نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںجو مدارس والے سال کے شروع میں پورے سال کی فیس لیتے ہیں اور ساتھ یہ شرط بھی لگاتے ہیں کہ اگر سال کے درمیان بچہ کسی عذر کی وجہ سے مدرسہ چھوڑے گاتو باقی مہینوں کی فیس واپس نہیں کی جائےگی تب والدین کے لئے باقی مہینوں کی فیس واپس کرنے کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ،تاہم اگر ایسی شرط نہ لگائی جائے تو عرف کا اعتبار ہوگا اگر عرف باقی فیس واپس لینے کا ہوتو والدین باقی مہینوں کی فیس واپس کرنے کامطالبہ کر سکتے ہیں ورنہ نہیں ۔
كما في سنن الدارقطني:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ , وَالصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ».
(كتاب البيوع،ج:3 ،ص:426 ،ط:مؤسسة الرسالة، بيروت)
وفی توضيح الأفكار:
وراجعت الترمذي...... عمرو بن عوف المزني عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال الصلح جائز بين المسلين إلا صلحا حرما حلالا أو أحل حراما والمسلمون عند شروطهم إلا شرطا حرم حلالا أو أحل حراما.
(ج:1،ص:174،ط: المكتبة السلفية - المدينة المنورة)
وفي شرح القواعد الفقهية:
" الْمَعْرُوف عرفا كالمشروط شرطا "
(ص:237،ط:دار القلم)
وفي شرح القواعد الفقهية:
الْمَعْرُوفَ كَالْمَشْرُوطِ
(ج:1،ص:609،ط:دار القلم)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔