سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-798 Fatwa no: 1448-798

جائے نماز پر چھوٹا بچہ آکر پیشاب کردے تو مصلی کی نماز کا کیا حکم ہے؟

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ کوئی شخص نماز پڑھ رہاہو دوران نماز جائے نماز پر کوئی بچہ آکر پیشاب کردے تو مصلی کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب :

واضح رہے کہ نماز کی شرائط میں سے ايك شرط  جگہ کاپاک ہونا ہے ،بصورت مسئولہ شخص مذکور کی جائے نماز  چھوٹے بچے کے  پیشاب کرنے  سے ناپاک ہوجائے گی،لہذا شخص مذکو ر کو چاہئے کہ دوران نماز اس جگہ سے ہٹ کراگر جگہ پاک ہو تو وہاں اپنی نماز پوری کرے ،بصورت دیگرناپاک جائے نماز پر نماز پڑھنا جائز نہیں،اس لئےشخص مذکور کو چاہئے کہ  نماز توڑ کرکسی دوسری پاک جگہ   پر  نماز  ادا کرے۔  
کما فی الأصل لمحمد بن الحسن:
«قلت أرأيت الرجل يصلي فينتضح عليه البول فيصيبه منه أكثر من قدر الدرهم قال ينفتل فيغسل ما أصاب جسده منه ولا يبنى على صلاته وإن كان في ثوبه ألقاه وصلى في غيره»
(ج:1،ص:200،ط:مجلس دائرۃ المعارف) 
وفی الفتاوى الهندية:
كل ما يخرج ‌من ‌بدن ‌الإنسان مما يوجب خروجه الوضوء أو الغسل فهو مغلظ كالغائط۔۔۔وكذلك بول الصغير والصغيرة أكلا أو لا.
(ج:1،ص:46،ط:دارالفکر)
وفيه أيضاّ:
شروط الصلاةوهي عندنا سبعة: الطهارة من الأحداث، والطهارة من الأنجاس، وستر العورة واستقبال القبلة والوقت والنية والتحريمة. 
تطهير النجاسة من بدن المصلي وثوبه والمكان الذي يصلي عليه واجب.
(ج:1،ص:58،ط:دارالفکر)
وفي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
«ذكر في الفتاوى عن محمد بن سلمة أنه إن ‌مشى ‌في ‌صلاته مقدار صف واحد لا تفسد، وإن مشى أكثر من ذلك فسدت،»
(ج:1،ص:146،ط:دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026