سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-802 Fatwa no: 1448-802

چند افراد کے باہمی تعاون سے امدادی کمیٹی بنانے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ہمارے خاندان کے درمیان ایک اتفاق و اتحاد ہوا ہے جس میں کل تیرہ گھر شامل ہیں یہ اتفاق خاندان کو یکجا اورمضبوط کرنے کے لئے ہوا ہے اس اتفاق نامہ میں مندرجہ ذیل باتوں پر اتفاق ہوا ہے ۔ 1) اس اتفاق نامہ میں جو شریک ہونگے ان میں اگر کسی پر کوئی مصیبت آجائے لڑائی کی شکل میں یا کسی اور وجہ سے اس میں جو نقصان ہوگا وہ سب مشترکہ طور ادا کریں گے۔ 2)خلاف ورزی کرنے کی صورت میں اس کو اتفاق نامہ سے باہر کیا جائے سکتا ہے اور اس کی رقم واپس نہیں کی جاتی اس سے تاوان بھی لیا جا سکتا ہے،اور اگر کوئی شخص اس اتفاق نامہ سے عذر کی وجہ سے یا بغیر عذر کےنکلنا چاہے،اس صورت میں بھی اس کو جمع شدہ رقم واپس نہیں ملتی ،بلکہ بعض دفعہ اس سے تاوان بھی لیا جاتا ہے۔ 3)اس اتفاق نامہ کے لئے ایک فنڈ مقرر کیا ہے جس گھر کے افراد مسافر(یعنی باہر کے ممالک میں ہوتے ہیں) ہیں ان کے ذمہ پانچ سو درہم لازم کئے کہ ہر ایک نے پانچ سو درہم اجتماعی فنڈ میں جمع کروانا لازمی ہے،تقریباً اکثر گھر والوں کے لوگ مسافر ہیں ۔ 4)تیرہ گھروں پر ہر مہینے ایک ہزار روپے لازم کیے ہیں جو اجتماعی فنڈ میں جمع ہونگے جو کسی حادثہ کی صورت میں استعمال کئے جائیں گے۔ یہ اتفاق نامہ شرکاء کی رضامندی سے ہوا ہے اور سب نے اتفا ق کے بعداتفاق نامہ پر دستخط بھی کئے ہیں ،جن افراد پر پانچ سو درہم لازم کئے تھےوہ جمع ہوگئے ہیں اور ہزار روپے بعض نے کل جمع کئے ہیں اور بعض کے ذمہ آدھے باقی ہیں۔ مندرجہ ذیل چیزوں سے متعلق فتوی درکار ہے۔ 1)ایسا اتفاق رضامندی کے ساتھ کرنا کیسا ہے؟ 2) جو پیسے فنڈ میں جمع ہوئے ہیں وہ اجتماعی ہیں اس کے لئے میزان بینک میں اکاؤنٹ کھولا ہے اب اس اجتماعی فنڈ کے پیسوں میں زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟ 3)اگر بینک زکوۃ کے پیسے خود لیتا ہوتو اس صورت میں ذمہ فارغ ہوگا یا نہیں؟ 4)اگر کسی پر حادثہ آجائے تو اس اجتماعی فنڈ جواس کام کے لئے بنایا گیا ہے نقصان ادا کرنا کیسا ہے؟ 5)فنڈ کے سربراہ اس میں ذاتی تصرف کر سکتا ہے یا نہیں ؟ یعنی اپنی ذاتی ضروریات میں بطور قرض استعمال کر سکتا ہے۔
جواب :

سوال میں  ذکرکردہ  اتفاق نامہ میں   جو اصول و ضوابط اور شرائط   طے کیے گئے ہیں ان میں   سے    بعض     شرائط خلاف ِشرع  ہونے کے ساتھ ساتھ دیگرمفاسد  پربھی مشتمل ہیں جوکہ مندرجہ ذیل ہیں ، جن  کی وجہ سے  مذکورہ  اتفاق نامہ درست نہیں ہے  ۔
(1) مذکورہ اتفاق نامہ سے معلوم  ہورہا ہے کہ ہر مہینے فنڈ دینا ہر ممبرپر لازم ہے ،جس کی وجہ سے بعض دفعہ فنڈ  دینے والافنڈ دینے پر مجبور ہوجاتا ہےیا خوشدلی کے بغیرشرما شرمی میں فنڈ دیتا ہے،جبکہ کسی مسلمان  سے جبراً یا شرماشرمی کی بنا ءپر اس کی دلی رضامندی کے بغیر رقم لینا جائز نہیں ہےاور اِس طریقے سے لی ہوئی رقم حلال نہیں ہوتی۔
(2)فنڈ کا ممبر  اگر کسی  عذرکی وجہ سے  اس اتفاق نامہ  سے نکلنا چاہے تو اس کا جمع شدہ رقم ناقابلِ واپسی  ہے ،اور بعض دفعہ چندہ نکلنے والے سے مزید تاوان بھی لیا جاتا ہےیہ تعزیربالمال ہے جوکہ  شرعاً     جائز نہیں ۔
(3)فنڈ کا ممبر اگر    کسی عذر کی وجہ سے ماہا نہ فنڈ  جمع نہ  کراس کی تو ماہانہ فنڈ کی رقم  اس پر قرض  ہوتی ہے،اور تاخیر کی وجہ سے اسے اس اتفاق نامہ سے نکالا بھی جا سکتا ہے اور بعض دفعہ تاوان بھی لیا جا سکتا ہے جو کہ شرعاً جائز نہیں  ہے۔
4) فنڈ   میں جمع ہو نے والی رقم مالک کی ملکیت میں باقی رہتی ہے اور اگر فنڈدینے والے کا انتقال ہوجائےاور اس وقت تک اس کی دی ہوئی رقم خرچ نہ ہوئی ہوتو یہ رقم اس کی میراث  میں شامل ہوگی اور اس پر میراث  کے احکام جاری  ہونگےاوراگر ورثاء میں کوئی نابالغ  ہوں تونابالغ کے حصہ کو مذکورہ کام میں خرچ کرنا کسی صورت جائز نہیں ۔
 5)چونکہ چندہ کی رقم پر فنڈدینے والے کی ملکیت باقی رہتی ہے،اِس لئے اس رقم پر زکوۃ کی ادائیگی بھی فنڈ دینے والے کےذمہ  ہوتی ہے،جبکہ عموماً  کوئی بھی اس کی زکوۃ ادا نہیں کرتا۔
مذکورہ سوالات کے جوابات  ترتیب واردرج ذیل ہیں۔
1): مذکورہ اتفاق نامہ مندرجہ بالا مفاسد کی وجہ سے درست نہیں،اگرچہ سب کی رضامندی  سےہو ۔
2):جو پیسے فنڈ میں جمع ہوتے ہیں وہ فنڈ دینے والے کی ملکیت میں ہوتے ہیں جس  کی زکوۃ بھی اسی پر لازم آئے گی نہ کہ اجتماعی فنڈ پر۔
3):بینک کے خود بخود اکاؤنٹ سے زکوۃ لینے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی ،کیونکہ اس میں چند خرابیاں ہیں ۔(1)  زکوۃ کی ادائیگی کے وقت نیت ضروری ہوتی ہے جو کہ اس صورت میں نہیں پائی جاتی۔(2) فنڈ دینے والوں میں سے کون صاحب نصاب ہےاور کون صاحب نصاب نہیں ہے اس بات کا بھی علم   بینک کونہیں ہوتا۔ 
5/4):چونکہ فنڈ جمع کرنے کا طریقہ شرعاً درست نہیں ہے اس لئے جمع شدہ تمام رقم شرکاء کو واپس کرنا ضروری ہے۔
كما في المعجم الكبير للطبراني:
عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ إِلَّا شَرْطًا حَرَّمَ حَلَالًا، وَأَحَلَّ حَرَامًا، وَالصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ النَّاسِ، إِلَّا صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلَالًا»
(ج:17،ص:22،ط:القاهرة)
في السنن الكبري للبيهقي:
عَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ عَمِّهِ , أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ مَالُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ لِأَخِيهِ , إِلَّا مَا أَعْطَاهُ بِطِيبِ نَفْسِهِ ".
(ج:8،ص:316،ط:لبنان)
وفي أيضا:
وأما شرط أدائها فنية مقارنة للأداء أو لعزل ما وجب هكذا في الكنز.
(كتاب الزكاة،ج:1،ص:170،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026