نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںسوال میں ذکرکردہ اتفاق نامہ میں جو اصول و ضوابط اور شرائط طے کیے گئے ہیں ان میں سے بعض شرائط خلاف ِشرع ہونے کے ساتھ ساتھ دیگرمفاسد پربھی مشتمل ہیں جوکہ مندرجہ ذیل ہیں ، جن کی وجہ سے مذکورہ اتفاق نامہ درست نہیں ہے ۔
(1) مذکورہ اتفاق نامہ سے معلوم ہورہا ہے کہ ہر مہینے فنڈ دینا ہر ممبرپر لازم ہے ،جس کی وجہ سے بعض دفعہ فنڈ دینے والافنڈ دینے پر مجبور ہوجاتا ہےیا خوشدلی کے بغیرشرما شرمی میں فنڈ دیتا ہے،جبکہ کسی مسلمان سے جبراً یا شرماشرمی کی بنا ءپر اس کی دلی رضامندی کے بغیر رقم لینا جائز نہیں ہےاور اِس طریقے سے لی ہوئی رقم حلال نہیں ہوتی۔
(2)فنڈ کا ممبر اگر کسی عذرکی وجہ سے اس اتفاق نامہ سے نکلنا چاہے تو اس کا جمع شدہ رقم ناقابلِ واپسی ہے ،اور بعض دفعہ چندہ نکلنے والے سے مزید تاوان بھی لیا جاتا ہےیہ تعزیربالمال ہے جوکہ شرعاً جائز نہیں ۔
(3)فنڈ کا ممبر اگر کسی عذر کی وجہ سے ماہا نہ فنڈ جمع نہ کراس کی تو ماہانہ فنڈ کی رقم اس پر قرض ہوتی ہے،اور تاخیر کی وجہ سے اسے اس اتفاق نامہ سے نکالا بھی جا سکتا ہے اور بعض دفعہ تاوان بھی لیا جا سکتا ہے جو کہ شرعاً جائز نہیں ہے۔
4) فنڈ میں جمع ہو نے والی رقم مالک کی ملکیت میں باقی رہتی ہے اور اگر فنڈدینے والے کا انتقال ہوجائےاور اس وقت تک اس کی دی ہوئی رقم خرچ نہ ہوئی ہوتو یہ رقم اس کی میراث میں شامل ہوگی اور اس پر میراث کے احکام جاری ہونگےاوراگر ورثاء میں کوئی نابالغ ہوں تونابالغ کے حصہ کو مذکورہ کام میں خرچ کرنا کسی صورت جائز نہیں ۔
5)چونکہ چندہ کی رقم پر فنڈدینے والے کی ملکیت باقی رہتی ہے،اِس لئے اس رقم پر زکوۃ کی ادائیگی بھی فنڈ دینے والے کےذمہ ہوتی ہے،جبکہ عموماً کوئی بھی اس کی زکوۃ ادا نہیں کرتا۔
مذکورہ سوالات کے جوابات ترتیب واردرج ذیل ہیں۔
1): مذکورہ اتفاق نامہ مندرجہ بالا مفاسد کی وجہ سے درست نہیں،اگرچہ سب کی رضامندی سےہو ۔
2):جو پیسے فنڈ میں جمع ہوتے ہیں وہ فنڈ دینے والے کی ملکیت میں ہوتے ہیں جس کی زکوۃ بھی اسی پر لازم آئے گی نہ کہ اجتماعی فنڈ پر۔
3):بینک کے خود بخود اکاؤنٹ سے زکوۃ لینے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی ،کیونکہ اس میں چند خرابیاں ہیں ۔(1) زکوۃ کی ادائیگی کے وقت نیت ضروری ہوتی ہے جو کہ اس صورت میں نہیں پائی جاتی۔(2) فنڈ دینے والوں میں سے کون صاحب نصاب ہےاور کون صاحب نصاب نہیں ہے اس بات کا بھی علم بینک کونہیں ہوتا۔
5/4):چونکہ فنڈ جمع کرنے کا طریقہ شرعاً درست نہیں ہے اس لئے جمع شدہ تمام رقم شرکاء کو واپس کرنا ضروری ہے۔
كما في المعجم الكبير للطبراني:
عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ إِلَّا شَرْطًا حَرَّمَ حَلَالًا، وَأَحَلَّ حَرَامًا، وَالصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ النَّاسِ، إِلَّا صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلَالًا»
(ج:17،ص:22،ط:القاهرة)
في السنن الكبري للبيهقي:
عَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ عَمِّهِ , أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ مَالُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ لِأَخِيهِ , إِلَّا مَا أَعْطَاهُ بِطِيبِ نَفْسِهِ ".
(ج:8،ص:316،ط:لبنان)
وفي أيضا:
وأما شرط أدائها فنية مقارنة للأداء أو لعزل ما وجب هكذا في الكنز.
(كتاب الزكاة،ج:1،ص:170،ط:دارالفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔