نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںصورت مسئولہ میں شخص مذکور کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور بیوی شوہر پر مغلظہ ہو چکی ہے ،لہذا ان دونوں کا دوباره آپس میں نکاح کرنا جائز نہیں ،سوائے اس صورت کے کہ وہ عورت اس خاوند کی عدت گزارنے کے بعد کسی دوسرے مرد سے نکاح کرلےاور اس سے ازدواجی تعلق قائم ہوجائے اور پھر وہ خاوند طلاق دیدے یا فوت ہوجائے ،اور اس شوہر کی عدت بھی گزارلے تو اس کے بعد ان دونوں کا آپس میں نکاح کرنا صحیح ہوگا۔
كما قال الله تبارك وتعالی:
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ.
(سورة البقرة،230:2)
وفي مصنف إبن أبي شيبه:
سُئِلَ عَنْ عَبْدٍ آبِقٍ، وَلَهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَ: «إِنْ جَاءَ قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ الْعِدَّةُ فَهِيَ امْرَأَتُهُ، وَإِنْ جَاءَ بَعْدَمَا انْقَضَتِ الْعِدَّةُ فَقَدْ بَانَتْ مِنْهُ بِتَطْلِيقَةٍ».
(ج:4،ص:163،ط: الرياض)
وفي بدائع الصنائع:
وَإِذَا انْقَضَتْ الْعِدَّةُ لَمْ يَبْقَ شَيْءٌ مِنْ عَلَائِقِ النِّكَاحِ فَكَانَ الْقَوْلُ بِالتَّوْرِيثِ نَصْبَ شَرْعٍ بِالرَّأْيِ وَهَذَا لَا يَجُوزُ.
(ج:3،ص:221،ط: دار الكتب العلمية)
وفي لسان الحكام:
وَإِن كَانَ الطَّلَاق ثَلَاثًا فِي الْحرَّة أَو ثِنْتَيْنِ فِي الْأمة لم تحل لَهُ حَتَّى تنْكح زوجا غَيره نِكَاحا صَحِيحا وَيدخل بهَا ثمَّ يطلقهَا أَو يَمُوت عَنْهَا وَالشّرط الايلاج دون الْإِنْزَال.
(كتاب الرجعة،ج:٣،ص:٥٤،ط:لبيان)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔