سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-83 Fatwa no: 1447-83

خلوت صحیحہ کے بعد طلاق رجعی دینے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور سالی کو یہ الفاظ بولےکہ "تیری بہن مجھ پر طلاق ہے ،مجھے نہیں چاہئے ،مجھے نہیں چاہئے،"اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح کہنے سے شرعا کتنی طلاقیں واقع ہوئیں؟ نوٹ:لڑکی کی رخصتی نہیں ہوئی لیکن خلوت صحیحہ ہوئی ہے ۔
جواب :

واضح رہے کہ خلوت صحیحہ (شوہر اور بیوی کا ایک کمرہ میں بلا کسی رکاوٹ وممانعت کے ایک دوسرے کے ساتھ ملنا)  جماع کے حکم میں ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ الفاظ کہ "تیری بہن مجھ پر طلاق ہے" کہنے سے اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوئی ہے اور لفظ کہ" مجھے نہیں چاہئے" سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی ،جس کے بعد عدت (تین ماہواریاں یا وضع حمل سے پہلے)کےدوران  شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہوگا اور اگر شوہر نے دوران عدت رجوع نہ کیا تو دونوں کا نکاح ختم ہوجائیگا ، اس کے بعد اگر وہ دونوں دوبارہ میاں بیوی کی حیثیت سے اکھٹے رہنا چاہتے ہوں تو دوگواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کیساتھ دوبارہ نکاح کرنا ہوگا اور اس صورت میں شوہر کو آئندہ کیلئے صرف دو  طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا ۔
كمافى التسهيل لعلوم التنزيل:
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ.....الآية .
الطَّلاقُ مَرَّتانِ بيان لعدد الطلاق الذي يرتجع منه دون زوج آخر، وقيل: بيان لعدد الطلاق الذي يجوز إيقاعه، وهو طلاق السنة فَإِمْساكٌ ارتجاع، وهو مرفوع بالابتداء أو بالخبر بِمَعْرُوفٍ حسن المعاشرة وتوفية الحقوق أَوْ تَسْرِيحٌ هو تركها حتى تنقضي العدّة فتبين منه بِإِحْسانٍ المتعة .
(سورة بقرة،آية229،ج1،ص129،ط: شركة دار الأرقم بن أبي الأرقم)
وفي ردالمحتار على الدرالمختار:
(وَالْخَلْوَةُ) مُبْتَدَأٌ خَبَرُهُ قَوْلُهُ الْآتِي كَالْوَطْءِ (بِلَا مَانِعٍ حِسِّيٍّ) كَمَرَضٍ لِأَحَدِهِمَا يَمْنَعُ الْوَطْءَ (وَطَبْعِيٍّ).... (وَشَرْعِيٍّ) كَإِحْرَامٍ لِفَرْضٍ أَوْ نَفْلٍ.... (كَالْوَطْءِ) فِيمَا يَجِيءُ (وَلَوْ) كَانَ الزَّوْجُ (مَجْبُوبًا أَوْ عِنِّينًا أَوْ خَصِيًّا).
(كتاب النكاح،ج3،ص117،ط:دارالفكر)
وفى الفتاوى الهندية:
(الطَّلَاقُ عَلَى ضَرْبَيْنِ: صَرِيحٌ، وَكِنَايَةٌ. فَالصَّرِيحُ قَوْلُهُ: أَنْتِ طَالِقٌ وَمُطَلَّقَةٌ وَطَلَّقْتُك فَهَذَا يَقَعُ بِهِ الطَّلَاقُ الرَّجْعِيُّ) لِأَنَّ هَذِهِ الْأَلْفَاظَ تُسْتَعْمَلُ فِي الطَّلَاقِ وَلَا تُسْتَعْمَلُ فِي غَيْرِهِ فَكَانَ صَرِيحًاوَأَنَّهُ يَعْقُبُ الرَّجْعَةَ بِالنَّصِّ(وَلَا يَفْتَقِرُ إلَى النِّيَّةِ) لِأَنَّهُ صَرِيحٌ فِيهِ لِغَلَبَةِ الِاسْتِعْمَالِ .
(كتاب الطلاق،ج4،ص3،ط:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب