سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-795 Fatwa no: 1448-795

طلاقِ ثلاثہ کے بعد سابقہ بیوی سے دوبارہ نکاح کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ (طلاق نامہ) مسمی دانش ولد ولیستان سکنہ محلہ کیالہ ،ڈاکخانہ بگوتر تحصیل ،ضلع اینٹ آباد کا ہوں اقراری ہوں کہ من مقر کی نکاح و شادی بمطابق احکام شریعت محمدی ہمراہ مسماۃ عمیرہ دختر ممتاز احمد سکنہ نورمنگ تحصیل و ضلع ایبٹ آباد مؤرخہ 10/07/20016 کو میری شادی ہوئی ،بوقت شادی حق مہرمیں تین تولہ سونا ادا کیا گیا،جن میں ایک ہار سیٹ ،تین انگوٹھیاں ادا کی گئی،شادی سے لے کر اب تک بیوی کا رویہ میرے ساتھ اچھا نہ رہا کبھی کوئی عید میرے ساتھ میرے گھر نہ گزاری سوائے اس عید کے اس عید پر ناراض ہوکر ماں باپ کے گھر چلی گئی ،ہماری دو بیٹیاں زندہ موجود ہیں بڑی بچی چار سال کی میرے اور دادی کے پاس موجود ہے اور چھوٹی بچی عائشہ عمر ڈیڑھ سال اور وہ اپنی ماں کے پاس ہے ،عمیرہ بی بی بغیر کسی وجہ کے بار بار لڑائی جھگڑا کر کے گھر چھوڑکر جاتی ہے میں پھر جرگہ کرکے واپس لے آتا ،میرے پاس اس کے بھائیوں کی ریکارڈنگ موجود ہے بغیر کسی وجہ سے جب وہ گھر چھوڑ کر جاتی تو اس کے بھائی خود بولتے ہیں کہ اگر وہ نہیں رہتی تو طلاق دے کر فارغ کردو نہ اپنی زندگی خراب کرو اور نہ ہماری زندگی خراب کرو بلکہ میری بیوی عمیرہ دختر ممتاز احمد بھی مجھ سے طلاق مانگتی ہے اس کی ریکارڈنگ بھی موجود ہے اور کہتی ہے طلاق نہ دی تو جگہ جگہ بدنام کروں گی ،اس کی اور اس کے گھر والوں کی مرضی کے مطابق آج مؤرخہ 2023/05/09 کو اپنی بیوی عمیرہ دختر ممتاز احمدکو اپنی مرضی سے اپنے ہوش و حوا س خمسہ سے طلاق ثلاثہ دے کر اپنی زوجیت سے خود علیحدہ کرتا ہوں اب وہ جب چاہے طلاق ثلاثہ کی عدت پوری کرکے جب چاہے دوسری شادی کر سکتی ہے ،میں نے اپنی بیوی کو حق مہر ادا کردیا ہے اس کے کسی قسم کے کوئی حقوق اور حق مہر میرے ذمہ باقی نہیں ہے ،بالمطابق نکاح نامہ مسماۃ عمیرہ بی بی اپنا سب کچھ حاصل کر چکی ہے اب میرے ذمے اس کا کچھ بقایا نہیں ہے ،مدعیہ کا اپناسامان جو اس کے گھر والوں نے بوقت شادی دیا ہے عرصہ پانچ سال سے استعمال کر رہی ہے اور اکثر سامان کی توڑ پھوڑ مسماۃ عمیرہ بی بی خود کرتی رہی ہےاب جس حالات میں سامان پڑ ا ہے وہ جب چاہے اپنا سامان جہیز لے کرجا سکتی ہے مجھے کوئی اعتراض نہ ہے اور نہ ہوگا۔ طلاق نامہ ہذا من مقر نے بقائمی ہوش و حواس خسہ بلاجبر وکراہ غیر کے ،روبرو دو گواہان تحریر وتکمیل کردیا ہے تاکہ سندر رہے اور بوقت ضرورت کام آوے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طلاق نامہ کے بعد شوہر اس عورت کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتا ہےیا نہیں ؟
جواب :

صورت مسئولہ میں شخص مذکور کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں  اور بیوی شوہر پر مغلظہ  ہو چکی ہے ،لہذا ان دونوں کا دوباره آپس میں   نکاح کرنا جائز نہیں  ،سوائے اس صورت کے کہ وہ عورت  اس خاوند کی عدت گزارنے کے بعد کسی دوسرے مرد سے نکاح  کرلےاور اس سے ازدواجی تعلق قائم ہوجائے اور پھر وہ خاوند طلاق دیدے یا فوت ہوجائے ،اور اس شوہر کی  عدت  بھی گزارلے تو اس کے بعد ان  دونوں کا آپس میں نکاح کرنا صحیح ہوگا۔
كما قال الله تبارك وتعالی:
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ.
(سورة البقرة،230:2)
وفي مصنف إبن أبي شيبه:
سُئِلَ عَنْ عَبْدٍ آبِقٍ، وَلَهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَ: «إِنْ جَاءَ قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ الْعِدَّةُ فَهِيَ امْرَأَتُهُ، وَإِنْ جَاءَ بَعْدَمَا انْقَضَتِ الْعِدَّةُ فَقَدْ بَانَتْ مِنْهُ بِتَطْلِيقَةٍ».
(ج:4،ص:163،ط: الرياض)
وفي بدائع الصنائع:
وَإِذَا انْقَضَتْ الْعِدَّةُ لَمْ يَبْقَ شَيْءٌ مِنْ عَلَائِقِ النِّكَاحِ فَكَانَ الْقَوْلُ بِالتَّوْرِيثِ نَصْبَ شَرْعٍ بِالرَّأْيِ وَهَذَا لَا يَجُوزُ.
(ج:3،ص:221،ط: دار الكتب العلمية)
وفي لسان الحكام:
وَإِن كَانَ الطَّلَاق ثَلَاثًا فِي الْحرَّة أَو ثِنْتَيْنِ فِي الْأمة لم تحل لَهُ حَتَّى تنْكح زوجا غَيره نِكَاحا صَحِيحا وَيدخل بهَا ثمَّ يطلقهَا أَو يَمُوت عَنْهَا وَالشّرط الايلاج دون الْإِنْزَال.
(كتاب الرجعة،ج:٣،ص:٥٤،ط:لبيان)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026