سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-790 Fatwa no: 1448-790

ترجمہ کے ساتھ قرآنِ مجید پڑھنے کی بغیر ترجمہ پڑھنے پر افضلیت کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ : ایک آدمی کہتا ہے کہ قرآن مجید کی ایک آیت ترجمہ کے ساتھ پڑھنا ایک پارہ بغیر ترجمہ پڑھنے سے بہتر ہے ،کیا مذکورہ بات درست ہے؟دلائل کی روشنی میں واضح کیجئے۔
جواب :

قرآن مجید کی بعض سورتوں کے پڑھنے پر بہت سارے فضائل احادیث مبارکہ میں واردہوئے ہیں جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے جس کامفہوم ہے کہ" جو شخص ایک مرتبہ "سورۃ الاخلاص"کی تلاوت کرے اس  کا ثواب ایک تہائی قرآن مجید کے برابر ہے" ،اور اسی طرح ایک اور حدیث مباکہ کا مفہوم ہے کہ" ایک مرتبہ "سورۃ یس" پڑھنے کا ثواب دس مرتبہ قرآن مجید پڑھنے کے برابر ہے" اور اسی طرح ایک اور حدیث کامفہوم ہےکہ"میری امت کی سب سے افضل عبادت تلاوت قرآن ہے"اس حدیث مبارکہ کے ذیل میں شراح حدیث نے یہ لکھا ہے کہ حدیث کے الفاظ عام ہیں یعنی چاہے سمجھ کرتلاوت کی جائےیا بغیر سمجھے دونوں صورتوں میں عبادت کا ثواب ہے ،لہذاصورت مسئولہ میں شخص مذکور کا یہ کہنا کہ قرآن مجید کی ایک آیت ترجمہ کے ساتھ پڑھنا ایک پارہ بغیر ترجمہ پڑھنے سے بہتر ہےیہ بات درست نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید کو ترجمہ سے پڑھا جائے یا بغیر ترجمہ کہ دونوں صورتوں میں ثواب ملتا ہےاگرکوئی شخص قرآن مجید کوترجمہ کے ساتھ اس کے معانی میں غور وفکر کرکے پڑھے تو اس کو قرآن مجید کے معنی میں غوروفکر کا ثواب ملتا ہے ،اور کوئی شخص قرآن مجید کا ترجمہ نہ جانتا ہواور وہ قرآن مجید کے معنی میں غوروفکر کے بجائے صرف تلاوت کرتا ہے تو  اس کو تلاوت کا ثواب ملتاہے  جیسا کہ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے" جو شخص قرآن مجید کا ایک حرف پڑھے اس پر اسے دس نیکیاں ملتی ہیں اورفرمایا کہ "الم" ایک حرف نہیں ہے، بلکہ الف الگ حرف ہے اور لام الگ حرف ہے اور میم الگ حرف ہے" ۔
کما في سنن الترمذي:
عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ القُرَظِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لَا أَقُولُ الم حَرْفٌ، وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ».
(بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنَ القُرْآنِ مَالَهُ مِنَ الأَجْرِ،ج:٥،ص:١٧٥،ط:مصر)
وفي سنن أبن ماجه:
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَالَّذِي يَقْرَأ يَتَتَعْتَعُ فِيهِ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ، لَهُ أَجْرَانِ اثْنَانِ".
(ج:٢،ص:٣٦٦،ط:دار الرسالة العالمية)
وفي مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:
(وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ)، أَيِ الْحَاذِقُ مِنَ الْمَهَارَةِ وَهِيَ الْحِذْقُ، جَازَ أَنْ يُرِيدَ بِهِ جَوْدَةُ الْحِفْظِ أَوْ جَوْدَةُ اللَّفْظِ وَأَنْ يُرِيدَ بِهِ كِلَيْهِمَا وَأَنْ يُرِيدَ بِهِ مَا هُوَ أَعَمُّ مِنْهُمَا، وَقَالَ الطِّيبِيُّ: هُوَ الْكَامِلُ الْحِفْظِ الَّذِي لَا يَتَوَقَّفُ فِي الْقِرَاءَةِ وَلَا يَشُقُّ عَلَيْهِ،
(ج:٤،ص:١٤٤٥،ط:دارالفكر)
وفي سنن دارمي:
عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ قَلْبًا، وَإِنَّ قَلْبَ الْقُرْآنِ يس، مَنْ قَرَأَهَا، فَكَأَنَّمَا قَرَأَ الْقُرْآنَ عَشْرَ مَرَّاتٍ».
(باب في فضل يس،ج:٤،ص:٢١٤٩،ط:حسين سليم أسد الداراني)
وفي سنن إبن ماجه:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ".
(باب ثواب القران،ج:٤،ص:٧٠٤،ط:دار الرسالة العالمية)
وفي فيض القدير شرح الجامع الصغير:
(أفضل عبادة أمتي) أي من أفضلها (تلاوة القرآن) لأن لقارئه بكل حرف مئة عشر حسنات وبذلك يسمو على سائر العبادات قال الزركشي وهذا أي ما ذكر من كون الحرف منه بعشر حسنات من خصائصه على سائر الكتب المنزلة وظاهر الحديث أنه أفضل العبادات وإن كانت قراءته بغير فهم وأيد بأن أحمد بن حنبل رأى ربه في النوم فقال يا رب ما أفضل ما يتقرب به المتقربون إليك؟ قال بكلامي يا أحمد قال بفهم أو بغير فهم؟ قال بفهم وبغير فهم لكن رده بعضهم بأن المراد بتلاوته بغير فهم تلاوة العارفين فإن معاني القرآن تنزل عليهم حال التلاوة بغير فهم ولا فكر فيكون عين تلاوته عين تلك المعاني وإلا فشرط من يتقرب إلى الله بشيء فهم معناه.
(ج:٢،ص:٥٢،ط:مصر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026