سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-809 Fatwa no: 1448-809

درمیان سال میں مدرسہ چھوڑنے پر باقی مہینوں کی فیس کے مطالبہ کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل بعض مدارس والے سال کے شروع میں بچے کے پوری سال کی فیس وصول کرتے ہیں اگر کسی عذر کی وجہ سے بچہ درمیان سال میں مدرسہ چھوڑ دے تو کیا والدین کے لئے باقی مہینوں کی فیس کی واپسی کا مطالبہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب :

جو   مدارس  والے سال کے شروع میں پورے سال کی  فیس لیتے ہیں اور ساتھ یہ شرط  بھی لگاتے ہیں  کہ اگر سال کے درمیان  بچہ کسی عذر کی وجہ سے مدرسہ چھوڑے  گاتو  باقی مہینوں کی فیس واپس نہیں کی جائےگی تب والدین کے لئے باقی مہینوں کی  فیس  واپس کرنے کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ،تاہم اگر ایسی شرط نہ لگائی جائے  تو  عرف کا اعتبار ہوگا اگر عرف  باقی فیس واپس لینے کا  ہوتو والدین باقی مہینوں کی فیس واپس کرنے کامطالبہ کر سکتے ہیں                 ورنہ نہیں ۔
كما في سنن الدارقطني:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:  «الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ , وَالصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ».
(كتاب البيوع،ج:3 ،ص:426 ،ط:مؤسسة الرسالة، بيروت)
وفی توضيح الأفكار:
وراجعت الترمذي...... عمرو بن عوف المزني عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال الصلح جائز بين المسلين إلا صلحا حرما حلالا أو أحل حراما والمسلمون عند شروطهم إلا شرطا حرم حلالا أو أحل حراما.
(ج:1،ص:174،ط: المكتبة السلفية - المدينة المنورة)
وفي شرح القواعد الفقهية:
" الْمَعْرُوف عرفا كالمشروط شرطا "
(ص:237،ط:دار القلم)
وفي شرح القواعد الفقهية:
الْمَعْرُوفَ كَالْمَشْرُوطِ
(ج:1،ص:609،ط:دار القلم)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026