سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-807 Fatwa no: 1448-807

دادا کا بیٹیوں کو جائیداد میں شرعی حصہ نہ دینا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ میرے دادا نے اپنی زندگی میں صرف بیٹوں کو جائیداد میں سے حصہ دیا تھا بیٹیوں کو حصہ نہیں دیا،اب دادا کے بیٹے اور بیٹیاں فوت ہوچکی ہیں ،لیکن اس کے پوتے اپنی پھوپھیوں کو حصہ دینا چاہتے ہیں ،اس کا کیا طریقہ ہوگا؟
جواب :

صورت مسئولہ میں دادا  کا  اپنی زندگی میں ساری جائیداد  صرف اپنےبیٹوں میں تقسیم کرنا اور بیٹیوں کو محروم کرنا  شرعاًجائز نہیں تھا،اس طرح جائیداد تقسیم کرنے سے  دادا  گناہ کا مرتکب ہوچکاہے،لیکن اس کے باوجود اگر دادانے اپنی زندگی میں جائیداد  کا مکمل قبضہ اور تصرف کا اختیار  بیٹوں کو دےدیا تھا تو بیٹے اس کے مالک بن چکےہیں،اوراب دادا کی وفات کے بعد اس جائیدادمیں وراثت جاری نہیں ہوگی۔
لیکن اگر پوتے اپنی مرحوم پھوپھیوں کی اولاد کو اولاد کی میراث میں سے ان کا شرعی حصہ دیدیں تو امید ہے کہ دادا کا ذمہ بری ہوجائے گا،اس کا طریقہ یہ ہے کہ پھوپھیوں کا جو حصہ دادا کی میراث میں بنتا ہے وہ ان کی اولاد کے سپرد کردیں ۔
كما في قوله تعالي:
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثيَيْن...الخ 
(النساء،١١:٤)
وفي صحيح البخاري:
عن ابنِ عباس رضيَ الله عنهما قالَ: كانَ المالُ للوَلَدِ، وكانَتِ الوصيةُ للوالِدَيْنِ، فنَسَخَ الله من ذلك ما أحب، فجَعَل للذكَرِ مثلَ حَظ الأنثَيَيْنِ، وجعَلَ للأبوينِ لكل واحدٍ منهما السدُسَ، وجَعَلَ للمرأةِ الثمنَ والرْبعَ، وللزوجِ الشًطْرَ والربعَ.
(ج:٢،ص:٢٤٥،ط:الرياض)
وفي السراجي:
احوال بنات الصلب احوال البنت: واما لبنات الصلب فاحوال ثلاث:النصف للواحدة، والثلثان للاثنتين فصاعدة، ومع الابن للذكر مثل حظ الانثيين وهو يعصبهن.
(احوال البنات،ص:١٨،ط:عشره مبشره)
وفي الفقه الإسلامی:
يرث الحمل (الولد في بطن أمه) بأن يوقف له نصيب معين عند الجمهور غير المالكية بشرطين أن يثبت وجوده حياً عند موت مورثه.
(ج:10،ص:7881،ط:دار الفكر)
وفي ردالمختار:
ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم.
(كتاب الهبة،ج:٥،ص:٦٩٦،ط:دارالفكر)
وفي لسان الحكام:
وَلَو وهب جَمِيع مَاله من ابْنه جَازَ وَهُوَ آثم نَص عَلَيْهِ مُحَمَّد رَحمَه الله تعَالَى.
(ج:١،ص:٣٧١،ط:القاهرة)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026