سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-799 Fatwa no: 1448-799

جسمانی معذور شخص کی امامت کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بندہ جس کی ایک ٹانگ نہ ہو یا اس کا ایک بازو نہ ہواس کے علاوہ اور لوگ بھی موجود ہوں تو کیا اس شخص کو امام مقرر کیا جاسکتا ہے؟
جواب :

امامت كے لئے کسی  ايسے شخص كو مقرر كرنا  زیادہ اولی ہے جس كے جسم کے  تمام اعضاء   صحیح سالم ہوں ،البتہ اگر جسمانی  معذور شخص   کے علاوہ کوئی   اور آدمی مسائل نمازکے علم اور قراءت قرآن میں اس سے زیادہ بہتر موجود نہ ہو  تو اس آدمی کو  امامت کے لئے مقرر کیا جا سکتا ہےاور  اس کی امامت کرانا درست ہوگی۔
کما في الدر المختار مع رد المحتار: 
(وَصَحَّ اقْتِدَاءُ مُتَوَضِّئٍ) لَا مَاءِ مَعَهُ (بِمُتَيَمِّمٍ)... (وَقَائِمٍ بِأَحْدَبَ) وَإِنْ بَلَغَ حَدَبُهُ الرُّكُوعَ عَلَى الْمُعْتَمَدِ، وَكَذَا بِأَعْرَجَ وَغَيْرُهُ أَوْلَى.
(باب الإمامة،ج:1،ص:590،ط:دار الفكر)
وفي رد المحتار:
(قَوْلُهُ وَغَيْرُهُ أَوْلَى) مُبْتَدَأٌ وَخَبَرٌ: أَيْ غَيْرُ الْأَعْرَجِ كَمَا فِي الْبَحْرِ، وَغَيْرُ خَافٍ أَنَّ هَذَا الْحُكْمَ لَا يَخُصُّ الْأَعْرَجَ بَلْ غَيْرُ كُلٌّ مِنْ الْمُتَيَمِّمِ وَالْقَاعِدِ وَالْأَحْدَبِ كَذَلِكَ.
(باب الإمامة،ج:1،ص:590،ط:دار الفكر)
وفيه أيضا:
( ومفلوج وأبرص شاع برصه ) وكذلك أعرج يقوم ببعض قدمه فالاقتداء بغيره أولى.
(مطلب في إمامة الأمرد،ج:1،ص:562،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026