نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںمیت کےبیٹوں کی موجودگی میں پھوپھی شرعاً وارث نہیں بنتی ،لہذاصورت مسئولہ میں شخص مذکور کی وفات کے بعد اس کی میراث میں بیٹوں کی موجودگی کی وجہ سےاس کی بہن کا کوئی حصہ نہیں ہے ،اس لئے میراث سے حاصل ہونے والے مال میں بھی اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ،لہذا پھوپھی کا بھتیجوں سے کاروبار کے مال میں حصہ کامطالبہ کرنا شرعاًجائز نہیں ہے۔
كما في السراجي:
أما العصبة بنفسة:فكل ذكر لا تدخل في نسبتة إلی ميت أنثی. وهم أربعة أصناف: جزء الميت...... جزء الميت أي البنون ثم بنوهم وإن سفلوا...الخ
(باب العصبات،ص:٣٦،ط:مكتبه عشره مبشره)
وفيه أيضا:
أحوال الأخوات لأب:والأخوات لأب وأم ولهن أحوال سبع....وبنو الأعيان والعلات كلهم يسقطون بالإبن وابن الابن وإن سفل وبالأب بالاتفاق.
(أحوال الأخوات لأب،ص:٢٦،٢٨،ط:مكتبه عشره مبشره)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔