سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-794 Fatwa no: 1448-794

نشے کی حالت میں مشروط طلاق اور مہر کے حکم کی وضاحت

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص دبئی میں رہائش پزیر ہےاور اس کی بیوی اس کے کہنے پر اپنے والدین کے ہاں رہائش پزیر ہے ،شوہر نے کئی بار تحریری میسج اور وائس میسج کے ذریعہ اپنی بیوی کو مطلع کیا کہ اگر میری اجازت کے بغیر تم گھر سے کسی بھی کام کے لیے نکلی تو تمہیں طلاق ہے،طلاق ہے ،طلاق ہےاس کے بعد اس کی بیوی گھر سے شوہر کی اجازت کے بغیر نکل گئی ،شوہر کے گھر والے(والدین،بڑے بھائی)کہتے ہیں کہ یہ شخص ICE نشے کا عادی ہے شاہد اس نے نشے کی حالت میں طلاق کے میسج کئے ہوں، اس مسئلہ میں دوسوالات مطلوب ہیں۔ (1)بیوی کو طلاق ہو گئی ہے یا نہیں؟ (2)بیوی کامہر مسمی (جتنا بھی ہے)شوہر پر لازم ہے؟
جواب :

واضح رہے کہ   نشہ کی حالت میں یا بغیر نشہ کی حالت میں  طلاق دی جائے   تو طلاق واقع ہو جاتی ہے البتہ صورت مسئولہ میں طلاق کے میسج بیوی کے نمبر پر کرنے سے معلوم ہوتا ہےکہ شوہر نشہ میں نہیں تھا،اور اگر نشہ سے  ہوبھی  تو پھر بھی کسی دوسرے کو میسج کرنے کے بجائے اپنی بیوی کو میسج کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس نے ہوش و حواس  ہی  میں طلاق کے میسج کئے ہیں ،لہذا اب اس کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنے کیوجہ سے اس کی بیوی پر شرعاً تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں ،جس کے بعد  نہ رجوع ہو سکتا ہےاور نہ حلالہ شرعیہ کے بغیر نیا نکاح ہوسکتا ہے،نیز اگر دونوں کے درمیان میاں بیوی والے تعلقات قائم ہو چکے ہیں تو شرعاً شوہر پر پورا مہر  دینالازم ہے   ۔
كما في الهداية:
وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق " وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط فيصح يمينا أو إيقاعا..الخ
(مدخل،ج:1،ص:244 ،ط: طلال يوسف)
وفي بدائع الصنائع:
وَأَمَّا السَّكْرَانُ إذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَإِنْ كَانَ سُكْرُهُ بِسَبَبٍ مَحْظُورٍ بِأَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ أَوْ النَّبِيذَ طَوْعًا حَتَّى سَكِرَ وَزَالَ عَقْلُهُ فَطَلَاقُهُ وَاقِعٌ عِنْدَ عَامَّةِ الْعُلَمَاءِ وَعَامَّةِ الصَّحَابَةِ... (وَلَنَا) عُمُومُ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {الطَّلاقُ مَرَّتَانِ} [البقرة: 229] إلَى قَوْلِهِ - سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى - {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230] مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ بَيْنَ السَّكْرَانِ وَغَيْرِهِ إلَّا مَنْ خُصَّ بِدَلِيلٍ وَقَوْلُهُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «كُلُّ طَلَاقٍ جَائِزٌ إلَّا طَلَاقَ الصَّبِيِّ وَالْمَعْتُوهِ» وَلِأَنَّ عَقْلَهُ زَالَ بِسَبَبٍ؛ هُوَ مَعْصِيَةٌ فَيُنَزَّلُ قَائِمًا عُقُوبَةً عَلَيْهِ وَزَجْرًا لَهُ عَنْ ارْتِكَابِ الْمَعْصِيَةِ...
(فَصْلٌ فِي شَرَائِط رُكْن الطَّلَاق،ج:3،ص:99،ط: دار الكتب العلمية)
وفي درر الحكام شرح غرر الأحكام:
(يَقَعُ طَلَاقُ كُلِّ زَوْجٍ عَاقِلٍ بَالِغٍ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ)... (وَلَوْ مُكْرَهًا)... (أَوْ هَازِلًا)... (أَوْ سَفِيهًا)... (أَوْ سَكْرَانَ) زَائِلُ الْعَقْلِ فَإِنَّ طَلَاقَهُ وَاقِعٌ.
(كتاب الطلاق،ج:1،ص:360،ط: بدون طبعة وبدون تاريخ)
وفي  بدائع الصنائع:
الْمَهْرُ فَالْمَهْرُ يَتَأَكَّدُ بِأَحَدِ مَعَانٍ ثَلَاثَةٍ لدُّخُولُ وَالْخَلْوَةُ الصَّحِيحَةُ وَمَوْتُ أَحَدِ الزَّوْجَيْنِ، سَوَاءٌ كَانَ مُسَمًّى أَوْ مَهْرَ الْمِثْلِ حَتَّى لَا يَسْقُطَ شَيْءٌ مِنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ إلَّا بِالْإِبْرَاءِ مِنْ صَاحِبِ الْحَقِّ..الخ
(فَصْلٌ بَيَانُ مَا يَتَأَكَّدُ بِهِ الْمَهْرُ،ج:2،ص:291 ،ط: دار الكتب العلمية)
وفي الفِقْهُ الإسلاميُّ وأدلَّتُهُ:
اتفق الفقهاء على أنه يتأكد وجوب المهر في العقد الصحيح بالدخول أو الموت، سواء أكان المهر مسمى أم مهر المثل، حتى لا يسقط شيء بعدئذ إلا بالإبراء من صاحب الحق.
(تأكد المهر،ج:9،ص:6799،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026