نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںصورتِ مسئولہ میں میت کے ترکہ میں سب سے پہلے اس کے کفن دفن کے اخراجات نکالے جائیں گے، اس کے بعد اگر میت پر کسی کا قرضہ ہو یا بیوی کا مہر ادا نہ کیا ہو تو وہ ادا کیا جائے گا ، اس کے بعد اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے لیے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال سے ادا کی جائے گی ،اس کے بعد مرحوم کے باقی ماندہ ترکہ اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ بیوی(آپکی والدہ) کو ثمن (آٹھواں حصہ ) ملے گا اور مابقیہ ترکہ بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ ہربیٹے کو بیٹی کا دگناملےگا،اس کی صورت یہ ہے کہ ترکہ کے کل ایک سو بیس حصے بنائے جائیں جس میں سے آپکی والدہ کوپندرہ حصے ملیں گے ،اورمابقیہ میں سے ہر ایک بیٹے کو چودہ اور ہرایک بیٹی کو سات حصے ملیں گے۔
نو ٹ :میراث کی تقسیم میں گاؤں کی زمینوں اور مکان کی موجودہ قیمت لگا کر مذکورہ طریقے سے تقسیم کی جائےگی۔
كما في قوله تعالي:
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثيَيْن... (١١) فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ...(١٢).
(النساء،١١،١٢:٤)
وفي صحيح البخاري:
عن ابنِ عباس رضيَ الله عنهما قالَ: كانَ المالُ للوَلَدِ، وكانَتِ الوصيةُ للوالِدَيْنِ، فنَسَخَ الله من ذلك ما أحب، فجَعَل للذكَرِ مثلَ حَظ الأنثَيَيْنِ، وجعَلَ للأبوينِ لكل واحدٍ منهما السدُسَ، وجَعَلَ للمرأةِ الثمنَ والرْبعَ، وللزوجِ الشًطْرَ والربعَ.
(ج:٢،ص:٢٤٥،ط:الرياض)
وفيه أيضا:
عنِ ابنِ عباسٍ رضيَ اللهُ عنهما قالَ: كَانَ الْمَالُ لِلْوَلَدِ، وَكَانَتِ الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ، فَنَسَخَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ مَا أَحَبَّ، فَجَعَلَ لِلذَّكَرِ مِثْلَ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ، وَجَعَلَ لِلأَبَوَيْنِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسَ، وَالثُّلُثَ، وَجَعَلَ لِلْمَرْأَةِ الثُّمُنَ، وَالرُّبُعَ، وَلِلزَّوْجِ الشَّطْرَ وَالرُّبُعَ.
(بابٌ {وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ}،ج:٣،ص:١٥٤،ط:الرياض)
وفي السراجي:
أحوال الزوجات: أما للزوجات فحالتان: الربع للواحدة فصاعدة عند عدم الولد وولد الابن وإن سفل، والثمن مع الولد أو ولدالابن وإن سفل.
(أحوال الزوجات،ص:١٨،ط:عشره مبشره)
وفيه أيضا:
أحوال بنات الصلب احوال البنت: واما لبنات الصلب فاحوال ثلاث:النصف للواحدة، والثلثان للاثنتين فصاعدة، ومع الابن للذكر مثل حظ الانثيين وهو يعصبهن.
(احوال البنات،ص:١٩،ط:عشره مبشره)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔