سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-785 Fatwa no: 1448-785

پانچ ماہ کے حمل کو شدید بیماری کی صورت میں ساقط کرنے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک عورت کے حمل کو پانچ مہینے گزرگئے ہیں اب اس کو شدید مرض لاحق ہوا ہے ،جبکہ ڈاکٹر بھی حمل کو ضائع کروانے کا مشورہ دے رہے ہیں ،تو کیا اس کے لئے اسقاط حمل کی گنجائش ہے؟
جواب :

واضح رہے کہ جب حمل ایک سو بیس دن(چارماہ) کا ہوجائے اس کے بعد اسقاط حمل جائز نہیں ،کیونکہ چار ماہ بعد بچے کے اعضاء مکمل ہوجاتے ہیں اور اس میں روح ڈال دی جاتی ہے وہ مثل زندہ کے ہوتا ہے،البتہ چار ماہ سے کم کے حمل کو عذر کی وجہ سے ساقط  کرنا جائز ہے۔
صورت مسئولہ میں حمل پانچ ماہ کا ہے،لہذا اس کا اسقاط کرنا جائز نہیں ،کیونکہ عورت  کی جان جانے کا صرف گمان ہے یقینی علم نہیں جبکہ اس صورت میں بچے کا ضیاع یقینی ہے۔
رد المحتار على الدر المختار:
ويكره أن تسقى لإسقاط حملها ... وجاز لعذر حيث لا يتصور
وفي تحته: (قوله وجاز لعذر) كالمرضعة إذا ظهر بها الحبل وانقطع لبنها وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاك الولد قالوا يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة ولم يخلق له عضو وقدروا تلك المدة بمائة وعشرين يوما، وجاز لأنه ليس بآدمي وفيه صيانة الآدمي خانية.
(۶/۴۲۹،دارالفکر)
الفتاوي الهندية:
وإن أسقطت بعد ما استبان خلقه وجبت الغرة كذا في فتاوى قاضي خان.... امرأة مرضعة ظهر بها حبل وانقطع لبنها وتخاف على ولدها الهلاك وليس لأبي هذا الولد سعة حتى يستأجر الظئر يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفة أو مضغة أو علقة لم يخلق له عضو وخلقه لا يستبين إلا بعد مائة وعشرين يوما أربعون نطفة وأربعون علقة وأربعون مضغة كذا في خزانة المفتين.
(۵/۳۵۶،دارالفکر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026