن کے خاوند نے بیٹیوں کو اپنی مچھلیوں اور سلائی کی کمائی سے کبھی کچھ نہیں دیا حتی کہ بیٹیوں کے مانگنے پر عیدی بھی نہیں دی اور ہماری بہن کی پنشن کی رقم بیٹیوں کو دے کر ان پر احسان جتلاتا ہے۔ براہ مہربانی یہ بتائیں کہ ایسی صورت میں پنشن میں کس کس کا کتنا کتنا حصہ بنتا ہے؟
جواب :

واضح رہے کہ پنشن حکومت یا ادارے کی طرف سے عطیہ ہوتی ہے ،جس شخص کے نام  جاری  ہوتی ہے وہی اس کا مالک ہوتا ہے ،لہذا اگر وہ شخص خود موجود ہو تو اسی کو ملے گی اور اس کے مرنے کے بعد پنشن میں میراث جاری نہیں ہوگی ،بلکہ حکومت یا ادارہ جس کے نام جاری کرے گا وہی اس کا مالک ہوگا۔
بصورت مسئولہ آپ کی بہن  کی وفات کے بعداگر  اس کی پنشن حکومت اس کے شوہر کے نام جاری کر رہی ہے ۔تو  وہی اس کا مالک ہوگا،  اس میں اس کے ساتھ باقی ورثاء شریک نہیں ہوں گے،اورجہاں تک بیٹیوں کے نان و نفقہ  اور دیگر اخراجات کا تعلق ہے ،تو وہ باپ پر لازم ہے کیونکہ بیٹیوں  کے نان و نفقہ اور دیگر اخراجات کی ذمہ داری شادی سے پہلے  باپ پر ہوتی ہے، اگر پنشن حکومت نے بیٹیوں کے نام جاری کی ہو تو اس کی حقدار صرف بیٹیاں ہوں گی  باپ کا اس میں کوئی حق نہیں ہوگا۔
كما في الاشباه والنظائر:
العطاء لا يورث عنه.
(ج:١،ص:٢٥٦،ط:دارالكتب العلمية)
وفي النهاية في شرح الهداية:
والتركة في اصطلاح الفقهاء: (‌ما ‌تركه ‌الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من المال) هذا ما عرفها به الحنفية.
(ج:٢٥.ص:١١٤،ط:شامله)
وفي الدر المختار:
(وكذا) تجب (لولده الكبير العاجز عن الكسب) كأنثى مطلقا وزمن ومن يلحقه العار بالتكسب وطالب علم لا يتفرغ لذلك، كذا في الزيلعي والعيني.
وتحته في رد المحتار: (قوله كأنثى مطلقا) أي ولو لم يكن بها زمانة تمنعها عن الكسب فمجرد الأنوثة عجز إلا إذا كان لها زوج فنفقتها عليه ما دامت زوجة.
(ج:3،ص:614،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026