سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-792 Fatwa no: 1448-792

تین بھائی ،نو بہنوں اور والدہ میں میراث کی تقسیم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ میرے والد 2013 میں فوت ہوئے ہیں جب وہ فوت ہوئے ہیں اس وقت تقریباً ڈیڑھ کروڑ کی مالیت چھوڑ کر گئے ہیں جس میں ہماری گاؤں کی وراثتی زمین اور کراچی میں ایک مکان بھی ہے ،ہم ٹوٹل تین بھائی نو بہنیں اور ایک والدہ(یعنی مرحوم کی بیوی ہے) ہے ،ہمارے درمیان میراث کیسے تقسیم ہوگی ؟
جواب :

صورتِ مسئولہ میں میت کے ترکہ میں سب سے پہلے اس کے کفن دفن کے اخراجات نکالے جائیں گے، اس کے بعد اگر میت پر کسی کا قرضہ ہو یا بیوی کا مہر ادا نہ کیا ہو تو وہ ادا کیا جائے گا ، اس کے بعد اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے  لیے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال سے ادا کی جائے گی ،اس کے بعد مرحوم کے  باقی ماندہ ترکہ    اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ بیوی(آپکی والدہ) کو ثمن (آٹھواں حصہ ) ملے گا اور مابقیہ ترکہ بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان اس طرح تقسیم کیا جائے  گا کہ ہربیٹے کو بیٹی کا دگناملےگا،اس کی صورت یہ ہے کہ ترکہ    کے  کل ایک سو بیس  حصے بنائے جائیں جس میں سے آپکی والدہ  کوپندرہ حصے  ملیں گے  ،اورمابقیہ میں سے ہر ایک بیٹے کو چودہ  اور  ہرایک بیٹی کو سات حصے ملیں گے۔ 
نو ٹ :میراث کی تقسیم  میں گاؤں  کی زمینوں اور مکان کی موجودہ قیمت لگا کر مذکورہ طریقے سے تقسیم کی جائےگی۔
كما في قوله تعالي:
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثيَيْن... (١١) فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ...(١٢).
(النساء،١١،١٢:٤)
وفي صحيح البخاري:
عن ابنِ عباس رضيَ الله عنهما قالَ: كانَ المالُ للوَلَدِ، وكانَتِ الوصيةُ للوالِدَيْنِ، فنَسَخَ الله من ذلك ما أحب، فجَعَل للذكَرِ مثلَ حَظ الأنثَيَيْنِ، وجعَلَ للأبوينِ لكل واحدٍ منهما السدُسَ، وجَعَلَ للمرأةِ الثمنَ والرْبعَ، وللزوجِ الشًطْرَ والربعَ.
(ج:٢،ص:٢٤٥،ط:الرياض)
وفيه أيضا:
عنِ ابنِ عباسٍ رضيَ اللهُ عنهما قالَ: كَانَ الْمَالُ لِلْوَلَدِ، وَكَانَتِ الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ، فَنَسَخَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ مَا أَحَبَّ، فَجَعَلَ لِلذَّكَرِ مِثْلَ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ، وَجَعَلَ لِلأَبَوَيْنِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسَ، وَالثُّلُثَ، وَجَعَلَ لِلْمَرْأَةِ الثُّمُنَ، وَالرُّبُعَ، وَلِلزَّوْجِ الشَّطْرَ وَالرُّبُعَ.
(بابٌ {وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ}،ج:٣،ص:١٥٤،ط:الرياض)
وفي السراجي:
أحوال الزوجات: أما للزوجات فحالتان: الربع للواحدة فصاعدة عند عدم الولد وولد الابن وإن سفل، والثمن مع الولد أو ولدالابن وإن سفل.
(أحوال الزوجات،ص:١٨،ط:عشره مبشره)
وفيه أيضا:
أحوال بنات الصلب احوال البنت: واما لبنات الصلب فاحوال ثلاث:النصف للواحدة، والثلثان للاثنتين فصاعدة، ومع الابن للذكر مثل حظ الانثيين وهو يعصبهن.
(احوال البنات،ص:١٩،ط:عشره مبشره)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026