سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-84 Fatwa no: 1447-84

کھلے کمرے میں میاں بیوی کے اکیلے ہونے کی صورت میں خلوتِ صحیحہ کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: اگر کوئی شخص کسی لڑکی سے نکاح کرلے ،پھر اس کے ساتھ معانقہ کرے ،اور بوسہ وغیرہ لے اور اکھٹے ایک بستر پر لیٹے، مگر حال یہ ہو کہ اس کا کمرہ کھلا ہوا ہو اور ساتھ ہی باہر چارپائی یا کسی بھی چیز پر کوئی بڑا آدمی یا عورت وغیرہ ہو ،تو کیا یہ خلوت صحیحہ یا دخول کا قائم مقام ہوگا ؟ نیز اگر باہر شخص لیٹا ہوا ہو تو پھر کیا حکم ہوگا ؟ وضاحت فرمائیں ۔
جواب :

واضح رہے کہ بغیر کسی حسی اور طبعی رکاوٹ کے شوہر اور بیوی کا ایک کمرہ میں ایک دوسرے کیساتھ ملنا خلوت صحیحہ کہلاتی ہے،بصورت دیگر خلوت صحیحہ نہ ہوگی ،لہذا صورت مسئولہ میں طبعی رکاوٹ اور مانع ( کمرے کا دروازہ کھلا ہونا اور باہر کسی عاقل مرد یا عورت کی موجودگی اگر چہ وہ لیٹا ہوا ہو )کی وجہ سے شوہر اور بیوی کا ایک کمرے میں ملنا خلوت صحیحہ نہیں ہے ۔
كما في ردالمحتار على الدرالمختار:
(وَالْخَلْوَةُ) مُبْتَدَأٌ خَبَرُهُ قَوْلُهُ الْآتِي كَالْوَطْءِ (بِلَا مَانِعٍ حِسِّيٍّ) كَمَرَضٍ لِأَحَدِهِمَا يَمْنَعُ الْوَطْءَ (وَطَبْعِيٍّ) كَوُجُودِ ثَالِثٍ عَاقِلٍ ذَكَرَهُ ابْنُ الْكَمَالِ..... وَبِلَا (وُجُودِ ثَالِثٍ مَعَهُمَا) وَلَوْ نَائِمًا أَوْ أَعْمَى......وبقي منه عَدَمُ صَلَاحِيَةِ الْمَكَانِ كَمَسْجِدٍ وَطَرِيقٍ وَحَمَّامٍ وَصَحْرَاءَ وَسَطْحِ وَبَيْتٍ بَابُهُ مَفْتُوحٌ، وَمَا إذَا لَمْ يَعْرِفْهَا.
(قَوْلُهُ وَلَوْ نَائِمًا أَوْ أَعْمَى) لِأَنَّ الْأَعْمَى يُحِسُّ، وَالنَّائِمُ يَسْتَيْقِظُ وَيَتَنَاوَمُ فَتْحٌ.
(قَوْلُهُ وَبَيْتٍ بَابُهُ مَفْتُوحٌ) أَيْ بِحَيْثُ لَوْ نَظَرَ إنْسَانٌ رَآهُمَا، وَفِيهِ خِلَافٌ.فَفِي مَجْمُوعِ النَّوَازِلِ: إنْ كَانَ لَا يَدْخُلُ عَلَيْهِمَا أَحَدٌ إلَّا بِإِذْنٍ فَهِيَ خَلْوَةٌ. وَاخْتَارَ فِي الذَّخِيرَةِ أَنَّهُ مَانِعٌ وَهُوَ الظَّاهِرُ بَحْرٌ. وَوَجْهُهُ أَنَّ إمْكَانَ النَّظَرِ مَانِعٌ بِلَا تَوَقُّفٍ عَلَى الدُّخُولِ، فَلَا فَائِدَةَ فِي الْإِذْنِ وَعَدَمِهِ.
(مطلب:في أحكام الخلوة،ج4،ص244،ط:رحمانية)
وفى الفتاوى الهندية:
ولو كان معهما نائم أو أعمى لا تصح الخلوة....... وفي البيوتات الثلاثة أو الأربعة واحد بعد واحد إذا خلا بامرأته في البيت القصوى إن كانت الأبواب مفتوحة من أراد أن يدخل عليهما من غير استئذان لا تصح الخلوة وكذا لو خلا بها في بيت من دار وللبيت باب مفتوح في الدار إذا أراد أن يدخل عليهما غيرهما من المحارم أو الأجانب يدخل؛ لا تصح الخلوة، كذا في فتاوى قاضي خان.
(كتاب النكاح،ج2،ص84،ط:رشيدية)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب