سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-789 Fatwa no: 1448-789

قرض دے کر مقررہ مدت کے بعد زائد مال یا اس کی قیمت کا مطالبہ کرنے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کوایک لاکھ روپے دیئے کہ تم ان کو اپنے کاروبار میں استعمال کروسال کےبعد مجھے ایک لاکھ کے بدلے ڈیڑھ لاکھ روپے کا موٹر سائیکل خرید کر دینا ،کیا ایسا معاملہ کرنا شرعاً جائز ہے؟ تنقیح: پیسے دینے والے کی غرض یہ ہوتی ہے کہ سال بعد مجھے ان پیسوں سے نفع ملے۔
جواب :

واضح رہے کہ قرض پر کسی بھی قسم کا مشروط و غیرمشروط اضافہ لینا شرعاً سود ہے جو حرام ہے، بصورت مسئولہ  شخص مذکور کے ایک لاکھ روپےکی حیثیت  قرض  کی ہے لہذا  سال بعد واپسی کے وقت  ڈیڑھ لاکھ کے موٹرسائیکل  کی شرط لگاناشرعاً ناجائز اور حرام ہے۔
کما في قوله تعالي:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (130)
(سورة آل عمران،130:3)
وفي سنن أبي داؤد:
عبدُ الرحمن بن عبد الله بن مَسعودِ عن أبيه، قال: لعنَ رسولُ الله صلَّى الله عليه وسلم آكِلَ الربا وموكلَه وشاهدَه وكاتبَه.
 (باب في آكلِ الرباوموكلِه،ج:5،ص222،ط: دار الرسالة العالمية)
وفي الفقه الإسلامي وأدلته:
كل قرض جر نفعاً فهو ربا.
 (فوائد المصارف (البنوك)،ج:5،ص:3741،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026