نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی اپنے بچوں سمیت قطر میں رہتا ہے ،وہ ایک کمپنی میں کام کرتا ہے،کمپنی سال میں اس آدمی کو اس کی اور اس کے بچوں کی پاکستان کی ٹکٹ مفت فراہم کرتی ہے، چاہے وہ پاکستان آئے یا نہ آئے کمپنی ان کو ٹکٹ کی رقم دیتی ہے تو کیا بچوں کےٹکٹ کے پیسے وہ خود استعمال کرسکتاہے یا اس سے کاروبار چلاسکتاہے یا بچوں کی تعلیم ،صحت ،اور کھانے پینے میں خرچ کرسکتا ہے یا نہیں ؟
بصورت مسؤلہ چونکہ کمپنی پاکستان آنے کی صورت میں ملازم کو ٹکٹ اور نہ آنے کی صورت میں ٹکٹ کی رقم فراہم کرتی ہے ،اس لئے بظاہر یہ سہولت اور رقم تنخواہ کا حصہ ہے جو ملازم کی ملکیت ہے ،لہذا وہ اس میں ہر قسم کا جائز تصرف کرسکتا ہے۔
القرآن الکريم:
{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا (29)} [النساء: 29]
القرآن الکريم:
{وعلى المولود له رزقهن وكسوتهن بالمعروف}
[البقرة: ۲۳۳].
الفتاوى الهندية:
وأما ركنها فقول الواهب: وهبت؛ لأنه تمليك وإنما يتم بالمالك وحده، والقبول شرط ثبوت الملك للموهوب له حتى لو حلف أن لا يهب فوهب ولم يقبل الآخر حنث، كذا في محيط السرخسي.
(الباب الأول:تفسير الهبة،۴/ ۳۷۴،دار الفكر)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
وأما قرابة الولاد فينظر إن كان المنفق هو الأب؛ فلا يشترط يساره لوجوب النفقة عليه بل قدرته على الكسب كافية حتى تجب عليه النفقة على أولاده الصغار والكبار الذكور الزمنى الفقراء والإناث الفقيرات وإن كن صحيحات وإن كان معسرا بعد أن كان قادرا على الكسب؛ لأن الإنفاق عليهم عند حاجتهم وعجزهم عن الكسب إحياؤهم وإحياؤهم إحياء نفسه؛ لقيام الجزئية والعصبية وإحياء نفسه واجب
(فصل في شرائط وجوب هذه النفقه،۴/ ۳۵دار الكتب العلمية)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔