سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-805 Fatwa no: 1448-805

حکومتی معاوضے میں لائسنس ہولڈر اور کاروبار کرنے والوں کے حق کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نےملائیشیامیں شادی کی وہاں کے قانون کے مطابق دکان کھولنے کی اجازت صرف وہاں کےان رہائشی لوگوں کو ہوتی ہے جن کو حکومت لائنسس دیتی ہے اس کے ٹیکسز ادا کرنے پڑتے ہیں مدت ختم ہونےپر اس کی تجدید پر فیس بھی جمع کرنی ہوتی ہے،جس آدمی نے وہاں شادی کی ہےاس کی بیوی چونکہ وہاں کی رہائشی ہے،تو اس کی بیوی نے لائنسس اپنے نام سے بنوایا ہے،پھر اس آدمی نے اپنے کچھ رشتہ داروں سے کہاکہ اگر آپ کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو اپنا لائنسس دیتے ہیں تاکہ آپ اس سےاپنے لیےدکان میں کاروبار کریں ،جس کی باقاعدہ حکومت کی طرف سے اجازت ہوتی ہے کہ اگرکوئی اپنا لائنسس کسی کو کاروبار کے لیے دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں لیکن اس کی ساری ذمہ داریاں حکومتی مسائل وغیرہ لائنسس بنانے والے کے ذمہ ہوتی ہیں ،اس آدمی نے بطور احسان اپنے رشتہ داروں کو اپنے لائنسس سے دکان کھول کر ان کو کاروبار شروع کروایا،تقریبا پندرہ سال تک وہ کاروبار کرتے رہےاور صرف لائنسس کی تجدید کی فیس ادا کرتے رہے باقی ساری ذمہ داریاں اس عورت کے ذمہ تھیں جس کے نام سے لائنسس بنا تھا ،پندرہ سال بعد اس دکان کی جگہ روڈکی تعمیر شروع ہوگئی جن لوگوں کی دکانیں اس روڈ میں آئیں ان کو حکومت نے زمین کے پیسے دیئے ان میں ان کی دکان بھی تھی جن کے پیسے دکان کے مالک نے وصول کر لیے ،پھر لائنسس والے آدمی نے اپنے رشتہ داروں کو دوسری جگہ اسی لائنسس سے دکانیں بنا کر کاروبار شروع کروایا ،کچھ مدت بعد حکومت نے ان لوگوں کے نام جن کاان دکانوں میں کاروبارتھاکچھ پیسےلائنسس ہولڈرکےاکاؤنٹ میں بھیجےکہ ان کے کاروبار پر اثر پڑا ہوگا،لیکن یادرہےکہ یہ پیسے صرف لائنسس ہولڈرکے اکاؤنٹ میں آتے ہیں(یعنی اس عورت کے اکاؤنٹ میں حکومت کی طرف سے ٹرانسفرہوئے ہیں) ۔ اب سوال یہ ہے کہ ان پیسوں میں کاروبار والوں کا حق ہے یا لائنسس ہولڈر اس عورت کا حق ہے؟
جواب :

صورت مسئولہ میں اگر واقعتاحکومت کی طرف سےدوبارہ جاری کردہ رقم کاروبار والوں کے لیے تھی تو پھر اس صورت میں یہ رقم   کاروبا رکرنے والوں کی ہوگی ،لائنسس کے مالک کا شرعااس میں کوئی حق نہیں ہے،البتہ  اگران پیسو ں کی وصولیابی اور اس کےسنبھالنےپر مالک  کا(کاغذی یا قانونی کاروائی پر)کچھ خرچہ ہوا ہو تو وہ اس کی بقدر ان پیسوں  میں سے اپنے لیے رکھ سکتا ہے۔
كما في سنن ابي دؤد:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَا يَأْخُذَنَّ أَحَدُكُمْ مَتَاعَ أَخِيهِ لَاعِبًا، وَلَا جَادًّا» وَقَالَ سُلَيْمَانُ: «لَعِبًا وَلَا جِدًّا» وَمَنْ أَخَذَ عَصَا أَخِيهِ فَلْيَرُدَّهَا "
(ج:٤،ص:٣٠١،ط:دارالفکر)
وفي مجلة الاحكام العدلية:
الْمَادَّةُ 97) : لَا يَجُوزُ لِأَحَدٍ أَنْ يَأْخُذَ مَالَ أَحَدٍ بِلَا سَبَبٍ شَرْعِيٍّ.
(ج:١،ص:٢٧،ط:كراتشي)
وفي درر الحكام في شرح مجلة الأحكام:
لَا يَجُوزُ لِأَحَدٍ أَنْ يَأْخُذَ مَالَ أَحَدٍ بِلَا سَبَبٍ شَرْعِيٍّ هَذِهِ الْقَاعِدَةُ مَأْخُوذَةٌ مِنْ الْمَجَامِعِ وَقَدْ وَرَدَ فِي الْحَدِيثِ الشَّرِيفِ «لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَأْخُذَ مَتَاعَ أَخِيهِ لَاعِبًا وَلَا جَادًّا فَإِنْ أَخَذَهُ فَلْيَرُدَّهُ» فَإِذَا أَخَذَ أَحَدٌ مَالَ الْآخَرِ بِدُونِ قَصْدِ السَّرِقَةِ هَازِلًا مَعَهُ أَوْ مُخْتَبِرًا مَبْلَغَ غَضَبِهِ فَيَكُونُ قَدْ ارْتَكَبَ الْفِعْلَ الْمُحَرَّمَ شَرْعًا؛
(ج:١،ص:٩٨،ط:دار الجيل)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026