سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-806 Fatwa no: 1448-806

بیوی کے پاس موجود گھر خرچ کی رقم اور سونے پر زکوٰۃ کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :خاوند بیوی کو گھر خرچ کے لئےرقم دیتا ہے اس میں سے کچھ رقم بیوی کے پاس موجود رہے اور کچھ سونا بھی ہے تو کیا اس عورت پر زکوۃ واجب ہوگی؟
جواب :

صورت مسئولہ میں اگر خاوند نےبیوی  کو گھریلو خرچ کے لیے رقم بطور ملک دی ہے تو بیوی اس رقم کی مالک ہے،لہذا اگر خرچ ہونےکے بعد بیوی کے پاس کچھ پیسے موجود ہوں اورساتھ کچھ سونا بھی ہو تو سال گزرنے کے بعدبیوی کے پاس موجود رقم کو سونے کی قیمت کےساتھ ملایاجائے گااگر قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچتی ہے تو بیوی پر زکوۃ واجب ہوگی،اوراگر خاوند نے بطور ملک نہیں بلکہ بطور گھریلو خرچہ دی ہےتواس صورت میں بیوی پرزکوۃ واجب نہیں ہوگی ۔
كمافی الهداية:
الزكوة واجبة علی الحر العاقل البالغ اذا ملك نصابا ملکا تاما وحال عليه الحول...الخ
(كتاب الزكوة،ج:1،ص:200، ط:مکتبه الحسن)
وفي متن بداية المبتدي:
فصل في الذهب ليس فيما دون عشرين مثقالا من الذهب صدقة فإذا كانت عشرين مثقالا ففيها نصف مثقال ثم في كل أربعة مثاقيل قيراطان وليس فيما دون أربعة مثاقيل صدقة وفي تبر الذهب والفضة وحليهما وأوانيهما الزكاة.
(ج:١،ص:٣٤،ط:القاهرة)
وفي البناية شرح الهداية:
وتضم قيمة العروض إلى الذهب والفضة حتى يتم النصاب " لأن الوجوب في الكل باعتبار التجارة وإن افترقت جهة الإعداد " ويضم الذهب إلى الفضة " للمجانسة من حيث الثمنية ومن هذا الوجه صار سببا ثم يضم بالقيمة عند أبي حنيفة رحمه الله وعندهما بالأجزاء وهو رواية عنه.
(ج:2،ص:364،ط: دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026