نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
ایک آدمی نے اپنی مدخول بہا بیوی کو ایسی طہر میں ایک طلاق رجعی دی،جس میں جماع نہیں کیا اور آدمی کا ارادہ سنت طلاق دینے کا ہے،لیکن طلاق دینے کے بعد اب اس دفعہ عورت کا طہر اتنا لمبا ہوا ہےکہ پانچ مہینے گزر گئے ،اور اس کو حیض نہیں آتا ،حالانکہ آدمی اب اپنی بیوی سے جان چھڑانا چاہتا ہے،تو اب یہ عورت آیسہ کے حکم میں ہوگی کہ اس کی عدت مہینوں کے اعتبار سے شمار کی جائےیا آیسہ کے حکم میں نہیں ہوگی ،یعنی اس کی عدت حیض کے اعتبار سے شمار ہوگی؟
تنقیح اول:عورت کی عمر تقریبا 35 سال ہے۔
تنقیح دوم:اس سے پہلے ہر مہینے حیض آنے کا معمول تھا۔
صورت مسئولہ میں مذکورہ عورت کی عدت تین حیض ہے،اس لئے پہلے تو یہ ضروری ہے کہ اجرائے حیض کے لئے علاج کرایا جائے ،اگر حیض جاری ہوجائے تو عدت تین حیض ہی مکمل کرنا ضروری ہے،تاہم اگر کافی علاج کرانے کے باوجود بھی حیض جاری نہ ہو،تو ایسی عورت کی عدت نو مہینے ہوگی۔
جیسا کہ کفایت المفتی میں ہے:
سوال:ایک عورت مطلقہ جس کو طلاق ہوئے تقریبا تین ماہ کا عرصہ ہوا ،دوسری شادی کرنا چاہتی ہے مگرتقریبا دس بارہ ماہ سے اس کو حیض آنا بند ہوگیا ہےاور اس کی عمر چالیس سال سے بھی کم ہے،ایسی صورت میں اس کی عدت کی میعاد کتنی ہے ؟کتنے عرصہ کے بعد وہ دوسرا نکاح کرسکتی ہےاور اس کو تل وغیرہ کی کسی قسم کے کوئی آثار نہیں ہے۔
جواب:یہ عورت ممتدۃ الطہر ہےحنفیہ کے نزدیک تو اس کی عدت حیض ہی سے پوری ہوگی تاآنکہ سن ایاس تک پہنچے،لیکن امام مالکؒ کے نزدیک ایک روایت میں نومہینے اور دوسری روایت میں سال بھرتک حیض نہ آنے کی صورت میں انقضائے عدت کا حکم دےدیا جاتا ہے،تو اگرکوئی سخت ضرورت لاحق ہواور نکاح ثانی نہ ہونے کی صورت میں قوی خطرہ وقوع فی الحرام یا کسی ایسے ہی مفسدہ کا ہو ،تو کسی مالکی سے فتوی لیکر اس پر عمل کیا جاسکتا ہے۔
(کتاب الطلاق،ج6،ص402،ط:دارالاشاعت)
كما في قوله تعالى:
وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيم.
(سورة بقرة،آية228)
وفي ردالمحتار على الدرالمختار:
(و) العدة (في) حق (من لم تحض) حرة أم أم ولد (لصغر) بأن لم تبلغ تسعا (أو كبر). بأن بلغت سن
الإياس (أو بلغت بالسن) وخرج بقوله (ولم تحض) الشابة الممتدة بالطهر بأن حاضت ثم امتد طهرها، فتعتد بالحيض إلى أن تبلغ سن الإياس جوهرة وغيرها.
(باب العدة،ج3،ص508،ط:دارالفكر)
وفى البحرالرائق:
وخرج بقوله إن لم تحض الشابة الممتد طهرها فلا تعتد بالاشهر وصورتها: إذا رأت ثلاثة أيام وانقطع ومضى سنة أو أكثر ثم طلقت فعدتها بالحيض إلى أن تبلغ إلى حد الاياس وهو خمس وخمسون سنة في المختار، كذا في البزازية. ومن الغريب ما في البزازية قال العلامة والفتوى في زماننا على قول مالك في عدة الآيسة ا ه. ولو قضى قاض بانقضاء عدة الممتد طهرها بعد مضي تسعةأشهر نفذ كما في جامع الفصولين. ونقل في المجمع أن مالكا يقول: إن عدتها تنقضي.....ونقل مثله عن ابن عمر قال: وهذه المسألة يجب حفظها لانها كثيرة الوقوع. وذكر الزاهدي وقد كان بعض أصحابنا يفتون بقول مالك في هذه المسألة للضرورة خصوصا الامام والدي.
(باب العدة،ج4،ص220،ط: دار الكتب العلمية)
وفى الفقه الإسلامي وأدلته:
وأما المرتابة بالحيض أو ممتدة الطهر: وهي التي ارتفع حيضها، ولم تدر سببه من حمل أو رضاع أو مرض. فحكمها عند الحنفية والشافعية: أنها تبقى أبداً حتى تحيض أو تبلغ سن من لا تحيض......وعند المالكية والحنابلة: عدتها سنة بعد انقطاع الحيض، بأن تمكث تسعة أشهر، وهي مدة الحمل غالباً، ثم تعتد بثلاثة أشهر، فيكمل لها سنة، ثم تحل.... لما روي عن عمر رضي الله عنه: أنه قال في رجل طلق امرأته، فحاضت حيضة أو حيضتين، فارتفع حيضها، لا تدري ما رفعه؟ تجلس تسعة أشهر، فإذا لم يستبن بها حمل، فتعتد بثلاثة أشهر فذلك سنة؛ ولأن المقصود من العدة معرفة براءة الرحم وخلوه من الحمل، وتتحقق هذه المعرفة بمضي هذه المدة، فيكتفى بها.
(أنواع العدة،ج9،ص7172،ط:دارالفكر)
وفى النهر الفائق:
قيد بالتي لم تحض لأن التي حاضت ثم امتد طهرها لا تعتد بالأشهر إلا إذا بلغت سن الإياس. وعن مالك انقضاؤها بحول وقيل بتسعة أشهر ستة لاستبراء الرحم.
(باب العدة،ج2،ص476،ط:دارالكتب العلمية)
Mufti
تاریخ جواب: 11 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔