سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-788 Fatwa no: 1448-788

پھوپھی کا بھتیجوں کے کاروباری منافع میں شرعی حق کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک آدمی نے اپنی بہن کو والد کی میراث میں سے اس کاحصہ دیا تھااب وہ آدمی فوت ہوگیا ہے اس کے ورثاء میں ایک بہن اور بیٹے موجود ہیں ، اس کی میراث بیٹوں کے درمیان تقسیم ہوگئی تھی ،جس کے بعد بیٹوں نےمیراث میں ملنے والا پیسہ کاروبارمیں لگا کر بہت سا را مال حاصل کیا ،اب وہی بہن(یعنی بیٹوں کی پھوپھی) بھتیجوں سے مطالبہ کر رہی ہے کہ میراتمہارے کاروبار سے حاصل ہونے والے مال میں بھی حق ہے ،کیونکہ میں تمہاری پھوپھی ہوں،کیا پھوپھی کا مذکورہ صورت میں مال میں حق ہے؟
جواب :

میت کےبیٹوں کی موجودگی میں پھوپھی شرعاً وارث نہیں بنتی ،لہذاصورت مسئولہ میں شخص مذکور کی وفات کے  بعد اس کی میراث  میں  بیٹوں کی موجودگی کی وجہ سےاس کی بہن کا  کوئی حصہ نہیں ہے ،اس لئے میراث سے حاصل ہونے والے مال میں بھی اس  کا   کوئی حصہ نہیں ہوگا ،لہذا پھوپھی کا بھتیجوں سے کاروبار کے مال میں حصہ کامطالبہ کرنا شرعاًجائز نہیں ہے۔ 
كما في السراجي:
أما العصبة بنفسة:فكل ذكر لا تدخل في نسبتة إلی ميت أنثی. وهم أربعة أصناف: جزء الميت...... جزء الميت أي البنون ثم بنوهم وإن سفلوا...الخ
(باب العصبات،ص:٣٦،ط:مكتبه عشره مبشره)
وفيه أيضا:
أحوال الأخوات لأب:والأخوات لأب وأم ولهن أحوال سبع....وبنو الأعيان والعلات كلهم يسقطون بالإبن وابن الابن وإن سفل وبالأب بالاتفاق.
(أحوال الأخوات لأب،ص:٢٦،٢٨،ط:مكتبه عشره مبشره)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026