نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ جب حمل ایک سو بیس دن(چارماہ) کا ہوجائے اس کے بعد اسقاط حمل جائز نہیں ،کیونکہ چار ماہ بعد بچے کے اعضاء مکمل ہوجاتے ہیں اور اس میں روح ڈال دی جاتی ہے وہ مثل زندہ کے ہوتا ہے،البتہ چار ماہ سے کم کے حمل کو عذر کی وجہ سے ساقط کرنا جائز ہے۔
صورت مسئولہ میں حمل پانچ ماہ کا ہے،لہذا اس کا اسقاط کرنا جائز نہیں ،کیونکہ عورت کی جان جانے کا صرف گمان ہے یقینی علم نہیں جبکہ اس صورت میں بچے کا ضیاع یقینی ہے۔
رد المحتار على الدر المختار:
ويكره أن تسقى لإسقاط حملها ... وجاز لعذر حيث لا يتصور
وفي تحته: (قوله وجاز لعذر) كالمرضعة إذا ظهر بها الحبل وانقطع لبنها وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاك الولد قالوا يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة ولم يخلق له عضو وقدروا تلك المدة بمائة وعشرين يوما، وجاز لأنه ليس بآدمي وفيه صيانة الآدمي خانية.
(۶/۴۲۹،دارالفکر)
الفتاوي الهندية:
وإن أسقطت بعد ما استبان خلقه وجبت الغرة كذا في فتاوى قاضي خان.... امرأة مرضعة ظهر بها حبل وانقطع لبنها وتخاف على ولدها الهلاك وليس لأبي هذا الولد سعة حتى يستأجر الظئر يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفة أو مضغة أو علقة لم يخلق له عضو وخلقه لا يستبين إلا بعد مائة وعشرين يوما أربعون نطفة وأربعون علقة وأربعون مضغة كذا في خزانة المفتين.
(۵/۳۵۶،دارالفکر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔