سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-797 Fatwa no: 1448-797

مضاربت میں پیداوار کے حساب سے مقررہ نفع لینے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک گارمنٹس کی کمپنی میں کام کرتا ہوں اور وہاں ٹھیکیداری سسٹم ہوتا ہے اس میں ٹھیکیدارکے ساتھ لوگ انویسٹمنٹ کرتے ہیں اور اس انویسٹمنت میں ان انویسٹمنٹروں کو کمیشن ملتا ہے،اس کمپنی میں بنیان جیساUppez,Zipper,Woddyوغیرہ بنتی/ بنتے ہیں اس میں ڈیپارٹ ہوتے ہیں بعض ڈیپارٹ بڑے ہوتے ہیں اور بعض چھوٹے ہوتے ہیں ،لیکن اس میں جو بڑی کمپنیاں ہیں اور چھوٹی کمپنیاں ہیں ان کا لین دین مختلف ہے اسی طرح ٹھیکداروں کے بھی مختلف لین دین ہوتے ہیں اس میں ٹھیکداروں کے پاس تین یا چار ڈیپارٹ ہوتے ہیں کسی کے پاس زیادہ کسی کے پاس کم ہوتے ہیں اور یہ ٹھیکدار انویسٹر کو کمیشن دیتے ہیں درجن پر (12 پیس پر) جیسا کہ اگر کسی کا پانچ روپے کمیشن ہے تو اگر ڈیپارٹ میں باجامہ یا جو بھی آرٹیکل بن رہا ہو اگر وہ دن میں سو درجن بنتا ہے تو انویسٹر کے دن میں پانچ سو روپے بن جاتے ہیں اور یہ آرٹیکل روزانہ ایک ہی مقدار میں نہیں بنتے کبھی کم کبھی زیادہ بنتے ہیں ؛کیونکہ میں ڈیپارٹروں میں کاریگر ہوتے ہیں اور کاریگروں کے بھی مسئلے مسائل ہوتے ہیں ؛ اس لیے یہ ایک ہی مقدار میں نہیں بنتے ہیں کسی بھی جگہ ڈیپارٹ میں مال زیادہ بن جائے تو انوسٹر کے پیسے زیادہ بنے گے اور اگر کم بن جائیں تو کم بنیں گے کمپنی کے سیٹھ لوگ ٹھیکداروں کے پیسے روکتے ہیں؛اس لیے ان کے پاس انویسٹر ہوتا ہے اور اس میں ٹھیکیداروں کےاور بھی کاروبار ہوتے ہیں ،بحرحال میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جو انویسٹرکوکمیشن ملتا ہے کیا یہ کمیشن حلال ہےیا حرام؟اور اس میں اگر انویسٹرنے اپنی انویسمنٹ ختم کرنی ہو تو وہ ٹھیکیدار کو چار مہینے پہلے بتائے گا مطلب اگر انویسٹرنے آج بتایا ہےکہ میرے پیسے واپس دوجو میں نے آپ کے پاس انویسٹ کئے ہوئےہیں تو اسی دن سے انویسٹر کی کمیشن چارمہینے تک ختم ہوجائےگی،اور چار مہینے بعد اس کو اس کے پیسے واپس ملیں گے۔ نوٹ:اس فیلڈ میں ٹھیکیدار کہتے ہیں کہ ہم انویسٹر کو ایک ہی رقم مہینے کی فکس اس لیے نہیں کرتےکہ علماء کہتے ہیں کہ یہ حرام ہے،اور ہم کمیشن اس لیے دیتے ہیں یہ حلال ہے۔ تو اس بارے میں،میں آپ سے گزارش کرناچاہتا ہوں کہ یہ کمیشن جو ٹھیکیدار انویسٹر کو دیتے ہیں یہ شریعت میں جائز ہے یا نہیں ؟ تنقیح:ٹھیکیدار کبھی بنیان وغیرہ فروخت ہونے کے بعد اور کبھی فروخت ہونے سے پہلے انویسٹر کونفع(112بنیان کے پیس پر 5روپے)دیتا ہے۔
جواب :

واضح رہے کہ اگرکاروبار میں ایک طرف سے پیسے اور دوسری طرف سے عمل ہو تو شرعا اس معاملہ کو مضاربت کہا جاتا ہے،اور مضاربت کے صحیح ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ مضارب او رب المال کے درمیان حقیقی نفع میں نفع کا تعیین تناسب (فیصد)کے اعتبار سے طےکرنا ضروری ہے کہ اس سے حاصل شدہ نفع دونوں (یعنی مضارب اور رب المال )درمیان فیصدکے اعتبار سے تقسیم کیا جائے،بصورت دیگر مضاربت فاسد ہوگی،اورمضاربت فاسدہ کا حکم یہ ہے کہ نفع سارا کا سارا رب المال (انویسٹر )کا ہوگااور مضارب کواجرت مثل ملے گی۔
صورت مسئولہ میں ٹھیکیدار انویسٹر کو فروخت ہونے کے بعد نفع میں سے دے،یا فروخت ہونے سے پہلے رقم دے ،ان دونوں صورتوں میں نفع کا تعین فیصد کے اعتبار سے نہیں کیا گیا ہے ،لہذا یہ دونوں صورتیں شرعا جائز نہیں ،اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ مضاربت ست حاصل شدہ نفع مضارب (ٹھیکیدار)اور رب المال (انویسٹر )آپس میں فیصد کے اعتبار سے طے کریں،تاکہ مذکورہ عقد شرعا درست ہو۔
كما في الفتاوي الهندية:
وأن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة لا معينا فإن عينا عشرة أو مائة أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة،
 (ج:2،ص:302،ط:دارالفكر)
وفي الهداية:
ومن شرطها أن يكون الربح بينهما مشاعا لا يستحق أحدهما دراهم مسماة من الربح لأن شرط ذلك يقطع الشركة بينهما ولا بد منها كما في عقد الشركة قال فإن شرط زيادة عشرة فله أجر مثله لفساده فلعله لا يربح إلا هذا القدر فتنقطع الشركة في الربح وهذا لأنه ابتغى عن منافعه عوضا ولم ينل لفساده والربح لرب المال لأنه نماء ملكه وهذا هو الحكم في كل موضع لم تصح المضاربة.
 (ج:3،ص:201،ط:بيروت)
وفي الفقه الإسلامي:
أن شرط صحة المضاربة أن يكون الربح بين صاحب المال والقائم بالعمل شائعاً بالنسبة كالربع أو الثلث، وفي التأمين يشترط للمشترك المؤمن له قدر معين في الربح 3% أو 4% فتكون هذه المضاربة غير صحيحة.
(ج:5،ص:3418ط:دارالفكر)
وفيه أيضا:
وأما الربح الحاصل حينئذ أو الصيد في مثالنا، فيكون كله لرب المال؛ لأن الربح نماء ملكه، ولم يستحق المضارب منه شيئاً نظراً لفساد العقد. وكذلك الخسران يكون على رب المال..
(ج:5،ص:3941،ط:دارالفكر)
وفي الاختيار لتعليل المختار:
وَتَنْعَقِدُ بِقَوْلِهِ دَفَعْتُ هَذَا الْمَالَ إِلَيْكَ مُضَارَبَةً أَوْ مُقَارَضَةً أَوْ مُعَامَلَةً، أَوْ خُذْ هَذَا الْمَالَ وَاعْمَلْ فِيهِ عَلَى أَنَّ لَكَ نِصْفَ الرِّبْحِ أَوْ ثُلُثَهُ،...وَشَرَائِطُهَا خَمْسَةٌ: أَحَدُهَا أَنَّهَا لَا تَجُوزُ إِلَّا بِالنَّقْدَيْنِ. الثَّانِي: إِعْلَامُ رَأْسِ الْمَالِ عِنْدَ الْعَقْدِ، إِمَّا بِالْإِشَارَةِ أَوْ بِالتَّسْمِيَةِ، وَيَكُونُ مُسَلَّمًا إِلَى الْمَضَارِبِ. الثَّالِثُ: أَنْ يَكُونَ الرِّبْحُ شَائِعًا بَيْنَهُمَا. الرَّابِعُ: إِعْلَامُ قَدْرِ الرِّبْحِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا. الْخَامِسُ: أَنْ يَكُونَ الْمَشْرُوطُ لِلْمُضَارِبِ مِنَ الرِّبْحِ.
(ج:3،ص:19،ط:القاهرة)
وفي مجمع الأنهر في شرح ملتقي الأبحر:
شُرِطَ (كَوْنُ الرِّبْحِ بَيْنَهُمَا مُشَاعًا) أَيْ لَا تَصِحُّ الْمُضَارَبَةُ حَتَّى يَكُونَ الرِّبْحُ مُشَاعًا بَيْنَهُمَا بِأَنْ يَكُونَ أَثْلَاثًا أَوْ مُنَصَّفًا وَنَحْوَهُمَا، لِأَنَّ الشَّرِكَةَ لَا تَتَحَقَّقُ إلَّا بِهِ فَلَوْ شُرِطَ لِأَحَدِهِمَا دَرَاهِمُ مُسَمَّاةٌ تَبْطُلُ فَيَكُونُ الرِّبْحُ لِرَبِّ الْمَالِ
(ج:3،ص:446،ط:دار الكتب العملية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026