نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیں طلاق نامہ بنوانے سے پہلے آپ اس بات پر دو گواہ بنا لیں کہ میرا اپنی بیوی کو طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں میں بس دوسرے نکاح کے لئے جھوٹا طلاق نامہ بنوارہا ہوں تو اس صورت میں آپ کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوگی ۔
لیکن اس طرح کا جھوٹا طلاق نامہ بنوانا بیوی اور دوسری عورت دونوں کے ساتھ دھوکہ ہے جو کہ جائز نہیں،کیونکہ احادیث مبارکہ میں جھوٹ بولنے والے اور دھوکہ دینے والوں کے بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں ،جیسا کہ :ایک حديث مبارکہ میں ہے: "آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ" ترجمہ:"منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرے گا جھوٹ بولے گا"(مسند احمد)،اور اسی طرح ایک دوسری حدیث مبارکہ میں ہے:«مَنْ غَشَّ فلَيْسَ مِنَّا» ترجمہ:"جو شخص دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں"(ترمذی)۔
نوٹ: ہماری معلومات کے مطابق میا ں بیوی کے علاوہ کوئی تیسرا شخص نادرا آفس میں جھوٹا طلاق نامہ بنوا کر خود انگوٹھا لگا کر یا دستخط کرکے اسٹیٹس تبدیل نہیں کرواسکتا ۔
الدر المختار مع رد المحتار:
فصل في الفضولي... (هو) من يشتغل بما لا يعنيه فالقائل لمن يأمر بالمعروف: أنت فضولي يخشى عليه الكفر فتح. واصطلاحا (من يتصرف في حق غيره) بمنزلة الجنس (بغير إذن شرعي) فصل خرج به نحو وكيل ووصي (كل تصرف صدر منه) تمليكا كان كبيع وتزويج، وإسقاطا كطلاق وإعتاق (وله مجيز) أي لهذا التصرف من يقدر على إجازته (حال وقوعه انعقد موقوفا) وما لا يجيز له حالة العقد لا ينعقد أصلا.
(فصل في الفضولي،۵/۱۰۵،دار الفكر بيروت)
وفيه أيضا:
لَوْ أَقرَّ بِالطَّلَاقِ هَازِلًا أَوْ كَاذِبًا فقَالَ فِي الْبَحْرِ، وَإِنَّ مُرَادَهُ لِعَدَمِ الْوُقُوعِ فِي الْمُشَبَّهِ بِهِ عَدَمُهُ دِيَانَةً، ثُمَّ نقَلَ عَنْ الْبزَّازِيَّةِ وَالْقُنْيَةِ لَوْ أَرَادَ بِهِ الْخَبَرَ عَنْ الْمَاضِي كَذِبًا لَا يَقَعُ دِيَانَةً، وَإِنْ أَشْهَدَ قبْلَ ذَلِكَ لَا يقَعُ قَضَاءً أَيْضًا.
(مطلب في المسائل التي تصح مع الإكراه،۳/ ۲۳۸،دار الفكر بيروت)
البحر الرائق:
الاقرار بالطلاق كاذبا، وقدمنا أنه يقع قضاء لا ديانة.
(۳/۴۵۱،دار الكتب العلمية بيروت)
الدر المختار مع رد المحتار:
قال: أنت طالق أو أنت حر وعنى الإخبار كذبا وقع قضاء، إلا إذا أشهد على ذلك؛ وكذا المظلوم إذا أشهد عند استحلاف الظالم بالطلاق الثلاث أنه يحلف كاذبا صدق قضاء وديانة شرح وهبانية.
(۳/۲۹۳،دارالفکر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔