سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-791 Fatwa no: 1448-791

تیمم اور جراب پر مسح کی شرائط کی وضاحت

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ : 1)تیمم کے جائز ہونے کے لیے خارج المصر شرط کیوں ہے؟ 2)‬ جراب پر مسح جائز ہونے کے لیے جو یہ شرط ہے کہ وہ پنڈلی پر کھڑی ہوسکے اس سے کیا مرادہے؟
جواب :

مذکورہ سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں ۔
1)احناف کے یہاں تیمم کے جائز ہونے کے لیے خارج المصر  شرط نہیں ہے،اگر کوئی  شخص ایک میل کے اندر اندرپانی نہ پاتا ہو،یا پانی تو پاتا ہو لیکن عذرکی وجہ سے استعمال کرنے پر قادر نہ ہوپھرچاہےوہ شخص   مسافر ہو یا مقیم ہوخارج مصر ہویا داخل مصر ہو   ایسے شخص کے لیےتیمم کرنا جائز ہے۔
2)جراب پنڈلی پرکھڑی ہونےکامطلب یہ ہےکہ وہ جراب پہننے والے کی پنڈلی پر محض اپنی موٹائی اور سختی کی وجہ سے یا          لاسٹک باندھےبغیرخودکھڑی رہے نیچے  نہ گرے ،توایسی موٹی جراب پر مسح کرنا جائز ہے۔
وفي قوله تعالي:
{فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيداً طَيِّباً}
(النساء،٤٣،٤)
وفي الفتاوي الهندية:
(ومنها عدم القدرة على الماء) يجوز التيمم لمن كان بعيدا من الماء ميلا هو المختار في المقدار سواء كان خارج المصر أو فيه وهو الصحيح وسواء كان مسافرا أو مقيما.
(ج:١،ص:١٧،ط:دارالفکر)
وفي الهداية:
" ولا يجوز المسح على الجوربين عند أبي حنيفة إلا أن يكونا مجلدين أو منعلين وقالا يجوز إذا كانا ثخينين لا يشفان " لما روي أن النبي عليه الصلاة والسلام مسح على جوربيه ولأنه يمكنه المشي فيه إذا كان ثخينا وهو أن يستمسك على الساق من غير أن يربط بشيء فأشبه الخف وله أنه ليس في معنى الخف لأنه لا يمكن مواظبة المشي فيه إلا إذا كان منعلا وهو محمل الحديث وعنه أنه رجع إلى قولهما وعليه الفتوى "
(ج:١،ص:٣٠،ط:المکتبة الاسلامية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026