نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ نماز کی شرائط میں سے ايك شرط جگہ کاپاک ہونا ہے ،بصورت مسئولہ شخص مذکور کی جائے نماز چھوٹے بچے کے پیشاب کرنے سے ناپاک ہوجائے گی،لہذا شخص مذکو ر کو چاہئے کہ دوران نماز اس جگہ سے ہٹ کراگر جگہ پاک ہو تو وہاں اپنی نماز پوری کرے ،بصورت دیگرناپاک جائے نماز پر نماز پڑھنا جائز نہیں،اس لئےشخص مذکور کو چاہئے کہ نماز توڑ کرکسی دوسری پاک جگہ پر نماز ادا کرے۔
کما فی الأصل لمحمد بن الحسن:
«قلت أرأيت الرجل يصلي فينتضح عليه البول فيصيبه منه أكثر من قدر الدرهم قال ينفتل فيغسل ما أصاب جسده منه ولا يبنى على صلاته وإن كان في ثوبه ألقاه وصلى في غيره»
(ج:1،ص:200،ط:مجلس دائرۃ المعارف)
وفی الفتاوى الهندية:
كل ما يخرج من بدن الإنسان مما يوجب خروجه الوضوء أو الغسل فهو مغلظ كالغائط۔۔۔وكذلك بول الصغير والصغيرة أكلا أو لا.
(ج:1،ص:46،ط:دارالفکر)
وفيه أيضاّ:
شروط الصلاةوهي عندنا سبعة: الطهارة من الأحداث، والطهارة من الأنجاس، وستر العورة واستقبال القبلة والوقت والنية والتحريمة.
تطهير النجاسة من بدن المصلي وثوبه والمكان الذي يصلي عليه واجب.
(ج:1،ص:58،ط:دارالفکر)
وفي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
«ذكر في الفتاوى عن محمد بن سلمة أنه إن مشى في صلاته مقدار صف واحد لا تفسد، وإن مشى أكثر من ذلك فسدت،»
(ج:1،ص:146،ط:دار الكتب العلمية)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔