نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںمذکورہ سوالوں کے جوابات درج ذیل ہیں،اگر سوالات میں مستفتی نے کسی قسم کی غلط بیانی سے کام لیا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہوگا ۔
1)احادیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرے ،لہذا آپکے بھائی کا اپنی والدہ،بہن اور بھائیوں کے ساتھ قطع تعلقی کرنا شرعاًجائز نہیں ہے ،آپ کے بھائی پر لازم ہے آپ سب کے ساتھ اپنی ناراضگی ختم کرکے حسنِ سلوک سے پیش آئے۔
2)اگر واقعتاپرانے امام صاحب نمازوں اور بچوں کی تعلیم میں کوتاہی سے کام لیتے تھے اوراپنی ذمہ داری کوصحیح طریقے سے پورا نہیں کرتے تھے ،تو اس صورت میں امام صاحب کو معزول کرکے دوسرا امام رکھنا شرعا جائز ہے ،تاکہ نمازوں کا اہتمام ہوسکے اور بچوں کا تعلیمی حرج بھی نہ ہو،تاہم اس مسئلہ میں محض سنی سنائی باتوں پر اعتماد نہیں کرنا چاہیئے،بلکہ بہتر یہ ہے کہ پرانے امام صاحب کو اچھے انداز کے ساتھ متوجہ کیا جائے اور اگر وہ اپنی کمی کوتاہی کو دور کر لیتے ہیں تو انہیں برقراررکھا جائے،نیز والدہ کا اپنے بیٹے کو اس امام کے علاوہ کسی اور کے پیچھے نماز ادا کرنےپر زبردستی کرنا بھی شرعاً جائز نہیں ،اور اگر کوئی اور شرعی خامی موجود نہ ہوتو ایسے امام کے پیچھے نماز ادا کرنادرست ہے ۔
3)پرانے امام صاحب کا مسجد کے ساتھ متصل حصہ جو مسجد کی توسیع کے لئے تعمیر کیا ہے اس میں نماز جمعہ ادا کرنے سے نماز جمعہ توادا ہوجائےگی، البتہ بہتر یہ کہ جس مسجد میں جمعہ پہلے ہوتاآرہاہے اسی میں ادا کیا جائے تاکہ جماعت بڑی ہو، کیونکہ احادیث مبارکہ میں کثرت جماعت کی بہت فضیلت آ ئی ہے ۔
کما في صحيح البخاري:
عَنْ أَنَسِ بْنِ مالِكٍ رَضِيَ الله عنه: أَنَّ رسولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - قالَ: "لا تَبَاغَضُوا، وَلا تحَاسَدُوا، ولا تَدابَرُوا، وَكُونُوا عِبادَ اللهِ إِخْواناً، ولا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثلاثَةِ أَيّامٍ.
(باب ما يُنْهَى عَنِ التَّحَاسُدِ وَالتَّدابُرِ،ج:٤،ص:٧٨،ص:الرياض)
وفي معرفة السنن والآثار:
قَالَ: وَكُلَّمَا كَثُرَتِ الْجَمَاعَةُ مَعَ الْإِمَامِ كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ وَأَقْرَبَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الْفَضْلِ.
(ج:٤،ص:١١٥،ط:جامعة الدراسات الإسلامية)
وفي المبسوط للسرخسي:
(وَتَكْثِيرُ الْجَمَاعَةِ مَنْدُوبٌ إلَيْهِ) قَالَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ -: «صَلَاةُ الرَّجُلِ مَعَ اثْنَيْنِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهِ وَحْدَهُ وَصَلَاتُهُ مَعَ الثَّلَاثَةِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهِ مَعَ اثْنَيْنِ وَكُلَّمَا كَثُرَتْ الْجَمَاعَةُ فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ أَفْضَلُ»، وَفِي تَقْدِيمِ الْمُعَظَّمِ تَكْثِيرُ الْجَمَاعَةِ فَكَانَ أَوْلَى.
(ج:1،ص:40،ط:دارالمعرفة بيروت)
وفي مجلة الأحكام العدلية:
(الْمَادَّةُ 425): الْأَجِيرُ يَسْتَحِقُّ الْأُجْرَةَ إذَا كَانَ فِي مُدَّةِ الْإِجَارَةِ حَاضِرًا لِلْعَمَلِ وَلَا يُشْرَطُ عَمَلُهُ بِالْفِعْلِ وَلَكِنْ لَيْسَ لَهُ أَنْ يَمْتَنِعَ عَنْ الْعَمَلِ وَإِذَا امْتَنَعَ لَا يَسْتَحِقُّ الْأُجْرَةَ.
(الْبَابُ الْأَوَّلُ فِي بَيَانِ الضَّوَابِطِ الْعُمُومِيَّةِ،ج:١،ص:٩٣،ط:نورمحمد)
وفي درر الحكام شرح مجلة الأحكام:
الْأَجِيرَ الْخَاصَّ لَا يُمْكِنُهُ أَنْ يَعْمَلَ عَمَلًا لِغَيْرِ الْمُسْتَأْجِرِ قَبْلَ انْقِضَاءِ الْمُدَّةِ الَّتِي اُسْتُؤْجِرَ فِيهَا؛ لِأَنَّ الِانْتِفَاعَ بِعَمَلِهِ فِي تِلْكَ الْمُدَّةِ لِلْمُسْتَأْجِرِ وَلَا يَجُوزُ تَمْلِيكُ الْمَنَافِعِ الْعَائِدَةِ إلَيْهِ لِغَيْرِهِ.
(الْمَادَّةُ 422) الْأَجِيرُ عَلَى قِسْمَيْنِ،ج:١،ص:٤٥٤،ط:دار الجيل)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔