سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-786 Fatwa no: 1448-786

پانچ وقت نمازوں اور بچوں کی دینی تعلیم میں سستی کرنے والے امام کو معزول کرنے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ہم آٹھ بھائی اور چار بہنیں ہیں،ہمارے محلہ میں ہم نےعرصہ پچیس سال قبل مسجد بنائی تھی اس میں پانچ وقت نمازوں اور بچوں کو پڑھانے کے لئے امام مقرر کیا تھا،امام صاحب نے عرصہ چار پانچ سال سے ظہر کی نماز اور بچوں کی پڑھائی چھوڑ دی ہے جس کی وجہ سے محلے کے مقتدی امام صاحب سے ناراض ہیں ،اہل محلہ کی اکثریت نے امام صاحب کو ہٹانے کا جواب دیا ہے جس کی وجہ سے امام نے مقتدیوں کے درمیان ٪90 اختلاف اور شرارت کی باتیں شروع کی ہیں ہمارے آٹھ بھائیوں میں سے ایک بھائی امام صاحب کا ساتھ دے رہا ہے جس کی وجہ سے ہمارے درمیان اختلاف رہتا ہے ،والدہ نے بھائی کو بہت سمجھایا ہے مگر بھائی والدہ کی بات نہیں مانتا اور والدہ، بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ قطع تعلقی شروع کی ہے مسئلہ یہ یوچھنا ہے کہ ۔ 1) بھائی والدہ ،بہن بھائیوں کے ساتھ قطع تعلقی کرکے امام صاحب کا ساتھ سے رہاہے اس کا ایسا کرنا شریعت کی رو سے کیسا ہے ؟ جبکہ والدہ بھائی کو کہتی ہے کہ اس امام کے علاوہ دوسرے امام کی امامت میں نماز پڑھے مگر بھائی نہیں مانتا ہے ۔ 2)ہم سات بھائیوں اور دیگر اہل محلہ نے ملکر ایک نیا امام پانچ نمازوں اور بچوں کے پڑھائی کے کئے مقرر کیا ہے یہ فیصلہ ازروئے شریعت کیسا ہے؟ کیونکہ پہلے والے امام صاحب کے اندر یہ شرعی نقص تھے کہ وہ پانچ وقت کی نمازوں اور بچوں کی دینی تعلیم میں غیر حاضری کرتے تھے اور اکثریت مقتدی بھی امام تبدیلی کا مطالبہ کرتے تھے۔ 3)پرانا امام مسجد سےمتصل مسجد کی توسیع کی غرض سے کچھ حصہ تعمیر کیا ہوا ہے اس میں محلہ کی لوگوں کے ساتھ جمعہ اداکرتا ہے اور ہم اور اکثر اہل محلہ نئے امام کے ساتھ پرانی مسجد میں پانچ وقت نماز اور جمعہ ادا کرتے ہیں یہ دو جمعہ قریب قریب مساجد میں ہورہے ہیں ،ان کا شرعی حکم بیان فرمائیں۔
جواب :

مذکورہ سوالوں کے جوابات درج ذیل ہیں،اگر سوالات میں مستفتی نے کسی قسم کی غلط بیانی سے کام لیا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہوگا ۔
1)احادیث مبارکہ  کا مفہوم ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرے ،لہذا آپکے بھائی کا اپنی والدہ،بہن  اور بھائیوں کے ساتھ قطع تعلقی کرنا  شرعاًجائز نہیں ہے ،آپ کے بھائی پر لازم ہے آپ سب کے ساتھ اپنی ناراضگی ختم کرکے حسنِ سلوک سے پیش آئے۔
2)اگر واقعتاپرانے امام صاحب نمازوں اور بچوں کی تعلیم میں کوتاہی سے کام لیتے تھے  اوراپنی ذمہ داری کوصحیح طریقے سے پورا نہیں کرتے تھے ،تو اس صورت میں  امام صاحب کو معزول کرکے دوسرا امام رکھنا شرعا جائز ہے ،تاکہ  نمازوں کا اہتمام ہوسکے اور بچوں کا تعلیمی حرج بھی نہ ہو،تاہم اس مسئلہ میں محض سنی سنائی باتوں پر اعتماد نہیں کرنا چاہیئے،بلکہ بہتر یہ ہے کہ پرانے امام صاحب کو اچھے انداز  کے ساتھ متوجہ کیا جائے اور اگر وہ اپنی کمی کوتاہی کو دور کر لیتے ہیں تو انہیں برقراررکھا جائے،نیز والدہ کا اپنے بیٹے کو اس امام کے علاوہ کسی اور کے پیچھے نماز ادا کرنےپر زبردستی کرنا بھی شرعاً جائز نہیں ،اور اگر کوئی اور شرعی خامی موجود نہ ہوتو ایسے امام کے پیچھے نماز ادا کرنادرست ہے ۔
 3)پرانے امام  صاحب کا مسجد کے ساتھ متصل حصہ جو مسجد کی توسیع کے لئے تعمیر کیا ہے اس میں نماز جمعہ ادا کرنے سے نماز جمعہ توادا ہوجائےگی، البتہ بہتر یہ کہ جس مسجد میں جمعہ پہلے ہوتاآرہاہے اسی میں ادا کیا جائے تاکہ جماعت بڑی ہو، کیونکہ  احادیث مبارکہ میں کثرت جماعت کی بہت فضیلت  آ ئی ہے ۔
کما في صحيح البخاري:
عَنْ أَنَسِ بْنِ مالِكٍ رَضِيَ الله عنه: أَنَّ رسولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - قالَ: "لا تَبَاغَضُوا، وَلا تحَاسَدُوا، ولا تَدابَرُوا، وَكُونُوا عِبادَ اللهِ إِخْواناً، ولا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثلاثَةِ أَيّامٍ.
(باب ما يُنْهَى عَنِ التَّحَاسُدِ وَالتَّدابُرِ،ج:٤،ص:٧٨،ص:الرياض)
وفي معرفة السنن والآثار:
قَالَ: وَكُلَّمَا كَثُرَتِ الْجَمَاعَةُ مَعَ الْإِمَامِ كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ وَأَقْرَبَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الْفَضْلِ.
(ج:٤،ص:١١٥،ط:جامعة الدراسات الإسلامية)
وفي المبسوط للسرخسي:
(وَتَكْثِيرُ الْجَمَاعَةِ مَنْدُوبٌ إلَيْهِ) قَالَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ -: «صَلَاةُ الرَّجُلِ مَعَ اثْنَيْنِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهِ وَحْدَهُ وَصَلَاتُهُ مَعَ الثَّلَاثَةِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهِ مَعَ اثْنَيْنِ وَكُلَّمَا كَثُرَتْ الْجَمَاعَةُ فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ أَفْضَلُ»، وَفِي تَقْدِيمِ الْمُعَظَّمِ تَكْثِيرُ الْجَمَاعَةِ فَكَانَ أَوْلَى.
(ج:1،ص:40،ط:دارالمعرفة بيروت)
وفي مجلة الأحكام العدلية:
(الْمَادَّةُ 425): الْأَجِيرُ يَسْتَحِقُّ الْأُجْرَةَ إذَا كَانَ فِي مُدَّةِ الْإِجَارَةِ حَاضِرًا لِلْعَمَلِ وَلَا يُشْرَطُ عَمَلُهُ بِالْفِعْلِ وَلَكِنْ لَيْسَ لَهُ أَنْ يَمْتَنِعَ عَنْ الْعَمَلِ وَإِذَا امْتَنَعَ لَا يَسْتَحِقُّ الْأُجْرَةَ.
(الْبَابُ الْأَوَّلُ فِي بَيَانِ الضَّوَابِطِ الْعُمُومِيَّةِ،ج:١،ص:٩٣،ط:نورمحمد)
وفي درر الحكام شرح مجلة الأحكام:
الْأَجِيرَ الْخَاصَّ لَا يُمْكِنُهُ أَنْ يَعْمَلَ عَمَلًا لِغَيْرِ الْمُسْتَأْجِرِ قَبْلَ انْقِضَاءِ الْمُدَّةِ الَّتِي اُسْتُؤْجِرَ فِيهَا؛ لِأَنَّ الِانْتِفَاعَ بِعَمَلِهِ فِي تِلْكَ الْمُدَّةِ لِلْمُسْتَأْجِرِ وَلَا يَجُوزُ تَمْلِيكُ الْمَنَافِعِ الْعَائِدَةِ إلَيْهِ لِغَيْرِهِ.
(الْمَادَّةُ 422) الْأَجِيرُ عَلَى قِسْمَيْنِ،ج:١،ص:٤٥٤،ط:دار الجيل)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026